کمپیو ٹر

کمپیو ٹر

آج کے تیزی کے اس جدید دور میں کمپیوٹر کا استعمال اتنا بڑھ چکا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی دفاعی ادارہ کمپیوٹر کے بغیر نامکمل ہے۔کمپیوٹر آج ہماری روز مرہ زندگی کا ایک اہم ترین جز بن چکا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں آپ اگر آج بغور جائزہ لیں تو کوئی بھی دفتر ہو یا گھر، فیکٹری ہو یا کارخانہ ، کوئی بینک ہو یا دوا خانہ حتی کا اخباری دفاتر سے لیکر چھوٹے سے چھوٹے میگزین کے دفاترمیں بھی آپ کو کمپیوٹر پڑا ضرور نظر آئے گا۔ بالخصوص اخباری دفاتر جسے ہم پرنٹ میڈیا بھی کہتے ہیں‘ جہاں قریباً 300 کاتب حضرات کام کرتے تھے کمپیوٹر نے ان تین سو حضرات کے کام کو سمیٹ کر قریباً بیس آدمیوں پر محدود کر دیا ہے۔ حتیٰ کہ پیج میکنگ سے لیکر ڈیزائنگ ‘ میکنگ اور کیمرہ تک تمام کمپیوٹر ہی کے رحم و کرم پر دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح بینکوں کا نظام بلکہ پوری دنیا کے نظام میں کمپیوٹر اہم درجہ حاصل کر چکا ہے۔ آج شاید ہی کوئی ایسا شخص ہو گا جو کمپیوٹر کی تکنیکی معلومات میں دلچسپی نہ لیتا ہو۔کمپیوٹر کی بنیادی تعلیمی نصاب میں ایک سبق اور جملہ ہمیں ضرور پڑھنے کو ملتا ہے وہ ہے پراسیسر (Processor) ۔ یہ پروسیسر کمپیوٹر کے دماغ کا درجہ رکھتا ہے یعنی Processor is a Brain of Computer کہا جاتا ہے لیکن کبھی آپ اس بات پر غور کریں کہ اس ایک جملے میں تمام کمپیوٹر کے طرز عمل پوشیدہ ہیں۔ یعنی جس طرح انسانی دماغ، انسان کے تمام امور کی تکمیل اچھے اور صحیح انداز میں کرتا ہے اگر کسی انسان کا دماغ اپنا کام کرنا چھوڑ دے یا کسی ایک عضو یا نظام پر اپنے کنٹرول کو ختم کر دے تو جسم کا وہ نظام یا عضو ناکارہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کمپیوٹر کا دماغ (Processor) کام کرنا بند کر دے یا کسی Device کو اپنے کنٹرول سے خارج کر دے تو کمپیوٹر کئی ہارڈ ویر اور سافٹ ویر مسائل سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اس لئے پروسیسر (Processor) کو آپ یوں سمجھیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں دماغ کو تمام انسانی امور پر کنٹرول عطا کیا ہے اور تمام انسانی جسم کے اعضاء رگوں اور دوسرے طریقوں سے دماغ تک اپنے ضروریات کو پہنچاتے ہیں اور دماغ جواباً ان کے احکامات جاری کرتا ہے۔ اسی طرح کمپیوٹرکا یہ دماغ پروسیسر کمپیوٹر سے منسلک تمام Devices کیلئے ایک مخصوص لائین مختص کرتا ہے جس کے ذریعہ Devices اپنے ضروریات پروسیسر تک پہنچاتے ہیں اور پروسیسر ان Devices کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ پروسیسر اور کسی بھی ہارڈویر ڈیوائس کے درمیان ربط کو سمجھنے کیلئے Keyboard کی مثال پیش کی جا رہی ہے۔ یہ تو آپ نے ضرور مشاہدہ کیا ہو گا کہ کس طرح جب ایک ٹائپسٹ جب کی بورڈ پر اپنے ہاتھ چلاتا ہے اسی رفتار سے تمام حروف کمپیوٹر اسکرین پر تحریر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ کی بورڈ کو اپنے احکامات جمع کرنے کیلئے کوئی مخصوص جگہ میموری مہیا نہیں رہتی۔ وہ راست پروسیسر سے رابطہ قائم کرتا ہے اور اسی رفتار سے پروسیسر ان ضروریات کی تکمیل کرتا ہے۔

