پاک بھارت جنگ کے خطرات؟

پاک بھارت جنگ کے خطرات؟
پاک بھارت جنگ کے خطرات؟

  


پاک فوج کے ترجمان اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ ہم بھارت کو بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اسے بتانا چاہتے ہیں کہ سرجیکل سٹرائیک صرف باتوں سے نہیں ہوتی۔ ایک بھارتی ڈرون واپس نہیں جا سکتا تو سرجیکل سٹرائیک کر کے کمانڈوز کیسے جا سکتے ہیں؟

پاکستان بھارت کے ساتھ امن چاہتا ہے۔ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے چاہتا ہے، مگر بھارتی حکمران نہ تو مذاکرات کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی انہیں امن میں دلچسپی نظر آ رہی ہے۔ بھارتی فوج کا بجٹ اب تقریباً 60 ارب ڈالر کے قریب پہنچ چکا ہے۔ بھارت دنیا کا سب سے بڑا اسلحہ درآمد کرنے والا ملک بن چکا ہے۔ 60 ارب ڈالر سے بہت سے بھارتی اکابرین کو دلچسپی ہے۔

اگر خطے میں امن قائم ہوتا ہے تو بھارت کو اپنا دفاعی بجٹ کم کرنا پڑے گا اور یہ وہاں بہت سے لوگوں کو گوارا نہیں ہے۔ بھارتی فوج کا یہ امیج بنانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حکومتی معاملات میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے، لیکن پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں ہمیشہ وہی فیصلہ کن کردار ادا کرتی نظر آتی ہے۔

حناربانی کھر نے الجزیرہ ٹیلی ویژن پر اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ پاکستان کی طرف سے سیاچن گلیشیئر کو امن پارک بنانے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔بھارت کو سیاچن گلیشیئر میں اپنا غیرقانونی تسلط قائم رکھنے کے لئے ہر سال نہ صرف بھاری بجٹ خرچ کرنا پڑتا ہے بلکہ موسمی آفات کی وجہ سے اس علاقے میں بھارتی فوجیوں کی مسلسل ہلاکتیں ہو رہی ہیں، مگر سیاچن گلیشیئر میں امن بھارت کے دفاعی بجٹ کو کم کر سکتا ہے۔ اس لئے بھارتی فوج ایسی خواہش کے راستے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔

پاکستان کو بتایا گیا کہ بھارتی فوج کو یہ منظور نہیں ہے۔ سکھوں کے مسلسل مطالبے کے پیش نظر بھارتی حکومت کرتارپور کوریڈور کے لئے آمادہ ضرور ہوئی ہے، مگر اس پر بھارتی فوج جو اعتراضات اٹھا رہی ہے اس کی وجہ سے یہ منصوبہ رکاوٹوں کا شکار ہو رہا ہے۔ کلدیب نیئر نے بنگلہ دیش بنانے والے ان جرنیلوں کا تذکرہ کیا ہے جو وزیراعظم اندراگاندھی سے گستاخی کرنے سے باز نہیں آتے تھے۔ بھارتی فوج انڈیا کی قومی سیاست پر کتنی اثر انداز ہوتی ہے اس کے متعلق بھارت میں بھی کھل کر نہیں لکھا جاتا، مگر یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ بھارتی فوج کے بجٹ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے جہاں بھارتی حکومت کے عزائم کھل کر سامنے آتے ہیں وہاں بھارت کے اندرونی خلفشار کے حقائق بھی واضح ہوتے ہیں۔

اس وقت بھارت میں درجنوں علیحدگی پسند تحریکیں سرگرم عمل ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حالات کی خرابی کا برملا اعتراف کیا جا رہا ہے۔ وہاں اب جرنیل بھی مسئلے کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

سابق وزیر اعظم من موہن سنگھ کو بھارتی ریاست کے لئے سب سے بڑا خطرہ نکسل باڑی تحریک سے نظر آتا تھا۔ اس طرح متعدد دیگر ریاستوں میں بھی بھارت کے خلاف تحریکیں جاری ہیں۔

بھارتی حکومت فوج کے ذریعے ہی حالات کو کنٹرول کرتی ہے۔ اس لئے وہ فوجی بجٹ میں اضافہ کرتی ہے اور مختلف علاقوں میں فوج کے اختیارات میں اضافے بھی کرتی رہتی ہے۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو گجرات کے فسادات کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے ہندو انتہاپسندی کو فروغ دے کر اقتدار حاصل کیا تھا۔ ان کی پارٹی نے عوام کو مذہبی انتہا پسندی میں قومی ترقی کے خواب دکھائے تھے، مگر بی جے پی کی انتہاپسندی نے بھارت کی معیشت میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کیا۔ نریندر مودی کے اکثر نعرے غلط ثابت ہوئے ہیں۔

