دو سال کے دوران چین کو زیادہ مقدار میں شوگر برآمد کی جائے گی:پاکستانی سفیر

  دو سال کے دوران چین کو زیادہ مقدار میں شوگر برآمد کی جائے گی:پاکستانی سفیر

  



اسلام آباد (اے پی پی) چین میں پاکستان کی سفیر نغمانہ عالمگیر ہاشمی نے کہا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کیساتھ ہی سی پیک کے دوسرے مرحلے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ہفتہ کو چائنا اکانومک نیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ پاکستان کے زرعی سیکٹر میں سرمای کاری اور ری۔ایکسپورٹ کی پے پناہ صلاحیت موجود ہے اور اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان زرعی سیکٹر میں تعاون کے حوالے سے معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک چین آذادانہ تجارتی معاہدہ جلد آپریشنل ہو گا،جس سے قیمتوں میں کمی آئیگی۔نغمانہ ہاشمی نے کہا کہ  پاکستان کے بعض روایتی  برآمدی اقسام چین میں بہت معروف ہیں،مثال کے طور پر پاکستان چین کو بڑی مقدار میں چاول برآمد کرتا ہے لیکن پاکستان کا سب سے مشہور باسمتی چاول چین میں زیادہ مقبول نہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں  چاول کی ایک دوسری قسم  جو چینی چاول اری۔6 کے زیادہ  قریب ہے اس قسم کے چاول کو چین برآمد کیا جا سکتا ہے۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے سفیر نے کہا کہ چین پاکستانی چینی زیادہ درآمد کرتا ہے۔پاکستانی کاشت کاروں،برآمد کنندگان اور شوگر میکرز  کیلئے  چینی ایک نئی پروڈکٹ ہے،جسے چائنیز مارکیٹ میں متعارف کرایا گیا ہے۔پاکستان  اگلے دو سال کے دوران زیادہ مقدار میں چینی برآمد کریگا۔ہاشمی نے کہا کہ پاکستان کاٹن پیدا کرنے والا بڑا  ملک ہے۔چین کے پاس بڑی ٹیکسٹائل انڈسٹری ہے، اس لئے پاکستانی یارن چین کو برآمد کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف اقسام کے قیمتی پتھر بھی پائے جاتے ہیں۔بلوچستان واحد دنیا میں واحد مقام ہے جہاں سنگ سلیمانی(اونیکس)پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان چین کو سونا کاپر بھی برآمد کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جم  ایک دوسرا شعبہ ہے جہاں پاکستان چین کیساتھ جوائنٹ ونچر کا خواہاں ہے۔

مزید : کامرس


loading...