پروسیسر چونکہ کی بورڈ کو رابطہ کیلئے ایک مخصوص لائن فراہم کر دیتا ہے جس کی وجہ سے یہ ٹائیپنگ کا عمل اس انداز میں مکمل ہوتا ہے۔ آپ کمپیوٹر کی دماغی کیفیت کا اندازہ کریں کہ پروسیسیر کو اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ کی بورڈ کے ذریعہ صارف کچھ احکامات جاری کر رہا ہے جس کے ردعمل میں پروسیسر ان احکامات کی تعمیل کرتا ہے۔ اس کی مزید گہرائی میں اگر ریسرچ کی جائے تو بہت کچھ ایسی معلومات میسر آئیں گی جنہیں مجھ جیسے عام دماغ والے لوگ سمجھ نہیں پائیں گے۔اب آپ یہ دیکھیں کہ کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کیلئے کیسے طریقے سے طرح طرح کے مصائب اور مشکلات پیدا کی جاتی ہیں۔ منفی سوچ رکھنے والے حضرات عرصہ دراز سے اس کے استعمال میں ’’وائرس‘‘ کی صورت میں رکاوٹیں ڈالنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ قریباً تیس برس قبل ہی فریڈ کوہن نے باضابطہ درج ہونے والا پہلا کمپیوٹروائرس ڈیزائن کیا تھا۔ جبکہ یہ وائرس کمپیوٹر سیکیوریٹی کیلئے ایک تجربے کے طور پر بنایا گیا تھا۔ لیکن کچھ شرارتیں حضرات نے اسے غلط انداز سے بھی استعمال کیا اور کرتے آرہے ہیں۔ آج کل قریباً ساٹھ ہزار قسم کے وائرس موجود ہیں اور یہ اب کمپیوٹر استعمال کرنے والوں کیلئے ایک درد سر سے بڑھ کر مستقل مصیبت بن چکے ہیں۔ وائرس پروگرام لکھنے والے نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں اور آج کے ’’مہلک‘‘ ترین وائرس نئے شکار کی تلاش اور تباہی مچانے کیلئے انٹرنیٹ کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ فریڈ کوہن نے اپنا وائرس یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں پی ایچ ڈی کے حصول کے دوران بنایا تھا۔ اس سے قبل لوگوں نے خطرناک سافٹ وئیر پروگرام تیار کرنے کے امکانات پر لکھا ضرور تھا لیکن مسٹر کوہن وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اس پر عمل کر دکھایا۔ اپنی تخلیق کے بارے میں لکھے گئے ریسرچ پیپر میں انہوں نے وائرس کو کچھ یوں بیان کیا تھا۔ ’’ایک ایسا پروگرام جو دوسرے پروگراموں میں از خود خلل پیدا کر کے ان کی کارکردگی کو اپنے تابع بنا لیتا ہے۔‘‘ کمپیوٹر استعمال کرنے والے اداروں کو وائرس سے ہوشیار رہنے کی اشد ضرورت ہے۔

