اسد بھی کوئی بندہ ہے!

اسد بھی کوئی بندہ ہے!
 اسد بھی کوئی بندہ ہے!

  


آجا کر اسد عمر سے کچھ توقع تھی مگر وہ بھی منی بجٹ کی تیاریاں یوں کر رہے ہیں جیسے عوام جھولیاں بھربھر خزانے گھروں کو لے جا رہے ہوں۔

کئے تیار پھرتا ہے نئے ٹیکسوں کا وہ پھندہ

اجی رہنے دو چھوڑو تم اسد بھی ہے کوئی بندہ

تاحال حکومت تھوک سے پکوڑے تل رہی ہے اور خالی دعووں سے چمن کو سنوارنے اور نکھارنے کی بات ہو رہی ہے ، حالانکہ جتنا اس حکومت کا شیرازہ ہے اس کے بکھرنے کے لئے تو ہلکی سے آندھی بھی کافی ہے۔

وہ تو بھلا ہو نیب والوں کا کہ جو اپوزیشن کو ان کی مرضی کی اڑانیں نہیں بھرنے دے رہی ہے اور ہر لکی کبوتر کے پر کتر کتر پنجرے میں پھینکے جا رہی ہے ۔ اسی لئے حکومتی وزراء کا یہ عالم ہے کہ کسی کو زنداں میں ڈالنے کی دھمکیاں دیتے ہیں تو کسی کو جان سے مارنے کی !....جبکہ عوام ہیں کہ ایسی بے تکی باتیں سن سن کر اکتا چکے ہیں ۔

آفرین تو ان نادیدہ قوتوں پر ہے جو پہلے ہوا بھر کر خوشنما غبارے پھلاتے ہیں اور پھر خود ہی ان کو پھاڑ دیتے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ عوام کچھ سمجھیں ایک اور دلکش غبارہ پھلا کر ان کی آنکھوں کے سامنے لہرانا شروع کردیتے ہیں۔ پچھلے ستر برس سے یہی کچھ ہو رہا ہے اور اب یہ روائت بھی اس قدر بوسیدہ ہوچکی ہے کہ لوگ اس سے اکتا چکے ہیں اور کچھ ایسا چاہتے ہیں جس سے پتلی تماشے کا کھیل ختم ہو سکے۔وہ وقت کب آئے گا جب ہمیں ڈرانے والے ہم سے ڈرتے پھریں گے اور پھولوں کو مسلنے والوں کو جو کرے گا وہ بھرے گا کے ،مصداق اپنے کئے کی سزا جھیلنی پڑے گی!

ولید اس گھر میں لگتا ہے کہ جِنوں کا بسیرا ہے

یہاں سناٹا رہتا ہے یہاں پر دل بھی ڈرتا ہے

حکومت کا حال یہ ہے کہ کہیں کہیں ہے اور کہیں بالکل نہیں ہے اور جس نئے پاکستان کا وعدہ کیا گیا تھا وہ یا تو خلاؤں میں بن رہا ہے یا پھر کہیں زیرِ زمین ہے جبکہ کئی مسکین تو اس کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے عرشِ بریں پر جانے والے ہیں۔ ایسے میں بیچارے ڈاکٹر فرخ سلیم کا حال اس عاشقِ ناتواں کا لگتا ہے جو اپنے معشوق کے شہر میں ناواقفوں کی طرح گھوم رہا ہو جب کہ تمام شہر کے لوگوں نے خنجر تھام رکھے ہوں۔ ایک ذرا سی اختلافی بات کرنے کا خمیازہ ہے کہ ان کے ہونٹوں پر تالے اور نگاہوں پر پہرے بٹھادیئے گئے ہیں ، کہا گیا ہے کہ وہ تو کبھی حکومت کے معاشی ترجمان رہے ہی نہیں ہیں۔ خالی ان کی نفرت کو ہی مقید نہیں کیا گیا بلکہ ان کی چاہتوں پر بھی پہرے لگادیئے گئے ہیں۔

ایک ڈاکٹر فرخ سلیم ہی نہیں ، ٹی وی پر اب کئی دوسرے ٹی وی اینکر بھی خان صاحب کے کھوکھلے دعووں کو اس طرح سے زیر بحث لائے ہوئے ہیں جس طرح خریدار دوپٹہ رنگنے والے کی دکان پر سارے کچے رنگوں کے دھاگے نکال کر بیٹھا ہوتا ہے۔ ہماری ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سے عرض ہے کہ میڈیا پر توچھے ماہ کی پابندی آپ نے لگادی ہے مگر وفاقی و صوبائی وزراء کی بونگیوں کا بھی توکوئی نوٹس لیا جائے جو خود کو غلطیوں سے مبرا تصور کرتے ہیں اور سارا نظام برباد کرنے پر تلے نظر آتے ہیں ، عوام کی آہیں بلند ہور ہی ہیں اور وہ اپوزیشن کو تسخیر کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ ہماری خاتون اول بشریٰ پیرنی سے بھی درخواست ہے کہ کوئی منتر سیدھا بھی پڑھیں وگرنہ معاشی بدحالی عوام کے کلیجے کو آنے والی ہے، جن گھروں میں چولہے بھجے ہوئے ہیں شارٹ سرکٹ سے وہی گھر آگ کا الاؤ بنے ہوئے ہیں لیکن حکومتی وزراء کو اپوزیشن کے سر میں خاک ڈالنے سے ہی فرصت نہیں ہے۔

آخر میں تازہ غزل کے کچھ اشعار قارئین کی نذر ہیں:

نکل آنا ہے لوگوں نے علم لے کر بغاوت کے

اگر اطوار نہ بدلے ریاست میں حکومت کے

سماجی بالا دستی پر مسلط آمریت ہے

ابھی تک سلسلے قائم ہیں بوسیدہ روائت کے

اگر تم نے کوئی تنکا بھی دوہرا نہ کیا ہوتا

تو تم بھی لاڈلے کہلاتے قاضی کی عدالت کے

صرف الزام لگتا ہے پہ ثابت کچھ نہیں ہوتا

ارے جے آئی ٹی والو میں صدقے اس ریاضت کے

ولید انصاف کی یہ بات ہے انصاف بکتا ہے

جو ناقد ہیں تو بس اتنے سے ہم اپنی ریاست کے

مزید : رائے /کالم


loading...