سانس کے ذریعے کینسرٹیسٹ کی انسانی آزمائش شروع

سانس کے ذریعے کینسرٹیسٹ کی انسانی آزمائش شروع

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانیہ میں سانس کی بایوپسی کی طبی آزمائشیں (کلینکل ٹرائلز) شروع ہوگئے ہیں جس سے کینسر کی شناخت میں مدد ملے گی۔ دو سال تک ایک خاص آلے کو انسانوں پر آزمایا جائے گا تاکہ سانس میں چھپے سرطان کے مرکبات کا اندازہ لگا کر اس کی افادیت کا جائزہ لیا جاسکے۔کیمبرج میں واقع کینسر ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور اول اسٹون میڈیکل مشترکہ طور پر آلے کی آزمائش کریں گی۔ دونوں مل کر بریتھ بایوپسی ٹیکنالوجی کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیں گے۔اس غیرمعمولی آزمائشی نظام کے تحت 1500 سے زائد انسانی سانس کی آزمائش کی جائے گا تاکہ سانس میں پوشیدہ خاص اجزا سے مختلف کینسر کی شناخت کی جاسکے جنہیں طبی زبان میں بایو مارکرز کہا جاتا ہے۔اگر سینسر کامیاب ہوجاتا ہے تو سرطان کی تشخیص میں یہ ایک انقلابی قدم ہوگا۔اگرچہ گزشتہ عرصے میں ملیریا سمیت کئی بیماریوں کے لیے سانس کے ذریعے مرض معلوم کرنے والے بریتھلائزر بنائے گئے ہیں لیکن ان کی افادیت اب تک ثابت نہ ہوسکی لہٰذا ان کے عام استعمال کا بھی سوال پیدا نہیں ہوتا۔پہلے مرحلے میں پھیپھڑے کے سرطان پر توجہ دی جائے گی اور اس ضمن میں ولیٹائل آرگینک کمپاؤنڈز ( وی او سی) تلاش کئے جائیں گے جو کئی اقسام کے کینسر کو ظاہر کرتے ہیں۔

کینسرٹیسٹ

مزید : صفحہ آخر


loading...