بھٹو عہد ساز، کرشماتی شخصیت!

بھٹو عہد ساز، کرشماتی شخصیت!
بھٹو عہد ساز، کرشماتی شخصیت!

  


پیپلزپارٹی کی تاحیات چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید)کی برسی کو ابھی دن ہی کتنے گزرے کہ ان کے والد اور پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کا یوم پیدائش آ گیا یوں جیالوں کے لئے لہو گرم رکھنے کا ایک اور موقع آ گیا۔ اس بار پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تقریبات کے لئے ڈرائنگ روموں سے باہر نکلنے کی ہدائت کی اور کہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ اجتماعات در انصاف پر کئے جائیں، کچہریوں اور عدالتوں کے باہر تقریبات منعقد کریں۔ وہ خود بھی آج (5جنوری) لاہور میں ہوں گے اور ہائی کورٹ کے شہدا ہال میں پیپلزپارٹی لائرز فورم کی طرف سے سالگرہ کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ کیک تو بہرحال ہو گا بلاول کا خطاب بھی ہو گا۔

ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو دونوں ہی تاریخ ساز شخصیات تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت زیادہ کرشمہ ساز تھی، وہ تھوڑے ہی عرصہ میں نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے مقبول رہنما بن گئے، ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو کو جہاں اسلامی ممالک میں سے پاکستان کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ وہاں ان کی جدوجہد، شخصیت اور شہادت نے بھی انمٹ نقوش چھوڑے، ان سے پہلے یہی فسوں ذوالفقار علی بھٹو کا بھی تھا۔ بلاشبہ بھٹو ایک زیرک اور باشعور رہنما تھے۔

جب وہ ایوب کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے آئے تو اس وقت کی نوجوان نسل کو فوراً ہی متوجہ کر لیا وہ بہت خوش لباس تھے اور اس دور میں جو فیشن تھا اس کے مطابق ہی انہوں نے کپڑے بھی زیب تن کئے اور ٹیڈی پتلون نے متوجہ کیا نوجوان بھی اس طرف چل پڑے ۔

پھر انہی ذوالفقار علی بھٹو نے وزیر خارجہ کی حیثیت سے شہرت پائی۔ کشمیر کے لئے ہزار سال لڑنے کی بات کی اور پھر معاہدہ تاشقند کے بعد ایوب خان سے الگ ہوئے تو بھی تھوڑے عرصہ میں خود اپنی جماعت بنا لی اور دیکھتے ہی دیکھتے مقبول بھی ہو گئے وہ انسانی نفسیات سے بھی واقف تھے اور ان کی جماعت ایک ترقی پسند ، لبرل جماعت کے طور پر سامنے آئی اور محروم طبقات کو بھی متوجہ کیا کہ اس دور تک جو بھی سیاست ہوئی وہ اپنے ظاہر میں جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ تھی جبکہ بھٹو کو جو دانشور ملے وہ ترقی پسند تھے اور اسی لحاظ سے پارٹی کے پہلے منشور اور پروگرام کے چار نکات، چار نعروں میں سوشلزم ہماری معیشت ہے شامل تھے۔ یہ نعرہ بعد میں مولانا کوثر نیازی اور محمدحنیف رامے کے حوالے سے اسلامی سوشلزم اور پھر مساوات محمدی تک پہنچا تھا، پیپلزپارٹی کا 70ء والا منشور آج بھی ایک ترقی پسندانہ اور مڈل کلاس کے لئے مسائل کے حل کا نسخہ ہے،(اس پر پوری طرح عمل نہ ہوا)

ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی باری باری یاد آتے ہیں اور آج کے دور میں تو ان کے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کو ان جیسے رہنما کی ضرورت ہے۔ آج کے معروضی حالات اور 70-71ء کے حالات میں بہت زیادہ فرق نہیں، 1971ء کے آخری مہینے میں تو ایک پاکستان کے دو ملک بنے اور مشرقی حصہ جدا ہو کر بنگلہ دیش بن گیا۔

اس سلسلے میں بہت کچھ کہا اور لکھا جا چکا، بھٹو کے پروانے اور جیالے آج بھی بہت ہیں تو ان سے اختلاف رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں، جب 16دسمبر آتا ہے تو بندوقوں، توپوں کے رخ (مرحوم) کی طرف ہو جاتے اور زبردست گولہ باری شروع ہو جاتی ہے، تاہم ذوالفقار علی بھٹو کی شخصیت اور ان کے کارناموں کو بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے جھکنے کی بجائے تختہ دار پر چڑھ کر موت کو گلے لگانا قبول کر لیا تھا۔ آج بھی ان سے اختلاف کرنے والوں کی کمی نہیں، لیکن ان کے پروانے پھر بھی زیادہ ہی ہیں۔

آج نئے پاکستان کی بات ہو رہی ہے۔وزیراعظم عمران خان کا مرکزی نعرہ تبدیلی اور نیا پاکستان ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ تو نیا پاکستان کہہ کر پہلے سے موجودہ پاکستان کو بہتر بنانے کے دعویدار ہیں، جبکہ ذوالفقار علی بھٹو نے تو ٹوٹے پاکستان کی باگ ڈور سنبھالی اور اسے پھر سے ایک نیا پاکستان بنا کر دکھا دیا جو معاشی طور پر بھی اپنے جیسے ممالک میں ممتاز حیثیت کا حامل ہو گیا اور پھر انہوں نے ایٹمی صلاحیت کے حصول کا سلسلہ شروع کیا اور اس کی بنیاد بھی رکھ دی تھی۔کہنے والے بھٹو کو کچھ بھی کہتے رہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ انہوں نے ملک کو پھر سے سنبھالا دیا تھا اور معیشت کو بھی بہت بہتر کر لیا تھا اور نیا پاکستان بنا ہی لیا تھا۔

ذوالفقار علی بھٹو کو بھی عدم استحکام کا مسئلہ درپیش تھا مگر انہوں نے کسی پس و پیش اور غم و غصہ کی بجائے اطمینان سے کام لیا اور ملک کو دنیا کے نقشے پر پھر سے پاکستان، پاکستان بنا کر درج کرا دیا۔ذوالفقار علی بھٹو کا ایک یہ کارنامہ ہی تاریخ میں مندرج ہو کر ان کے ساتھ منسلک ہو چکا کہ نہ صرف 94ہزار جنگی قیدی واپس لئے بلکہ اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کرکے افرادی قوت برآمدگی اور ملک کو پیداواری مقاصد کے لئے پیش کر دیا اور ترقی بھی ہوئی۔

ان کے مخالف بہت کچھ کہتے ہیں، لیکن آج بھی یہ مانتے ہیں کہ موجودہ حالات میں بھٹو ہوتے تو صورت حال مختلف ہوتی۔بھٹو پر بہت کچھ لکھا جا چکا، ابھی حال ہی میں ان حضرات نے جو بھٹو کی کرشمہ ساز شخصیت کے مخالف رہے اور نظریاتی مخالفت گردانتے ہیں، پھر لکھا ہے اور بھٹو کو سانحہ مشرقی پاکستان کے سانحہ کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

یہ لمبی بحث ہے کبھی وقت ملا تو یہ بھی کر لیں گے لیکن آج کے دور میں تعلیم سے زیادہ تو کوئی عمل بہتر نہیں۔ اس لئے اس طرف توجہ دیں۔ بھٹو تو یاد آتے ہی رہیں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...