ڈکیتی ملزم کے حق میں مدعی مقدمہ سامنے آگیا

ڈکیتی ملزم کے حق میں مدعی مقدمہ سامنے آگیا

کراچی (این این آئی)انسداد دہشتگردی عدالت میں پولیس کا ایک اور کارنامہ سامنے آگیا،ڈکیتی کے الزام میں گرفتار شخص کے حق میں مدعی مقدمہ سامنے آگیا،پولیس کی جانب سے ڈکیتی کے ملزم وسیم عباس کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں مدعی مقدمہ سید زاہد علی شاہ نے پولیس ایف آئی آر کو جعلی قرار دے دیا مدعی مقدمہ نے عدالت میں کہا کہ ڈکیتی کی واردات ہوئی نہیں ، ملزم کو میرے سامنے گرفتار کیا اور گولی ماری گئی ، اسپتال پہنچنے پر ملزم وسیم عباس کو تین گولیاں لگی پائی گئی ،عدالت نے ملزم کو گرفتار کرنے والے افسر ہیڈ کانسٹیبل راجہ شبیر کو طلب کرلیا ،ملزم کے وکیل کا کہنا ہے کہ ملزم پانچ بچوں کا باپ اور رکشہ ڈرائیور تھا ۔مدعی مقدمہ کی جانب سے ایف آئی آر جعلی قرار دیئے جانے کے بعد پولیس پر کاروائی کی جانی چاہئے،مدعی مقدمہ زاہد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پولیس نے زبردستی مقدمے میں مدعی بنایا ۔ملزم کے خلاف دو مقدمات تھانہ سرجانی میں درج ہیں، اقدام قتل ،ڈکیتی ،پولیس مقابلہ اور ناجائز اسلحہ رکھے کی دفعات درج ہے ،ڈکیتی کا واقعہ 29 نومبر 2018 کو پیش ایاملزم وسیم عباس کا کہنا ہے کہ مجھے بے گناہ کیس میں پھنسایاگیا ،میں گھر کی چھت پر سو رہا تھا کہ گولی لگ گئی ،پولیس کو بتایا کہ مجھے گولی لگ گئی ،انہوں نے مجھے موبائیل میں ڈال دیا ،جس کے بعد مجھے مزید دو گولیا ں ماری گئی ،میں رکشہ ڈرائیور ہو اور چھ بچوں کا باپ ہوں ،چھ سات سو کما کر ان کا پیٹ پالتا تھا ،مجھے انصاف چاہئے ۔پولیس کے خلاف کاروائی کی اپیل کرتا ہوں۔

ڈکیتی، مدعی

مزید : صفحہ آخر


loading...