ان کی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بہت سے سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ نریندر مودی اگلے انتخابات میں کامیابی کے لئے کسی بڑی جنگ کا خطرہ پیدا کر سکتا ہے۔

1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد انتخابات میں اندراگاندھی نے کامیابی حاصل کی تھی، کیونکہ وہ بھارتی قوم کو بتا رہی تھی کہ انہوں نے مسلمانوں کی ہزارسالہ حکمرانی کا بدلہ لے لیا ہے اور دوقومی نظریہ کو خلیج بنگال میں پھینک دیا ہے۔مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بننے کے بعد بھی مسلم ریاست ہی رہا۔ اندراگاندھی نے اسے بھارت کا حصہ بنانے کی کوشش نہیں کی۔

ان کے ایک سوانح نگار کا کہنا ہے کہ مشرقی پاکستان کے بحران کے آخری دنوں میں نکسل باڑی تحریک کے کارکنوں نے بنگالی مہاجرین کے کیمپوں میں اثرورسوخ حاصل کرنا شروع کر دیا تھا۔

بھارتی انٹیلی جنس ذرائع نے اندراگاندھی کو خبر دی تھی کہ نکسل باڑی لاکھوں بنگالیوں کو کلکتہ کی سڑکوں پر لا کر نظام حکومت مفلوج کر سکتے ہیں۔ مغربی بنگال میں گریٹر بنگال کے خواب دیکھنے والے بھی موجود تھے۔ اندراگاندھی اگر مشرقی پاکستان کو بھارت کا حصہ بنانے کی کوشش کرتی تو اس کا نتیجہ گریٹر بنگال کی صورت میں بھی نکل سکتا تھا۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اندراگاندھی کو یہ خدشہ تھا کہ اگر مشرقی پاکستان کو بھارت کا حصہ بنایا جاتا ہے تو بھارتی پارلیمنٹ میں مسلم نشستوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہو جائے گا جس سے سیاسی مسائل میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اس طرح اندراگاندھی کے مشیر اسے یہ بھی بتا رہے تھے کہ بنگلہ دیش کے قیام کے بعد وہ بھارتی ہیرو ہیں، لیکن اگر بنگلہ دیش کو بھارت کا حصہ بنایا گیا تو اس کا بہت منفی ردعمل ہو سکتا ہے۔ پنڈت نہرو کی بیٹی اندراگاندھی ان سیاسی مسائل کو سمجھتی تھیں اس لئے انہوں نے نہ تو بنگلہ دیش کو بھارت کا حصہ بنایا اور نہ ہی مشیروں کی اس تجویز پر عمل کیا کہ مغربی پاکستان پر حملہ کر کے پاکستانی فوج کو تباہ کر دیا جائے ۔

متعدد بھارتی ریاستوں میں بی جے پی کی حالیہ شکست کے بعد نریندر مودی کو ایسے مشورے دینے والوں کی تعداد کم نہیں ہے جوان کے عروج کو پاکستان پر سرجیکل سٹرائیکس یا مکمل حملے کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔

نریندر مودی نے گجرات کے انتخابات مسلم فسادات کے ذریعے جیتے اور یو پی میں کسی مسلمان کو انتخابی امیدوار بنائے بغیر ہندوؤں کو متحرک کر کے کامیابی حاصل کی۔ نریندر مودی کو اگلے انتخابات میں کامیابی کے لئے کچھ نہ کچھ کرنا ہے اور یہ سوچ پاک بھارت جنگ کی وجہ بھی بن سکتی ہے۔نریندر مودی ہندو مسلم فسادات کے ذریعے انتخابی کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔

یہ فیصلہ تو وقت ہی کرے گا کہ ایٹمی جنگ کا خطرہ مول لے کر وہ برصغیر میں کیسے خطرات پیدا کریں گے، مگر پاکستان کو بھارت کے عزائم پر کڑی نظر رکھنی چاہیے اور اقوام عالم کو اس کے خطرناک ارادوں سے باخبر رکھنے کے لئے بھی غیر معمولی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ پاک بھارت جنگ کا خطرہ حقیقی صورت بھی اختیار کر سکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...