تجربات کے مراحل سے گزرتے ہوئے مسٹر کوہن نے دکھایا کہ کس طرح ان کا وائرس ایک گھنٹے سے بیک وقت میں کمپیوٹر کے کسی بھی حصے تک پہنچ سکتا ہے۔ اس عمل میں تو صرف پانچ منٹ صرف ہوئے۔ فریڈکوہن نے اپنے تجربوں کے نتائج 1983 ء میں ایک سیکیوریٹی سیمینار میں پیش کئے۔ کوہن کے تخلیق کردہ وائرس سے کمپیوٹر حلقے تشویش کا شکار ہو گئے اور مزید تجربوں پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن تیر کمان سے نکل جائے تو واپس کبھی نہیں آیا کرتا۔ کوہن نے اس کے بعد ایک چھوٹے وائرس کا مظاہرہ کیا جو دوسرے کمپیوٹر نظاموں پر بھی اثر انداز ہو سکتا تھا۔ اپنے ریسرچ پیپر میں کوہن نے کچھ اس طرح پیشن گوئی کی کہ یہ وائرس کمپیوٹر نیٹ ورکس میں ٹھیک اسی طرح پھیل سکتے ہیں جیسے کسی ایک کمپیوٹر میں۔ اس لئے ان سے کئی موجودہ نظاموں کو وسیع اور فوری خطرہ بھی لاحق ہو سکتا ہے ۔ کوہن کے ایجاد کردہ اس تاریخ ساز تخلیق کے بعد ایسے ایسے وائرس نمودار ہونے لگے جو آئی بی ایم پی سی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

ایک انڈین مضمون نگار کے مطابق اس کے بعد ’’برین‘‘ نامی پہلا وائرس دو نوجوانوں امجد اور باسط علوی نے 1986 ء میں بنایا۔ یہ بھی تیزی سے ایک کمپیوٹر سے دوسرے کمپیوٹر تک پھیل سکتا تھا۔ برین کے طرز پر دوسرے وائرس بہت جلد نمودار ہونے لگے جنمیں یروشلم، کیسکیڈ اور میامی قابل ذکر ہیں۔ یہ سارے وائرس پی سی استعمال کرنے والوں کو متاثر کرنے لگے اور فلاپی ڈسک کے ذریعہ ایک کمپیوٹر سے دوسرے تک پھیلنے لگے۔ 1992 ء میں مائیکل ایجلو نامی وائرس نے دنیا کے ذرائع ابلاغ کی توجہ اپنی انب مرکوز کرائی، لیکن یہ اتنا نقصان نہیں کر پایا جتنا اس کے بارے میں کہا گیا تھا۔ ونڈوز کے پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ نئے قسم کے وائرس بھی ابھرنے لگے۔ مائیکرو سافٹ ورڈ میں ایک خاص صلاحیت کا استعمال کرنے والے وائرسوں کی تو بارش سی ہونے لگی ، انہیں ’’میکرو‘‘ وائرس کہا گیا اور یہ اس لئے زیادہ تیزی سے پھیلنے لگے کیونکہ سافٹ ویر پروگراموں کے مقابلے میں لوگ ورڈ ڈاکیومنٹس یا تحریروں کا زیادہ تبادلہ کرتے ہیں۔ ونڈوز میں متواتر بدیلیوں کے ساتھ ساتھ وائرس بنانے والے اپنے ’’جراثیم‘‘ کو بھی نئی ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرتے آرہے ہیں۔ اسی طرح مثبت دماغی سوچ رکھنے والے بھی جدید سے جدید سائنسی کمالات کے جوہر دکھاتے آرہے ہیں۔

چند برس قبل ایک انڈین میگزین میں مضمون شائع ہوا جس کا عنوان ’’سیمولیشن آف دی فارمیشن ایولوشن اینڈ کلسٹرنگ آف گلیکسیز اینڈ کواسارس‘‘ اس مضمون کو 17 سائنس دانوں نے تحریر کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے مزید نئی دریافت کر لی ہے۔ اس یورپی ٹیم کے سربراہ ڈرہم یونیورسٹی کے پروفیسرکارلوس فرینک تھے۔ انہوں نے کائنات کا ایک ایسا کمپیوٹر ماڈل تیار کیا اور یہ کوئی آسان کام نہیں کیونکہ انہوں نے ’’بگ بینگ‘‘ سے لیکر اب تک کھربوں اجسام کی نقل و حرکت کا پتہ لگایا تھا۔ یہ کمپیوٹر کی بڑھتی ہوئی رفتار اور اس کی میمتوری اور پروسیسنگ کی اعلیٰ اہلیت اور سافٹ وئیر کی بڑھتی ہوئی باریکیوں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ اس ٹیم نے بیس سال صرف کر کے ملینیم سیمولیشن تیار کی ہے۔ تو کہنے کامطلب یہ ہے کہ جوں جوں دور گزرتا جائے گا کمپیوٹر میں جدت آتی جا رہی ہے۔ کیونکہ جوں جوں قیامت نزدیک آتی جائے گی زمین اپنے راز اگلتی جائے گی اور لوگ سائنسدانوں کے کمالات سے استفادہ حاصل کرتے رہیں گے۔ اب جبکہ کمپیوٹر میں انٹرنیٹ پر اسلام دشمن قوتوں کی سازشوں کے باعث مسلمانوں میں فحاشی و عریانیت بھی پھیلائی جا رہی ہے۔ نسل نو کو اس سے بچنا ہو گا۔ اپنے ایمان کے چراغوں کو روشن کرنا ہو گا۔ جب انٹرنیٹ پر بیٹھیں تو یہ سوچ کر بیٹھیں کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے‘ اور کل کو ہمیں اس کا جواب دا بھی ہونا ہے۔ باطل کی سازشوں کو ناکام و نامراد کرکے وطن عزیز پاکستان کی ترقی کیلئے اپنی سوچوں کو مثبت رکھیں۔ اپنی آنکھوں کو فحاشی کے گناہوں سے بچاتے رہیں۔ بے شک وطن عزیز میں بھی اعلیٰ ترین قابلیت رکھنے والوں کی کمی نہیں حکومت وقت کو بے روزگاری کے ساتھ ساتھ ذہین طالب علموں اور دیانت دار قابل لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے تاکہ وطن عزیز بھی وقت کے ساتھ زینہ بہ زینہ ترقی کی منزل کی طرف بڑھ سکے۔ کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ کامیابی کیلئے صحیح منصوبہ بندی کرنا آج کے دور کا سب سے بڑا فلسفہ ہے۔ مواقع ہمیشہ زندگی کے ہر موڑ پر آواز دیتے ہیں اس آواز کو سننے کیلئے حکومت کو اپنے کانوں سننے کے قابل بنائے۔ حکومت کے ذمہ دار افراد کی آنکھیں اس قابل ہونی چاہئے کہ وہ باصلاحیت افراد کی پہچان کر کے ان کی حوصلہ افزائی کر سکیں۔ وطن عزیز کو ایسے نونہالوں کی اشد ضرورت ہے جو سائنس و ٹیکنالوجی سے دلچسپی رکھتے ہوں۔ حکومت وقت کو چاہئے تبدیلی کا جو نعرہ لگایا ہے اس میں غریب گھرانوں کے طالب علموں کو ترجیح بنیادوں پر سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں آسانی فراہم کریں۔ ایسے ذہین اور غریب نونہالوں کو حکومت اپنے خرچ پر تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے۔ ان شا اللہ کل کو یہی نوجوان وطن عزیز کی تیز رفتار ترقی کا سبب بنیں گے۔ بے شک ایسے ہو نہار نوجوانوں پر وطن عزیز کو فخر ہے۔ حکومت کو،کسی بھی اخبار کی مثبت تنقید پر ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے اور معاشرہ میں فحاشی و عریانی پھیلانے والوں کا محاسبہ کر کے وطن عزیز کے اسلامی تشخص کو داغدار ہونے سے بچانا چاہئے۔ آپ دیکھیں دنیا چاند سے مریخ تک پہنچ چکی ہے اور ہم آج تک آپس کے لڑائی جھگڑوں سے باہر نہیں نکل سکے۔ اللہ تعالیٰ وطن عزیز کو دشمن کی سازشوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...