احتساب بیورو نے عدالتی احکامات کی تذلیل شروع کر دی ، ایک درخواست پر پگڑیاں اچھالنے لگتے ہیں ، ممکن ہے چیئر مین کا عدالت میں حاضری سے اسثنا واپس لے لیں ، وارنٹ جاری کر دیئے تو کیا عزت رہ جائے گی ، کیا نیب کے سوا سب چور ہیں : چیف جسٹس

احتساب بیورو نے عدالتی احکامات کی تذلیل شروع کر دی ، ایک درخواست پر پگڑیاں ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،این این آئی)وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہسپتالوں کی کمی کے مقدمے میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں اپنے چیمبر میں طلب کرلیا۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں اسلام آباد میں ہسپتالوں کی کمی پر ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔اس موقع پر سیکرٹری صحت نے عدالت کو بتایا کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں 200 بستروں کا ہسپتال بنا رہے ہیں اس موقع پر جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ جو ہسپتال حکومت بحرین نے بنانا تھا اور سی ڈی اے نے زمین دینا تھی اس کا کیا ہوا؟۔سیکرٹری صحت نے کہا کہ اس کا کچھ نہیں ہوا، سی ڈی اے نے تاحال زمین الاٹ نہیں کی جب کہ بحرین کی حکومت نے زمین ملنے پر نرسنگ یونیورسٹی بنا کر دینا ہے۔وکیل سی ڈی اے نے عدالت کو بتایا کہ نیب انکوائری کے باعث زمین منتقل نہیں ہوسکی، زمین کے حصول کے معاملے میں نیب نے انکوائری شروع کردی۔چیف جسٹس نے وکیل سی ڈی اے کو کہا سی ڈی اے کیلئے عدالتی حکم اہم ہے یا نیب کا ٗ کل تک زمین الاٹ کریں ورنہ چیئرمین سی ڈی اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔چیف جسٹس نے اس موقع پر چیئرمین نیب پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک درخواست آتی ہے اور لوگوں کی پگڑیاں اچھالنا شروع کردیتے ہیں، کیا نیب کے سوا پورا ملک چور ہے، جس نے اب عدالتی احکامات کی ہی تذلیل شروع کر دی۔چیف جسٹس نے کہا بحرین حکومت 10 ارب روپے دینے کو ترس رہی ہے اور نیب ہر معاملے میں انکوائری شروع کر کے سسٹم روک دیتا ہے، کیا صرف نیب کے لوگ سچے اور پاک ہیں، نیب سپریم کورٹ کے احکامات کی تذلیل کروا رہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کس نے کس نیت سے درخواست دی اور نیب نے کارروائی شروع کر دی،ہم نیب کے لوگوں کے وارنٹ جاری کر دیں تو ان کی کیا عزت رہ جائے گی۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ لاہور میں نیب کی ایک بی بی بیٹھی ہے جو لوگوں کو بلیک میل کرتی ہے اور وہ بی بی اپنے کام کروا رہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے کیا کام شروع کر دیا ہے، نیب لوگوں کی پگڑیاں اچھال رہا ہے پورے ملک کو بدنام کر رہا ہے، چیئرمین نیب کو بتا دیں ممکن ہے ان کو بطور سابق جج حاصل حاضری سے استثنیٰ واپس لے لیں، سابق سپریم کورٹ ججز کو حاضری سے استثنیٰ خود ہم نے دیا۔چیف جسٹس نے کہا کیوں نہ چیئرمین نیب کا بطور سابق جج حاضری سے استثنیٰ ختم کر دیں، چیرمین نیب اور پراسیکیوٹر جنرل نیب فوری طور پر چیمبر میں پیش ہوں۔عدالت نے چیئرمین سی ڈی اے کو بھی فوری طور پر طلب کرلیا۔بع ازاں وفاقی احتساب بیورو(نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کی چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے چیمبر میں ملاقات کی ہے۔ چیف جسٹس کی جانب سے طلب کیے جانے پر چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال پیش ہوگئے اور چیئرمین نیب نے چیف جسٹس سے چیمبر میں ملاقات کی ہے۔اس سے قبل چیئرمین سی ڈی اے اور ممبر اور پراسیکیوٹرجنرل نیب ان چیمبر پیش ہوئے تو چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اسلام آباد میں اسپتالوں کی کمی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی ان چیمبر سماعت کی۔