اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 106

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 106

  

گنگو نے ایک گہری مشکوک سی نگاہ مجھ پر ڈالی اور پھر ہاتھ باندھ کر کہا۔ ’’مہاراج! بڑے پنڈت جی ہی جانتے ہیں کہ ان سپاہیوں کو کہاں رکھا گیا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر گنگو چلا گیا۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ اس معمولی سے سوال پہ پروہت نے میرے سوال پر اتنی گہری نگاہ کیوں ڈالی تھی؟ نیند تو ظاہر ہے مجھے نہ آنی تھی نہ آتی تھی اور نہ آئی۔ میں بستر پر لیٹا جاگتا رہا۔ میں نے دیا گل کردیا تھا۔ کوٹھری میں اندھیرا تھا۔ بائیں طرف ایک روشن دان تھا جس میں سلاخیں لگی تھیں۔ اس روشن دان سے ستااروں بھری رات کی ہلکی فیروزی روشنی اندر آرہی تھی۔ آدھی رات کے بعد مجھے باہر کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دی۔ کوئی میری کوٹھری کے آگے سے دبے پاؤں گزرگیا تھا۔ میں ہمہ تن گوش ہوگیا۔ اس کے بعد کوئی آواز نہ آئی۔ میں سوچنے لگا آدھی رات کے بعد یہ کون ادھر سے گزرا ہوگا۔ اپنے شک کو رفع کرنے کے لئے میں بستر پر سے اٹھا اور دبے پاؤں کوٹھری سے باہر آیا۔ ہال کمرے میں اندھیرا تھا۔ مندر کے پنڈت کی کوٹھری بالکل سامنے استھان کے عقب میں تھی۔ اس کے بند دروازے کی دہلیز میں سے چراغ کی دھندلی روشنی باہر آرہی تھی۔ میں برآمدے کی دیوار سے لگ کر چلتا ہوا پنڈت کی کوٹھری کے بند دروازے کے پاس آکر رک گیا۔ اندر سے دو آدمیوں کے باتیں کرنے کی آواز آرہی تھی۔ میں نے آوازیں پہچان لیں۔ گنگو اور پنڈت آپس میں باتیں کررہے تھے۔ گنگو کہہ رہا تھا۔ ’’مہاراج! یہ شخص مجھے گندھیرو کے روپ میں کوئی چالاک شعبدہ باز لگتا ہے۔ مجھے شک ہے کہ یہ مسلمان لڑکی کو اُڑا کر لے جائے گا۔ جب میں دودھ لے کر گیا تو مجھ سے سپاہیوں کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔‘‘

پنڈت کی آواز آئی ’’اگر ایسی بات ہے تو کیوں نہ ابھی سے اسے قتل کرادیا جائے۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 105 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

گنگو نے کہا ’’مہاراج! اس پر مقدس سانپ کے زہر کا اثر نہیں ہوا ہے۔ یہ تو کوئی جادوگر ہے۔ ہوسکتا ہے سپاہیوں کی تلواریں بھی اس پر اثر نہ کریں اور وہ جادو کے زور سے غائب ہوجائے۔‘‘

’’پھر تم مجھے کیا مشورہ دیتے ہو؟‘‘ پنڈت نے پوچھا

گنگو نے جواب میں کہا ’’مہاراج! میری رائے میں ہمیں مسلمان لڑکی کو ابھی اس وقت یہاں سے نکال کر کسی دوسری جگہ پہنچا دینا چاہیے۔ صبح ہم مشہور کردیں گے کہ لڑکی فرار ہوگئی ہے۔‘‘

’’تمہاری رائے معقول ہے۔ تم ایسا کرو کہ ابھی تہہ خانے میں اپنے ساتھ دو سپاہی لے کر جاؤ اور لڑکی کو وہاں سے نکال کر مندر کی چھت والے برج کی اندھیری کوٹھری میں بند کردو۔‘‘

’’جو حکم مہاراج‘‘

’’اور سنو۔ لڑکی کا منہ ضرور کپڑے سے باندھ دینا۔‘‘

میں نے یہ سنا تو تیزی سے وہاں سے ہٹ آیا اور اپنی کوٹھری میں دروازے کے پیچھے لگ کر تکنے لگا۔ گنگو پنڈت کی کوٹھری سے نکل کر تیز تیز قدموں سے ایک طرف اندھیرے میں غائب ہوگیا میں کچھ سوچ کر اپنے بستر پر آکر لیٹ گیا۔

