شہری علاقے پٹوارکلچر سے آزاد ہو گئے

شہری علاقے پٹوارکلچر سے آزاد ہو گئے
شہری علاقے پٹوارکلچر سے آزاد ہو گئے

  


سپریم کورٹ کے حکم سے شہری علاقوں میں پٹوار کلچر کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک چھوٹی سی خبر ہے ،لیکن یہ اتنا بڑا انقلابی قدم ہے ،جس کا چند ماہ پہلے تک تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا

۔پٹواری کے ہاتھ میں موجود بستہ عمر و عیار کی ایک ایسی زنبیل تھی جس کا طلسم ٹوٹنے ہی نہیں پا رہا تھا۔ پٹواری اس ملک میں کیا کیا غضب ڈھا چکے ہیں، کوئی اس کا حساب لگانے بیٹھے تو داستان طلسم ہوشربا کو بھول جائے۔ ایک نکتے سے محرم کو مجرم بنانے کی صلاحیت و اختیار رکھنے والے پٹواری کروڑ پتی،بلکہ ارب پتی بھی بن چکے ہیں۔

اندھا ریوڑیاں بانٹتا ہے اور پٹواری زمینیں بانٹتے رہے ہیں۔ یہ کیسا نظام تھا جس میں پانچویں سکیل کا پٹواری بڑے بڑے افسروں پر بھاری تھا اور ایم این اے یا ایم پی اے ضلع کے ڈی سی کی تبدیلی پر اتنا نہیں تلملاتے تھے۔

جتنا اپنے حلقے کے پٹواری کی تبدیلی پر سراپا احتجاج بن جاتے تھے۔یہ واحد سرکاری کارندہ تھا جس کا کوئی دفتر نہیں ہوتا تھا، یہ جہاں بیٹھ جاتا وہیں دفتر بن جاتا، شام کے وقت پٹواریوں کے پٹوارخانے آباد ہوتے اور لاکھوں روپے فرد ملکیت یا انتقال کی مد میں وصول کئے جاتے۔

نام میں خود ہی غلطی رکھ دیتے اور پھر اس کی تصحیح کے لئے سائل کو اتنے چکر لگواتے کہ وہ چکرا کر گرنے کی منزل تک پہنچ جاتا۔ پٹواری کے لکھے کو کوئی بھی چیلنج نہیں کر سکتا۔ ایک معمولی اہلکار کو اتنے زیادہ اختیارات بھی شاید گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ زمیں لکھے جانے کے قابل ہیں۔

شہبازشریف نے جب شہروں میں کمپیوٹرائزڈ اراضی سنٹر قائم کئے تو جس طبقے نے انہیں ناکام بنانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا، وہ یہ پٹواری ہی تھے۔ دھرنے دیئے، احتجاج کئے، ریکارڈ فراہم نہ کیا، غرض ہر طرح سے کوشش کی کہ یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکے۔ اس میں ضلعوں کی انتظامیہ نے بھی اندر خانے ان کا بھرپور ساتھ دیا، کیونکہ یہ پٹواری ہی ہے جو ڈپٹی کمشنر کے سارے کروفر کے لئے وسائل فراہم کرتا ہے۔ تقریب جو بھی ہو، صرف پٹواری کو اشارہ کرنے سے سارے کام پلک جھپکتے میں ہو جاتے، اس لئے کسی پٹواری کے خلاف ضلعی انتظامیہ نے کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ کارروائی ہوئی تو اینٹی کرپشن یا نیب کی طرف سے، کیونکہ ضلعی انتظامیہ کے لئے پٹواری سے بڑا تو کوئی کماؤ پوت نہیں۔ ذرا پٹواری کے اختیار کا اندازہ لگائیں کہ وہ کروڑوں یا اربوں روپے کی اراضی اپنے قلم کے ساتھ ایک سے لے کر دوسرے کے نام انتقال کر سکتا ہے۔

اب شہروں کی حد تک سپریم کورٹ نے پٹواریوں کا یہ اختیار ختم کر دیا ہے، تاہم دیہی علاقوں میں اب بھی ان کا سکہ چلتا رہے گا،کیونکہ اراضی سنٹرز میں صرف شہری علاقوں کو کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ہے۔

