18 ویں ترمیم ‘ کمیٹی سربراہ رضا ربانی نے وسیب سے تعصب کا مظاہرہ کیا ‘ سرائیکی رہنما

18 ویں ترمیم ‘ کمیٹی سربراہ رضا ربانی نے وسیب سے تعصب کا مظاہرہ کیا ‘ سرائیکی ...

ملتان (سٹی رپورٹر ) سرائیکستان قومی کونسل کے چیئرمین پروفیسر شوکت مغل اور صدر ظہور دھریجہ نے اپنے بیان میں سپریم کورٹ کی طرف سے اٹھارہویں ترمیم پر سماعت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے موقع پروسیب سے بھی ظلم ہوا اور اپیلوں کے باوجود سرائیکی(بقیہ نمبر42صفحہ7پر )

صوبے کا مقدمہ اس میں شامل نہ ہوا ۔ اس موقع پر کمیٹی کے سربراہ رضا ربانی سرائیکی وسیب سے بغض اور تعصب کا مظاہرہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کا یہ بیان اہم ہے کہ 18 ویں ترمیم پر بحث نہیں ہوئی ، تشریح ہم کریں گے۔ اس پر بحث ہونی چاہئے ۔ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا کام آئین سازی ہے مگر جمہوری یا جمہوریت سے متصادم آئین سازی نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ اصولی طور پر ہم صوبوں کو اختیارات کے حق میں ہیں مگر غیر جمہوری اختیارات نہیں ہونے چاہئیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اٹھارہویں ترمیم میں صوبوں کو اس قدر اختیارات دیئے گئے کہ صوبوں نے چار اسٹیٹ کا درجہ حاصل کر لیا ۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد پنجاب نے چین اور ترکی کے ساتھ تجارتی معاہدے کئے ۔ اب اگر بلوچستان بھارت اور افغانستان سے معاہدوں کی طرف چل پڑے تو اسے کون روک سکے گا ؟ انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم کے موقع پر کہا گیا کہ ضیاء الحق اور مشرف کی آمرانہ ترمیمیں ختم کی گئیں ، پھر سوال یہ ہے کہ آٹھویں ترمیم میں ضیاء الحق کی طرف شامل کی گئی وہ شق کیوں باقی رہنے دی گئی جس کی بناء پر غیر آئین ساز ادارے صوبائی اسمبلی کو نئے صوبے کے آئینی مسئلے میں شامل کیا گیا ؟ سرائیکی رہنماؤں نے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں یہ نعرہ لگایا گیا کہ آمریت کو دفن کر دیا گیا مگر سیاسی پارٹی سربراہ کو غیر جمہوری آمرانہ اختیارات کیوں تفویض کئے گئے ؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ قبل اس کے کہ سپریم کورٹ کا جائزہ لے ، وزیراعظم عمران خان کو پارلیمانی کمیٹی بنا کر اس کا جائزہ لینا چاہئے ۔ اس موقع پر پرویز قادر خان، ملک احسان ، صغیر احمد احمدانی ،عابد بلوچ، زبیر دھریجہ، جام ممتاز ، حاجی عید احمد دھریجہ اور دوسرے موجود تھے ۔

سرائیکی رہنما

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...