دن چڑھا تو پنڈت بھاگا بھاگا میرے پاس آیا اور بناوٹی پریشانی کے عالم میں بولا کہ مسلمان لڑکی فرارہوگئی ہے۔ گنگو بھی اس کے ساتھ تھا۔ دونوں مصنوعی طور پر گھبرائے ہوئے تھے۔ مجھے تو معلوم ہی تھا کہ انہوں نے شہزادی کو کس جگہ چھپادیا ہے۔ چنانچہ میں نے بڑے سکون سے آنکھیں بند کرلیں اور کہا ’’دیوتاؤں کو اگر یہی منظو رتھا تو ہم کچھ نہیں کرسکتے۔‘‘

پنڈت بولا ’’مہاراج! اب دیوتا سومنات کی قربانی کا کیا ہوگا؟‘‘

میں نے کہا ’’ہمیں ایک اور مسلمان لڑکی پکڑ کر لانی ہوگی۔ مگر کیا تمہارے سپاہی کوٹھری کے باہر پہرہ نہیں دے رہے تھے۔؟‘‘

پنڈت نے کہا ’’سپاہی اس وقت سورہے تھے کہ لڑکی روشن دان توڑ کر باہر نکل گئی اور سرنگ کے راستے فرار ہوگئی۔‘‘

میں نے آنکھیں کھول دیں اور پنڈت سے کہا ’’مجھے آج سارا دن مندر کی چھت پر دریا کی طرف منہ کرکے بیٹھ کر تپسیا کرنی ہوگی۔ پھر میں تمہیں بتاسکوں گا کہ مسلمان لڑکی فرار ہوکر کہاں گئی ہے؟‘‘

اب پنڈت گھبرایا۔ کہنے لگا ’’مہاراج! آپ کو زحمت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہم کوئی دوسری مسلمان لڑکی پکڑلائیں گے۔‘‘

میں نے کہا ’’وہ تمہاری مرضی ہے لیکن میں ریاضت کرنے کو تیار ہوں۔‘‘

’’نہیں مہاراج! آپ تکلیف نہ اٹھائیں۔ ہم بہت جلد گوالیار کے قلعے سے کسی دوسری مسلمان لڑکی کو اغوا کرکے لے آئیں گے۔ ہمارے لئے یہ کوئی مشکل بات نہیں۔‘‘

میں جان بوجھ کر خاموش ہوگیا۔ میں سارا دن مندر کے بڑے کمرے میں استھان کے پتھر کے آگے بیٹھ کر جھوٹ موٹ عبادت کرتا رہا۔ میں رات کی تاریکی چھا جانے کا انتظار کررہا تھا۔ میرا منصوبہ اسی رات شہزادی شگفتہ کو وہاں سے نکال کر لے جانے کا تھا۔ میں نے پنڈت سے باتوں ہی باتوں میں معلوم کرلیا تھا کہ چاروں سپاہی رات کو مندر کی ڈیوڑھی میں پہرہ دیتے ہیں جہاں ان کے گھوڑے بندھے ہوئے ہیں۔ اسی دوران میں مجھے اس بات کا بھی شک پڑگیا تھا کہ پنڈت آج رات شہزادی شگفتہ کو برج والی کوٹھری سے نکال کر اپنی کوٹھری میں لانے کا پروگرام بنا چکا ہے۔ اس لئے میں عمداً استھان کے پاس ایسی جگہ بیٹھا تھا جہاں سے مجھے اوپر چھت پر جاتی سیڑھیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ مجھے خوب معلوم تھا کہ چھت پر جانے کا صرف یہی ایک زینہ ہے۔

شام کو میں نے اپنی ریاضت کی صف لپیٹ دی اور دریا کا نظارہ کرنے کے بہانے اوپر چھت پر چلا گیا۔ سورج دور مغربی پہاڑیوں کے پیچھے غائب ہورہا تھا اور مندر کے نیچے۔۔۔ بہتے ہوئے دریا میں اس کی سرخ کرنوں نے آگ سی لگارکھی تھی۔ میری نظریں دور کرنے والے برج کو بھی دیکھ رہی تھیں۔ جس کی کوٹھری کے بند دروازے پر تالا پڑا تھا۔ شہزادی شگفتہ اسی کوٹھری میں قید تھی۔ مجھے اوپر جاتا دیکھ کر گنگو بھی اوپر آگیا اور میرے پاس ہاتھ باندھ کر کھڑا ہوگیا اور بولا ’’مہاراج! کبھی اس چھت پر پوجا کے لئے آنے والی خوبصورت ہندو عورتوں کا جھمگٹھا لگا کرتا تھا جو دریا کے دیوتا کے بھجن گایا کرتی تھیں۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا

