لاہور پارکنگ کمپنی ریونیوا کٹھاکرنے میں ناکام ، ماتحت عملہ کی من مانی کرپشن

لاہور پارکنگ کمپنی ریونیوا کٹھاکرنے میں ناکام ، ماتحت عملہ کی من مانی کرپشن

لاہور (کرائم رپورٹر)لاہور پارکنگ کمپنی ریونیو اکھٹا کرنے میں ناکام،ماتحت عملے کی من مانیاں اور مبینہ کرپشن نے شہریوں کو پر یشانی میں مبتلا کر دیا ہے ۔انسپکٹرارسلان صہیب اور سپر وائزر محمد اویس نے مبینہ طور پر اجازت حاصل کیے بغیر متعدد پارکنگ سٹینڈ شروع کروا رکھے ہیں جس سے وہ ماہانہ لا کھوں روپے بٹور رہے ہیں ۔ لاہور کی مشہور مارکیٹ، کریم مارکیٹ، مون مارکیٹ، انمول ہسپتال، فاروق ہسپتال اور چوک یتیم خانہ کے سپروائزر اور انسپکٹر کی ناقص حکمت عملی اور کرپشن میں ملوث ہونے کی وجہ سے ادارہ لاہور پارکنگ کمپنی بہتر نتائج دینے میں قاصر ہے نیب نے اس محکمہ میں کرپشن کے مرتکب سابق ایم پی اور پارکنگ کمپنی کے چیرمین حافظ نعمان سمیت دیگر اعلی 4افسران کو پہلے ہی حراست میں لیکر ان سے 80ملین روپے برآمد کر چکے ہیں۔محکمے کے سربراہ چیف ایگزیکٹو آفیسر کلب عباس نے اس بارے میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ کر پٹ عناصرکو محکمے سے نکال کر دم لیں گے بتایا گیا ہے کہ لاہور پارکنگ کمپنی ان پارکنگ سٹینڈوں سے کوئی خاص ریونیو جو کہ گورنمنٹ کو ٹھیکوں سے حاصل ہوتا تھا بھی پورا کرنے سے یکسر قاصر ہے۔ کوئی چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے لاہور پارکنگ کمپنی کے نام پرادارے کوسپروائزروں اور انسپکٹروں کی تقرر داری سے چلایاجا رہا ہے، بغیر نوٹیفیکیشن والی جگہوں پر بھی پارکنگ کروا کر لاہور کمپنی کے انسپکٹر اور سپروائزر لاکھوں کی مبینہ طور پرماہانہ کرپشن کر رہے ہیں، پارکنگ سٹینڈوں میں کوئی یونیفارم پہنے شخص نظر نہیں آتا۔ آئے روز لڑائی جھگڑے اور کرپشن کے واقعات معمول کا حصہ بن گئے ہیں ۔سپروائزروں نے اپنے چہیتوں کے ذریعے، ان پارکنگ سٹینڈوں کو آگے، ٹھیکے پر دیا ہوا ہے، جہاں ہر ایک ایک پرچی کو دو یا تین بار استعمال کر کے عوام سے پیسے اکٹھے کئے جا رہے ہیں۔یہ کمائی ٹھیکیدار سٹینڈ انسپکٹر اور سوپرائزر کے کھاتے میں جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں اتوار بازاروں سے بھی پارکنگ کے نام پر اکٹھا ہونے والا ریونیو بھی بندر بانٹ کا شکار ہے اور بہت کم رقم گورنمنٹ کے کھاتے میں جا رہی ہے۔ذرائع سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ صوبائی وزیرعلیم خان نے بھی لاہور پارکنگ کمپنی کو وارننگ جاری کردی ہے کہ وہ اپنے ریونیو کو بڑھائے اور کرپشن ختم کرئے لیکن اس کے باوجود بھی کوئی خاطر خواہ عمل ہوتا ہوا دیکھائی نہ دے رہا ہے۔حالیہ سروے کے دوران یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ لاہور کی مشہور مارکیٹ، کریم مارکیٹ، مون مارکیٹ، انمول ہسپتال، فاروق ہسپتال اور چوک یتیم خانہ کے سپروائزر اور انسپکٹر کی ناقص حکمت عملی اور کرپشن میں ملوث ہونے کی وجہ سے ادارہ لاہور پارکنگ کمپنی بہتر نتائج دینے میں قاصر ہے اور اقربا پروریاور کرپشن کا ماحول پروان چڑھا ہوا ہے۔ انسپکٹر ارسلان اور سپروائزر محمد اویس نے ان تمام پارکنگ سٹینڈوں کو اپنے ایجنٹ کے سپرد کر رکھا ہے جو کہ کرپشن کا منہ بولتا ثبوت ہے اور قابل مواخذہ ہے۔ عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ لاہور پارکنگ کمپنی کو ایسے عناصر کے خلاف سخت ایکشن لینا چاہئے تاکہ ایسے عناصر کا قلع قمع ہو سکے۔

مزید : علاقائی


loading...