پراسیکیوٹر جنرل نیب نے بتایا کہ نیب کی جانب سے زمین کی منتقلی روکنے کی کوئی ہدایات نہیں دی گئیں، جس پر چیف جسٹس نے ممبر اسٹیٹ سی ڈی اے خوشحال خان خٹک پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ممبر اسٹیٹ نے پہلے بھی مقدمات میں عدالت کو گمراہ کیا ہے۔چیف جسٹس نے ہدایت دی کہ سی ڈی اے فوری طورپر زمین کا قبضہ دے، سی ڈی اے بورڈ میٹنگ طلب کرے اور زمین کے قبضے سے متعلق فیصلہ کرے اور رپورٹ عدالت کو دی جائے۔سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن اور ملیر ڈویلپمنٹ اٹھارٹی کے تمام منجمد اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم دیدیا۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جعلی بینک اکاؤنٹس کیس اور بحریہ ٹاؤن کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بعض اوقات سرکاری ادارے زیادہ کارکردگی دکھاتے ہیں، اسکول فیس کے معاملے میں بھی اکاؤنٹ منجمد کر دیے گئے تاہم عدالت نے اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، جعلی اکاؤنٹس کیس میں بھی اکاؤنٹ منجمد کرنے کا نہیں کہا گیا، عدالت نے صرف مانیٹرنگ کا حکم دیا تھا۔وکیل ایم ڈی اے نے کہا کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں، ملیر ڈویلپمنٹ اور بحریہ تنخواہیں دینے سے بھی قاصر ہیں۔ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن اور ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے تمام منجمد اکاؤنٹس بحال کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کا حکم نامہ بالکل واضح ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے واضح کیا ہے کہ فیسوں میں کمی کا حکم صرف چند اسکولوں کے لیے نہیں بلکہ پورے ملک کیلئے ہے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ فیس میں کمی کا حکم صرف 22 یا 27 اسکولوں کیلئے نہیں تھا ٗیہ حکم پورے ملک میں 5 ہزار سے زائد فیس لینے والے تمام اسکولوں پر لاگو ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے فیسوں میں کمی کا کہا تو انتظامیہ نے اسکول بند کرنے شروع کردیئے، اگر کسی کو ابہام ہے تو ہمیں فائل دیں، پڑھ کے سب کو بتا دیتے ہیں۔واضح رہے کہ گذشتہ ماہ 13 دسمبر کو سپریم کورٹ نے 5 ہزار روپے سے زائد فیس لینے والے نجی اسکولوں کو فیس میں 20 فیصد کمی کرنے اور 2 ماہ کی چھٹیوں کی فیس کا 50 فیصد والدین کو واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ آف پاکستان نے محکمہ ریلوے کو وفاق اور صوبوں میں زمین کی فروخت سے روکتے ہوئے ریلوے اراضی استعمال سے متعلق معاملہ نمٹا دیا۔ جمعہ کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کی، اس موقع پر وزیر ریلوے شیخ رشید عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے آبزرویشن دی کہ سپریم کورٹ نے ریلوے اراضی کی فروخت پر پابندی لگا رکھی ہے، ریلوے کی زمین وفاق کی ملکیت ہے اور محکمہ ریلوے لیز پر زمین دے سکتا ہے مگر بیچ نہیں سکتا۔چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے ریلوے کی اراضی استعمال کر سکتے ہیں مگر بیچ نہیں سکتے لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ زمینیں 99 سال کی لیزپر دے دی جائیں۔اس موقع پر وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ جی بالکل ہم ایک مرلہ زمین بھی نہیں بیچ رہے، تین سے پانچ سال کی لیز پر کچھ اراضی دے رکھی ہے۔شیخ رشید نے عدالت میں بیان دیا کہ ریلوے اراضی سے محکمے کو سالانہ 3 ارب روپے کی آمدن ہورہی ہے، اگر لیز ختم کرتے ہیں تو ریلوے کا مالی نقصان ہوگا۔سپریم کورٹ نے ریلوے کو وفاق اور صوبوں میں زمین کی فروخت سے روک دیا اور کہا کہ جو زمین ریلوے کی استعمال میں ہے اسے فروخت نہیں کرسکتے، وفاق اور صوبوں کی ملکیتی زمین کو ریلوے 5 سال سے زائد کی لیز پر نہیں دے سکتا۔سپریم کورٹ نے کہا کہ جو زمین ریلوے آپریشن کے لیے درکار نہیں اسے 5 سال کے لیے لیز پر دیا جا سکتا ہے تاہم پاکستان ریلوے کو کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کی تعمیر کی اجازت نہیں ہوگی۔

چیف جسٹس

مزید : کراچی صفحہ اول


loading...