’’گنگو وہ وقت پھر آجائے گا۔ فکر مت کرو۔ دیوتا شنکر ہماری مدد کو خود نیچے آرہے ہیں۔‘‘

پھر جب رات کا اندھیرا بڑھنے لگا تو میں چھت سے اتر آیا۔ گنگو بھی میرے ساتھ ہی نیچے آگیا۔ میں نے گنگو سے کہا ’’پنڈت سے کہو کہ ایک گھنٹے بعد ہم بھوجن اس کی کوٹھری میں کریں گے۔‘‘

’’جو حکم مہاراج!‘‘ یہ کہہ کر گنگو پنڈت کی کوٹھری کی طرف چلا گیا۔ ڈیوڑھی میں آکر میں نے دیکھا کہ ایک سپاہی چل پھر کر پہرہ دے رہا تھا۔ باقی تینوں سپاہی ڈیوڑھی کی کوٹھڑی کے اندر بیٹھے تھے۔ چراغ چل رہا تھا۔ جو سپاہی پہرہ دے رہا تھا میں نے اسے ایک طرف بلا کر کہا کہ اسے پنڈت جی مہاراج نے بلایا ہے۔ اس نے نیزہ وہیں دیوار کے ساتھ لگادیا اور خود زینہ چڑھ کر اوپر جانے لگا۔ میں نے پیچھے سے اس کی گردن پر پوری طاقت سے ایک ہاتھ مارا۔ اس کی گردن ٹوٹ کر لٹک گئی اور وہ زیرے پر لڑھک گیا۔ میں نے اسے گھسیٹ کر دروازے کے پیچھے ڈالا اور ڈیوڑھی میں آکر اس کے ساتھیوں کے پاس کوٹھری میں گیا۔ میں نے دیکھ لیا تھا کہ ان میں سے کسی کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ ان کے تیر کمان، نیزے اور تلواریں کونے میں پڑی تھیں۔ وہ حیران ہوکر مجھے دیکھنے لگے۔ ایک نے پوچھا ’’مہاراج آپ کیسے آئے ہیں‘‘ میں نے کہا کہ ڈیوڑھی میں سانپ نکل آیا ہے۔ اسے ہلاک کرو تاکہ میں پوجا پاٹھ کے لئے اوپر جاسکوں۔ تینوں سپاہی بڑی سعادت مندی کے ساتھ کوٹھری سے باہر نکل کر ڈیوڑھی میں مشعل جلا کر سانپ کو ڈھونڈنے لگے۔ انہوں نے تلواریں پکڑ رکھی تھیں۔ اس دوران میں مَیں نے کونے میں رکھی چاروں کمانوں کی رسیاں کاٹ ڈالیں۔ مجھے ان کمانوں سے ہی خطرہ تھا۔ ان کمانوں سے نکلا ہوا تیر شہزادی شگفتہ کو دور سے بھی ہلاک کرسکتا تھا۔

جب انہیں سانپ کہیں نہ ملا تو میں نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سانپ باہر بھاگ گیا ہوگا۔ میں جاتا ہوں۔ ایک نے پوچھا ہمارا ساتھی جو یہاں پہرہ دے رہا تھا وہ کہاں گیا ہے؟ میں نے جلدی سے جواب دیا کہ اسے پنڈت جی نے بلایا تھا۔ وہ ابھی ابھی اوپر گیا ہے۔ تینوں کوٹھری میں چلے گئے۔ میرے لئے اب میدان صاف تھا۔ مجھے سپاہیوں کے تیروں کا جو خطرہ تھا اب وہ خطرہ دور ہوچکاتھا۔ ایک بات کی ناکامی ضرور ہو ئی تھی کہ میں گھوڑے حاصل کرنے اور انہیں ڈیوڑھی سے نکال کر کسی محفوظ جگہ پر چھپادینے میں کامیاب نہیں ہوسکا تھا لیکن اب میں ان کاموں میں نہیں پڑنا چاہتا تھا کیونکہ وقت گزرتا چلاجارہا تھا اور عین ممکن تھا کہ بدخصلت پنڈت برج والی کوٹھری میں حملہ کرنے ہی والا ہو۔(جاری ہے )

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 107 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار