امریکی جنگ کے 17سال اور افغان امن مذاکرات کا مستقبل(2)

امریکی جنگ کے 17سال اور افغان امن مذاکرات کا مستقبل(2)
امریکی جنگ کے 17سال اور افغان امن مذاکرات کا مستقبل(2)

  


اکتوبر 2001: امریکہ نے افغانستان پر باقاعدہ حملے کا آغاز کیا حملے کا آغازامریکی فضائیہ کے طالبان اور القاعدہ کے ٹھکانوں پر بمباری سے ہوا۔ کم از کم ایک ہزار امریکی سیاہ بشمول سی آئی اے ایجنٹس ان حملوں میں فضائیہ کے معاون تھے ان حملوں کا مقصد یہ تھا کہ شمالی اتحادی حملہ آوروں کے لئے آسانیا ں پیدا کے جائیں شمالی اتحادی جنگجو امریکی فضائی حملوں کے ساتھ، امریکی سپاہ کی رہنمائی میں پیش قدمی کرنے لگے ۔

قندہار میں 1300میرینز طالبان پر دباؤ بڑھانے میں مصروف رہے لیکن امر یکی ،طالبان کے ساتھ براہِ راست مقابلے سے اجتناب کرتے رہے۔ 9نومبر 2001ء میں مزار شریف طالبان کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ جنوبی اور مشرقی افغانستان پر پشتون لیڈر حامد کرزئی قابض ہو گئے 9دسمبر 2001ئتک سارا افغانستان طالبان کے ہاتھوں سے نکل گیا جب طالبان کے امیر ،طالبان سمیت قندہار سے فرار ہو گئے اور قندہار قبائلی قوانین کے تحت آگیا۔اس طرح پورے افغانستان پر امر یکی فوجی قبضہ ہوگیا ۔ شمالی اتحادی ان کا ہراول تھے۔

ملا عمر کے قندہار سے فرار کے بعد 9دسمبر 2001میں عملاََطالبان کا دورِحکومت ختم ہو گیا مارچ 2002 میں امریکیوں نے صوبہ پکتیا میں طالبان کے خلاف آپریشن شروع کیا مئی 2003ء میں امریکی قیادت نے افغانستان میں بڑے جنگی آپریشن کے خاتمے کا اعلان کیا۔کیونکہ شمالی اتحاد کے حملہ آورجنگجو اور امریکی فوجی جہاں بھی حملہ آ ور ہوئے انہیں مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔امریکی طیارے افغان فضاؤ ں میں اڑتے پھرے بمباری کرتے رہے۔

آگ و آہن اگلتے رہے زمین پر قیامت صغریٰ برپا رہی ۔ طالبان بغیر مقابلہ یا مزاحمت کئے پسپا ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ حملہ آور افغانستان پر قابض ہوتے چلے گئے 2003ئمیں جب امریکی حکام نے افغانستان میں بڑے آپریشن کے خاتمے کا اعلان کیا تو امریکی صدر بش نے کہا ’’چوہے بلوِں میں چھپ گئے ہیں ‘‘ لیکن امریکیوں کے لئے افغانستان ایک انتہائی بھیانک خواب بننے جا رہا تھا۔

اگست 2003ء میں ناٹو نے افغانستان میں انٹرنیشنل سیکیورٹی فورسز (ISAF) کا چارج سنبھال لیا۔ناٹونے اپنے قیام کے بعدپہلی مرتبہ کسی غیر یورپی ملک میں فرائض سنبھالے تھے ایساف کا اولین کام کا بل کی حفاظت اور اس کے اردگرد علاقوں کا کنٹرول سنبھالنا تھا ابتداء میں ناٹو کے 500 سپاہی یہاں آئے پھربڑھتے بڑھتے42ممالک کے65ہزار فوجی یہاں تعینات ہوئے ان میں ناٹو کے 28ممالک کے فوجی بھی شامل تھے ۔

2004ء میں افغانستان میں جمہوری عمل کو رائج کرنے کی کاوشوں کا آغاز ہوا۔ 502ڈیلی گیٹس نے اکٹھے ہو کر ملک میں صدارتی نظام کے قیام کے لئے آئین کی تشکیل کا کام شروع کیا۔ افغانستان میں امریکی سفیرز لمے خلیل زاد نے اسے ایک انتہائی اہم قدم قرار دیا ۔ اکتوبر میں کرزئی نے افغانستان کے پہلے منتخب صدر کا عہدہ سنبھالا۔

افغانستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انتخابات ہوئے اور کوئی شخص منتخب ہو کر ایوان اقتدار میں پہنچا ۔وگرنہ یہاں ہمیشہ طاقت،بندوق کی طاقت کے ذریعے ہی فیصلہ ہوتارہاتھا ۔دنیا سمجھ رہی تھی کہ افغانستان امریکیوں کے قبضے میں چلا گیا ہے انہوں نے سب کیچھ فتح کرلیا ہے لیکن ایسا نہیں تھا۔ 2006میں افغان منظر پر تشدد اور جوابی قتل و غارت گری کے واقعات ابھرنے لگے افغان ایک بار پھر اپنے روایتی اور تاریخی کردار کی ادائیگی کیلئے سر اٹھانے لگے تھے امریکی عیسائی اتحادی اقوام نے سمجھنا شروع کر دیا تھا کہ افغانستان پر عیسائی جارح اقوام کا قبضہ ہو چکا ہے ، افغان مغلوب ہو گئے ہیں،،امریکہ نے 1979 میں اشتراکی افواج کے افغانستان پر قابض ہونے کے بعد پاکستان کو کہا کہ ’’افغانستان کو بھولی بسری داستان ‘‘ سمجھنا چاہئے۔

لیکن اس وقت بھی دنیا کے بالعموم اور امریکیوں کے بالخصوص اندازے ٖغلط ثابت ہوگئے افغان عوام نے ’’افغان مجاہدین ‘‘ کی شکل میں حملہ آور افواج کاڈٹ کر مقابلہ کیا انہیں نہ صرف عسکری میدان میں بلکہ تہذیبی میدان میں بھی شکست سے ہمکنار کیا تھا۔

2005میں27 خودکش دھماکوں کے مقابلے میں 2006 میں 139خودکش دہماکے ہوئے جبکہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکے ڈبل ہوگئے 2005 کے مقابلے میں 2006 میں 1677دھماکے ہوئے افغاان امور کے ماہر میتھ جی جونز نے کہا کہ اس صورتحال کا مطلب حکومتی رٹ کا خاتمہ اور نظم و نسق میں گراوٹ ہوگا ۔ اور بین الااقوامی قوتیں سنبھالا نہیں دے سکیں گی،،

2006میں ناٹو ممالک کی سربراہ کانفرنس میں ممبر ممالک کے درمیان افغانستان میں فوجیوں کی تعداد کے حوالے سے اختلافات سامنے آئے ۔ ناٹوکے سیکریٹری جنرل نے طے کیا کہ 2008 تک افغان نیشنل آرمی افٖغان سیکیورٹی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی پوزیشن میں آجانی چاہئے اور موثر سیاسی نظام بھی یہاں نافذالعمل ہونا چاہئے ،،امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے ناٹو ممالک پر تنقید کی اور کہا کہ وہ 2007 میں اضافی ٹرویس بھجنے کیلئے تیا ر نہیں ہیں اسطرح افغانستان میں حاصل کردہ کامیابیاں گم ہو سکتی ہیں،، 2007 میں ہلمندکے ایک نامور طالبان کمانڈر ملاداداللہ کو امریکی ، ناٹو اور افغان فورسز نے مشترکہ اپریشن میں ختم کر دیا۔

داداللہ خودکش بمباروں کی تیاری اور مغربی فوجیو ں کو اغواء کرنے کے حوالے سے شہرت رکھتے تھے داداللہ نے ایک مرتبہ بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ سینکٹروں خودکش بمبار حملہ آ ور فوجیوں پر نازل ہونے کیلئے تیار ہیں،، 2008 میں صوبہ مغربی ہرات میں امریکی گن شپ ہیلی کاپٹر کی شدید فائرنگ کے باعث بہت سے سویلین مارے گئے حامد کرزئی نے اس پر شدید احتجاج کیا امریکی کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے اپنے فوجیوں کو تنبیہ کی اور ہوائی حملوں کے طریقوں سے متعلق تبدیلیاں،بلکہ مکمل اوور ہا لنگ کرنے کا عندیہ دیا۔(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم


loading...