ٹرمینل آپریٹرز ایف سی ایل، ایل سی ایل کے نرخ مشتہر کریں، آغا شہاب

ٹرمینل آپریٹرز ایف سی ایل، ایل سی ایل کے نرخ مشتہر کریں، آغا شہاب

  



کراچی (این این آئی)کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(کے سی سی آئی) کے صدر آغا شہاب احمد خان نے درآمدکنندگان کی جانب سے چیمبر کو موصول ہونے والی مختلف شکایات کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمینل آپریٹرز پر زور دیا ہے کہ وہ تجارت وصنعت کی سہولت کے لیے اپنی ویب سائٹ پر فل کنٹینر لوڈ(ایف سی ایل) اور لیس دین کنٹینر لوڈ (ایل سی ایل) کے چارجز مشتہر کریں۔انہوں نے کہاکہ یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ ٹرمینل آپریٹرز اور شپنگ ایجنٹس چارجز کی تفصیلات مانگنے پر بھی فراہم نہیں کرتے اور من مانی کرتے ہوئے مجموعی رقم وصول کی جاتی ہے جو کہ انتہائی غیر منصفانہ ہے کیونکہ متعلقہ تاجر اس سے لاعلم ہوتے ہیں کہ کس لیبل کے تحت کیا چارج کیا گیاہے۔ ایسی معلومات کی رسائی درآمدکنندگان کابنیادی حق اور جائز مطالبہ ہے جو قانونی طریقے سے کاروبار کررہے ہیں اوربروقت اپنے تمام ٹیکس ادا کررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ وزارت بحری امور اس مسئلے پر لازمی طور پر توجہ دے اور ٹرمینل آپریٹرز و شپنگ ایجنٹس کو چارجز کی تفصیلات درآمدکنندگان کو فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں جس کی تاجربرادری یقینی طور پر تعریف کرے گی۔آغا شہاب نے کہاکہ پاکستان کی بندرگاہ کے چارجز جنوبی ایشیائی خطے میں سب سے زیادہ ہیں جن کی وجہ سے اہم شپنگ لائنز کو پاکستان سے کارگو لے جانے کی حوصلہ شکنی ہورہی ہے جس کے نتیجے میں تاجروں کے لیے طلب ورسد کے فرق کی وجہ سے نقل وحمل کے زیادہ اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔

اس سے پہلے کیے گئے مطالعے کے مطابق کراچی کی دونوں بندرگاہوں کے چارجز سری لنکا سے3گنا اور سنگاپور کے مقابلے میں 7 گنا زیادہ ہیں۔ اگر ہم پاکستان کو تیزی سے علاقائی تجارت کا مرکز دیکھنا چاہتے ہیں تو ایسے مسائل پر جلد سے جلد توجہ دینا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ تاجربرادری کو شپنگ کمپنیوں کے چارجز کے حوالے سے تضاد کا سامنا ہے جس سے تاجروں کے لیے لاگت اور پیش گوئی کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔شپنگ لائنز آزاد مسابقتی نرخوں (free competitive rates) اور لوز کارگو ڈلیوری آرڈرز (loose cargo landing delivery orders)کے نام پر بے انتہا چارجز لیتے ہیں۔علاوہ ازیں بندرگاہ چارجز بھی زیادہ وصول کیے جارہے ہیں کیونکہ اس حوالے سے کوئی پالیسی مقررنہیں ہے جو مالی لحاظ سے کاروبار کو متاثر کرتا ہے جس سے  تاجربرادری پر منفی اثر پڑتا ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ کے آئی سی ٹی، پی آئی سی ٹی اور کیو آئی سی ٹی کے چارجز بہت زیادہ ہیں جسے عالمی معیارات کے مطابق کم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ ڈلیوری آرڈر کے چھوٹ کے دنوں کا وقت اور کنٹینر کے ڈی ٹینشن چارجز کو 21دنوں تک بڑھانے کی ضرورت ہے اور شپنگ کمپنیوں کی جانب سے ڈی ٹینشن سلیب 21دنوں کے بعد 5 ڈالر یومیہ سے زائد نہیں ہونے چاہیے جبکہ ڈیمرج کے چھوٹ کے دنوں کو بھی تقریباً10دن تک بڑھایا جانا چاہیے۔

مزید : کامرس


loading...