شیراور کسان کی کہانی

شیراور کسان کی کہانی

ایک دن ایک کسان اپنے دو بیلوں کے ساتھ کھیت میں ہل چلا رہا تھا۔ پیچھے سے کسی نے زور دار آواز میں پوچھا کیا حال ہے۔ کسان نے پلٹ کر دیکھا تو ایک شیر کھڑا تھا۔ کسان بابا آپ کے بیل کھانے آیا ہوں، جلدی سے اپنے دونوں بیل ہل سے الگ کر کے میرے حوالے کر دیجیے یہ کہہ کر شیر اپنے ناخن اور دانت تیز کرنے لگا۔ کسان پہلے تو بہت ڈرا، مگر پھر ہمت کر کے بولا۔ جناب میں ان بیلوں سے کھیت میں ہل چلانے کا کام لے رہا ہوں۔ شیر میں آپ کے لئے یہ کرسکتا ہوں کہ گھر جا کر اپنی بیوی کی گائے آپ کے لئے لادوں۔ گائے کے بدلے میرے بیلوں کی جان بخش دیجیے۔ شیر کسان کی بات مان گیا، اِدھر کسان نے گھر جا کر اپنی بیوی کو سارا ماجرا سنایا۔ کسان کی بیوی بہت غصہ سے بولی گائے نہ ہو گی تو دودھ کہاں سے ملے گا، وہ چلائی تم تو بیوقوف ہو اچھا خیر تم جاؤ اور شیر سے کہو کہ گائے میرے ساتھ نہیں آئی۔ میری بیوی اسے لے کر آئے گی۔ بے چارہ کسان ڈرتے ڈرتے شیر کے پاس پہنچا اور اپنی بیوی کی بتائی ہوئی بات اس سے کہی، اس دوران کسان کی بیوی نے جلدی سے اپنے میاں کے کپڑے پہنے اور سر پر پگڑی خوب اونچی کر کے باندھی، تاکہ لمبی نظر آسکے اس حلیے میں وہ گھوڑے پر سوار ہوئی اور کھیت کی طرف چل پڑی، جہاں شیر بے چینی سے اس کا انتظار کر رہاتھا، جب اسے دور کھڑا شیر دکھائی دیا تو کسان کی بیوی زور زور سے بولنے لگی۔ یااللہ! مجھے ایک موٹا تازہ شیر بھیج دے کل ناشتے پر جو دو شیرکھائے تھے،اس کے بعد میں نے اب تک شیر کا گوشت نہیں دیکھا۔ جب یہ الفاظ شیر کے کان میں پڑے اور اس نے ایک گھوڑا سوار کو اپنی طرف تیزی سے بڑھتے دیکھا تو شیر کی ساری آکڑ ہوا ہوگئی اور وہ الٹے پاؤں جنگل کی طرف بھاگا۔ راستے میں اسے گیدڑ ملا جو ہر شکار میں شیر کے ساتھ ساتھ رہتا تھا، تاکہ بچاکھچا شکار اسے مل جائے۔ گیدڑ نے شیر کو یوں بد حواسی سے بھاگتے دیکھا تو پوچھا بادشاہ سلامت آپ کہاں بھاگے جا رہے ہیں۔ شیر نے جواب دیا گھوڑے پر سوار ایک دیو میرا تعاقب کر رہا ہے۔ اسے شیرکا گوشت کھانے کی عادت ہے۔ گیدڑ جو اب شیر کے ساتھ ساتھ دوڑ رہا تھا۔ یہ سن کر چپکے چپکے خوب ہنسا اور شیر سے بولا جناب وہ دیو نہیں بلکہ کسان کی چالاک بیوی ہے، جس نے آپ کے بھولے پن کا فائدہ اٹھایا ہے۔ آپ نے گھبراہٹ میں اس کی چوٹی نہیں دیکھی جو پگڑی میں سے نکلی نظر آتی تھی۔ چلیے چل کر اس کا کام تمام کر دیں۔ تم مجھے پھنسوا کر خود بھاگ جاؤ گے۔ شیر نے کہا اصل میں شیر کو گیدڑ پر بالکل بھروسہ نہیں تھا۔ وہ جانتا تھا کہ گیدڑ بہت مطلبی ہے۔ اپنے سب سے اچھے دوست کو بھی پھنسوا سکتا تھا۔ مگر اس دفعہ تو گیدڑ سچ بول رہا تھا۔ وہ شیر سے بولا اچھا چلیے ہم اپنی دْم ایک دوسرے کے ساتھ باندھ لیتے ہیں۔ پھر تو میں بھاگ نہیں سکوں گا۔ ہم اکٹھے اس چالاک عورت سے چل کر بات کریں گے۔

شیر کو مشکل سے راضی کر کے گیدڑ نے اپنی دْم کے ساتھ باندھ لی اور دونوں کھیت کی طرف چلے کھیت میں کسان کی بیوی شیر کا مذاق اڑا رہی تھی اور دونوں میاں بیوی شیر کی بزدلی پر خوب ہنس رہے تھے۔اچانک شیر اور گیدڑ نظر آئے شیر کو دوبارہ آتے دیکھ کر کسان کے چھکے چھوٹ گئے۔ ارے بھاگو اب تو یہ ہمیں ضرور مار ڈالے گا وہ چلایا، چپ رہو کسان کی بیوی نے کہا بولی شور مچا کر تم سارا کھیل بگاڑ دو گے جب شیر اور گیدڑ ذرا قریب آئے تو کسان کی بیوی بہت خوش ہو کر گیدڑ سے بولی گیدڑ میاں جیتے رہو تم میرے کھانے کے لئے ایک شیر لے ہی آئے، جب میں اسے کھا چکوں تو جو بچ جائے تم کھا لینا یہی تمہاری عادت ہے۔ یہ الفاظ شیر کے لئے بم کا گولا تھے، وہ تو بھاگا جیسے زندگی میں کبھی نہیں بھاگا تھا۔ اس کی دم سے بندھا ہوا گیدڑ اتنا تیز نہیں بھاگ سکتا تھا وہ زمین پر پڑے ہوئے نوک دار پتھروں پر اور کانٹے دار جھاڑیوں میں گھسٹتا چلا گیا اس نے دم توڑ دیا وہ دن اور آج کا دن شیر نے کبھی کسان کے کھیت کا رخ نہیں کیا ۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...