زرعی پانی کی قلت، پیداوار میں کمی اور مناسب قیمت نہ ملنے پرعمرکوٹ کے پیاز کے کاشتکار پریشان

زرعی پانی کی قلت، پیداوار میں کمی اور مناسب قیمت نہ ملنے پرعمرکوٹ کے پیاز کے ...
زرعی پانی کی قلت، پیداوار میں کمی اور مناسب قیمت نہ ملنے پرعمرکوٹ کے پیاز کے کاشتکار پریشان

  


عمرکوٹ(سید ریحان شبیر)   عمرکوٹ ضلع بھر میں   زرعی پانی کی شدید  قلت کے باعث فصلوں کی  پیداوار میں کمی اور مناسب قیمتیں  نہ ملنے کے باعث پیاز کے کاشتکار پریشان اور مشکلات کاشکارہے ضلع عمرکوٹ میں رواں سال زرعی پانی کی شدید قلت کے باعث نئی  پیاز کی فصل میں پچاس بوری فی ایکڑ تک کمی آئی ہے گزشتہ سال پیاز کی فی ایکڑ پیداوار 80 سے 85 بوریاں تھیں جو رواں سال زرعی پانی کی قلت کےسبب 30 سے 35 بوریاں فی ایکڑ ہو گئی ہے .

مختلف  کاشتکاروں  نے میڈیا کو بتایا کہ علاقے میں جاری زرعی پانی کی مسلسل قلت کی وجہ سے  گزشتہ سال کی بہ نسبت رواں سال پیاز کی فی ایکڑ پیداوار میں دو حصے کمی آئی ہے۔جبکہ قیمت بھی نہ ہونے کے برابر ہے گزشتہ سال پیاز کی فی من (40 کلو گرام) قیمت 1600 سو سے 1800 سو روپے تھی جو رواں سال 250 سو روپے  سے 500 سو روپے فی من ہےپیاز کے فی ایکڑ پر 60ہزار روپے تک کہ اخراجات آتے ہیں  جبکہ مقامی بیوپاری کاشتکاروں سے 800 سو روپے میں 125 کلو کی بوری کی خریداری کر رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے کاشتکاروں کو شدید نقصان کا سامنا ہے اور وہ پیاز کی فصل تیار ہونے کے باوجود پیاز زمین سے نہیں نکال رہے.

پیاز کے ایک  بیوپاری  نے بتایا کہ کراچی منڈی میں روزانہ  کوئٹہ ٹنڈہ الہیارمیرپورخاص اور عمرکوٹ سے 200 سے 250 گاڑی پیاز کی جارہی ہیں  عام پیاز 250 سو روپے سے 300 سو روپے فی من میں فروخت ہو رہا ہے جبکہ ایکسپورٹ کوالٹی کا پیاز 400 سو روپے فی من میں فروخت ہو رہاہے  زرعی پیداوار کی برامدگی کے حوالے سےحکومت کی بہتر پالیسی نہ ہونے کے سبب بیرون ممالک  پیاز کی ایکسپورٹ نہ ھونے کے برابر ہے جسکی طرف توجہ دی جائے ۔

عمرکوٹ کے پیاز کاشتکاروں اور بیوپاریوں نے حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کاشتکاروں کو نقصان اور معاشی بحران سے نکالنے کے لیٸےکھاد زرعی ادویات وغیرہ پر سبسڈی دی جائے تاکہ ہمارے گھروں کے چولہے جل سکیں اور زندگی کاگذر بسرہوسکے.

مزید : علاقائی /سندھ /عمرکوٹ


loading...