عدالتوں میں اس وقت اراضی سے متعلق جتنے مقدمات چل رہے ہیں اور جن کی تعداد بلاشبہ لاکھوں میں ہے، ان میں سب سے بڑا کردار پٹواری ہی ہے، جس نے یا تو حد بندی صحیح نہیں کی، یا کھاتہ اور کھتونی کا صحیح اندراج نہیں کیا، یا پھر ایک کی زمین دوسرے کے نام لگا دی، یا سرے سے زمین کی ملکیت ہی بدل کر رکھ دی۔

اگرچہ محکمہ ریونیو نے اس قسم کے معاملات کے لئے اپنا ایک عدالتی نظام وضع کر رکھا ہے، مگر اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ وہ سب معاملات پٹواری کے لال بستے میں درج معمولات کے مطابق طے کرتا ہے، گویا پٹواری وہاں ایک ایسا جادوئی کردار ہے، جس کے لکھے کو مٹانا صوبے کے چیف منسٹر کے بس میں بھی نہیں۔ سابق وزیراعلیٰ شہبازشریف کے اچھے کاموں میں سے ایک اچھا کام یہ بھی ہے کہ انہوں نے شہروں کی حد تک زمینوں کے معاملات کو کمپیوٹرائزڈ کرنے کا منصوبہ منظور کیا اور اس پربڑی تیزی سے کام بھی ہوا ، مگر پٹواریوں نے یہاں یہ گڑبڑ کی کہ کمپیوٹرائزڈ سنٹرزکو جو معلومات فراہم کیں، ان میں کسی کی ولدیت غلط لکھ دی، کسی کا کھیوٹ بدل دیا، کسی کے رقبے میں کمی کر دی اور کسی کی ذات کو تبدیل کر دیا۔

اس وقت اگر ان کمپیوٹرائزڈ اراضی سنٹرز میں لوگوں کی شکایات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سے پیشتر انہی معاملات سے متعلق ہیں، جن کی تصحیح کے لئے ہزاروں روپے کی فیس رکھی گئی ہے۔ خاص طور پر جن زمینوں کا پٹواریوں نے صرف انتقال کیا ہے یا وہ زمینیں جن کی رجسٹریاں بیس پچیس سال پرانی ہیں، ان کی فرد ملکیت نکلوانے کے لئے عوام کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ ساری شرارت پٹواریوں کی ہے۔

مشتاق احمد یوسفی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ پاگل خانے اور پٹوار خانے میں کوئی فرق نہیں، دونوں جگہ آدمی سر پکڑ لیتا ہے۔ پٹواری ہماری انتخابی سیاست کا بھی ایک بہت اہم کردار ہے۔

خاص طور پر دیہی علاقوں میں پٹواری کو بادشاہ گر سمجھا جاتا ہے۔ اس طاقت کا اندازہ ایک بار مجھے اس وقت ہوا جب انتخابات کے سلسلے میں میری بطور پریذائیڈنگ افسر ایک دیہات میں ڈیوٹی لگی۔ مَیں اور پولنگ سٹاف پریشان تھے کہ ہمیں رات گزارنے کی سہولت کون فراہم کرے گا؟ کیونکہ پابندی یہ تھی کہ کسی امیدوار یا اس کے حمایتی کے گھر نہیں ٹھہرنا۔ شام کے سائے ڈھل رہے تھے اور ہم اس ٹوٹے پھوٹے سکول میں بیٹھے سوچ رہے تھے کہ اس مسئلے کا کیا حل نکالیں کہ اتنے میں ایک شخض موٹرسائیکل پر خضر بن کر آیا اور اس نے بتایا کہ وہ علاقے کا پٹواری ہے، جس کی ڈیوٹی انتخابی عملے کی دیکھ بھال کرنا ہے۔

پھر وہ ہمیں گاؤں کی ایک حویلی میں لے گیا، جہاں اچھے بستر لگے ہوئے تھے، اعلیٰ درجے کا کھانا کھلایا اور صبح ناشتے پر ملنے کا کہہ کر روانہ ہو گیا۔ صبح چھ بجے وہ دوبارہ وہاں موجود تھا اور ناشتے کے تمام لوازمات میز پر لگ چکے تھے۔ اس وقت مجھے یوں لگا جیسے پٹواری کے پاس الٰہ دین کا چراغ ہوتا ہے،جسے وہ رگڑ کر ہر ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔

بڑے زمیندار، جب انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تو ان کی پہلی نظر پٹواری پر پڑتی ہے، جس امیدوار کے ساتھ پٹواری ہو، اس کے جیتنے کا امکان بڑھ جاتا ہے، کیونکہ وہ علاقے کے ہر شخص کو اس کے آباؤ اجداد سمیت جانتا ہے اور انتظامیہ کا کل پرزہ ہونے کی وجہ سے ہر ایک کے لئے اہمیت رکھتا ہے۔

ابھی دیہی علاقوں میں تو پٹواری کی عملداری رہے گی، تاہم پہلے مرحلے میں شہروں سے اس کا اختیار ختم کرکے تبدیلی کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ پٹواریوں کی ہٹ دھرمی کا اندازہ اس امر سے لگائیں کہ اراضی کمپیوٹرائزڈ سنٹروں کے قیام کو کئی برس بیت گئے، مگر وہ اپنا قبضہ چھوڑنے کو تیار نہیں تھے اور متبادل نظام برقرار رکھے ہوئے تھے۔

محکمہ ریونیو اور صوبائی حکومت بھی چپ سادھے بیٹھی تھی۔ اگرسپریم کورٹ اس معاملے کا از خود نوٹس نہ لیتی تو پٹواریوں نے اراضی سنٹرز کے نظام کوبالآخر ناکام بنا کر پھر سے اپنی چودھراہٹ قائم کر لینی تھی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار جاتے جاتے ایک اور بڑا کام کر گئے ہیں، اچھا ہوا کہ یہ فیصلہ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے صادر کیا ہے، اس لئے اب اس کی حکم عدولی کسی کے بس کی بات نہیں۔

صوبائی حکومت یا کسی چھوٹی عدالت نے یہ فیصلہ کیا ہوتا تو پٹواریوں نے اسے ہوا میں اڑا دینا تھا۔ اب شہروں میں جائیداد کی خرید و فروخت کے ضمن میں شفافیت آئے گی۔ سب کچھ قانونی دستاویزات کے ذریعے عمل میں آئے گا۔ جائیداد کی رجسٹری سب سے مستند اور بڑی دستاویز کہلاتی ہے، مگر پٹواری اس کا بھی انتقال اس وقت تک درج نہیں کرتے تھے جب تک انہیں رشوت نہیں ملتی تھی۔

اب حکومت کو کمپیوٹرائزڈ اراضی سنٹرز کے معاملات پر نظر رکھنا ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق وہاں بھی جدید طرز کا پٹواری سسٹم پروان چڑھ رہا ہے۔ اعتراضات لگا کر عوام کو پریشان کرنا معمول ہے۔

کمپیوٹرائزڈ فرد ملکیت جاری کرنے کا نادرا سنٹرز کے ساتھ معاہدہ طے پا چکا ہے، جہاں سے سرکاری فیس دے کر فرد ملکیت حاصل کی جا سکتی ہے، مگر یہ معاملہ اتنا شفاف نہیں، یہاں بھی رشوت اپنی بہار دکھا رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اراضی سنٹرز کی کڑی مانیٹرنگ کی جائے۔ لوگوں کو اس ضمن میں جو مشکلات درپیش ہیں ان کا ازالہ کیا جائے۔

سپریم کورٹ نے جو انقلابی فیصلہ دیا ہے، اس کے مثبت اثرات صرف اسی صورت میں نچلی سطح تک منتقل ہو سکتے ہیں جب عوام کو ان مشکلات سے بچایا جائے، جو پٹوار خانوں کے دور میں انہیں درپیش رہی ہیں۔

ہم آہستہ آہستہ گڈ گورننس کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو بڑی خوش آئند بات ہے۔ نظام میں جتنی شفافیت اور آسانی آئے گی۔ اتنے ہی کرپشن کے امکانات کم ہو جائیں گے۔ پٹواریوں کو بھی یہ تبدیلی خوش دلی سے قبول کرلینی چاہیے، کیونکہ اب پہیہ الٹا نہیں چل سکتا۔

مزید : رائے /کالم


loading...