منشیات فروشی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، ڈی آئی جی ڈیرہ دارعلی خٹک

منشیات فروشی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے، ڈی آئی جی ڈیرہ دارعلی خٹک

ٹانک(نمائندہ خصوصی)منشیات فروشی ایک لعنت ہے جسکو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے سخت اقدامات کئے جائیں گے سود کے کاروبار میں ملوث افراد نے ہنستے بستے گھرانوں کو اجاڑ کر رکھ دیا ہے ایسے عناصر کو عوامی تعاون سے قانون کے کٹہرے میں لایا جائیگا فرقہ واریت کے خاتمہ کے لئے علماء کرام اپنا کردار ادا کریں تاکہ علاقہ میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھا جا سکے عوامی اعتماد بحال رکھنے کے لئے پولیس کو اپنے رویوں میں شائستگی لانا پڑے گی تھانوں میں مظلوموں کی داد رسی کی جائیگی امن کی بحالی میں پولیس نے بے تحاشا قربانیاں دی ہیں پولیس فورس میں چھپی کالی بھڑیوں کو نشان عبرت بنایا جائیگا وردی کے وقار کو برقرار رکھنے کے لئے پولیس میں سز ا اور جز کا عمل جاری رہیگا پولیس کے افسران اور اہلکار عوامی خدمت کو اپنا شعار بنائیں ٹانک کو ایک ہفتہ کے اندر منشیات کی لعنت سے پاک کیا جائیگا ان خیالات کا اظہار ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ڈیرہ اسماعیل خان ریجن دار علی خٹک نے ٹانک ٹاؤن ہال گراؤنڈ میں منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پرضلعی ناظم مصطفی خان کنڈی ،ڈی پی او عارف خان،ایس پی انوسٹی گیشن گل نصیب خان ،ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر افتخار شاہ ،ڈی ایس پی رورل شاہد عدنان ،ایس ایچ اوز ،معززین علاقہ ،بلدیاتی نمائندوں ،سیاسی جماعتوں کے مقامی قائدین ،سماجی تنظیموں کے عہدیداروں اور مقامی صحافیوں نے شرکت کی کھلی کچہری میں معززین علاقہ کی جانب سے پولیس کے حوالے سے شکایات کی گئیں جس پر انہوں نے شکایات کے ازالہ کے لئے موقع پر احکامات جاری کئے دار علی خٹک کا کہنا تھا کہ سماج دشمن عناصر کے ساتھ سختی سے نمٹا جائیگا تاکہ امن کی بحالی کو مذید پائیدار بنایا جا سکے علاقہ میں ہوائی فائرنگ ،منشیات فروشی اور سودی کاروبار میں ملوث افراد کے ساتھ سختی سے نمٹا جائیگا عوام پولیس کو رشوت نہ دیں اور رشوت خوری میں ملوث پولیس اہلکاروں کے بارے میں مجھے آگاہی دیں پولیس فورس کے لئے بدنامی کا باعث بننے والے اہلکاروں کو نوکریوں سے فارغ کر دیا جائیگا انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں امن ہوتا ہے وہاں ترقی اور خوشحالی آتی ہے امن کی بحالی میں عوامی تعاون ناگزیر ہے اس لئے شہری ذمہ داری کا ثبوت دیں اور برائی کے خاتمہ کے لئے پولیس انتظامیہ کے ساتھ تعاون کو یقینی بنائیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...