تن سال قید تے بے شمار لتر

تن سال قید تے بے شمار لتر
تن سال قید تے بے شمار لتر

  



ہم نے تو سنا تھا مائیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں لیکن اب احساس ہوا سیاست میں اباّ بھی سانجھا ہوتا ہے۔جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ”پھڈوں“ سے بچا جائے کم از کم سیاسی جماعتیں اتنا تو سمجھ گئی ہیں۔مجھے سب سے زیادہ خوشی اپنے بڑے میاں صاحب پر ہے جنہوں نے ووٹ کو ایک بار پھر عزت دی،جمہوریت کی شاہرا ہ کے ہر نکڑ پر ایک یو ٹرن ضرور آتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ہمارے خان صاحب کے سفرمیں یو ٹرن زیادہ ہی آتے ہیں۔سنتا سنگھ رات کو قبرستان موٹر سائیکل چلاتا رہا،صبح اپنے دوست سے بولا یار رات سڑک تے بہت سپیڈ بریکر سی۔سیاست کے اندھیرے میں بھلا کچھ نظر آتا ہے۔ اقتدار تو ویسے ہی اندھا کر دیتا ہے۔پھر سپیڈ بریکر کیا اور یوٹرن کیا۔ ویسے بھی نچنا تے گھنڈوی کڈنا ممکن نہیں۔ آپ دیکھیں گے آرمی ایکٹ میں ترمیم کی منظوری کے بعد خانصاحب شیر سے ببر شیر بن جائیں گے۔ ترمیم اور حریم نے تو سب کو ایک حمام میں اکٹھا کر دیا بندہ حریم سے بچ سکتا ہے ترمیم سے نہیں۔ ہم تو شروع سے شور مچا رہے ہیں ہماری سیاسی جماعتیں اور سیاسی قیادت ایک ”پیج“ پر رہنا پسند کرتی ہیں۔ بس ”ایک پیج“ پر کبھی کسی کا نام پہلے آ جاتا ہے کبھی کسی کا۔جسکا نام اوپر آ جائے وہ بلھے کی ہوا میں چہچہاتے پکارتا ہے ”پھائی پھائی زور دی“ جبکہ نیچے رہ جانے والے کھیڈاں گے نہ کھڈاواں گے وچ پھسوڑی پاواں گے، ذوق اور شوق سے گنگناتے ہیں۔ سنتا سنگھ کو بزرگ ملے، بولے بول کیا مانگتا، سنتا بولا دولت، بزرگ نے پہاڑ کی طرف انگلی کی وہ سونے کا بن گیا۔ سنتا سنگھ بزرگ کے پیچھے پیچھے وہ بولے اب اور کیا چاہتا ہے۔ سنتا بولا ”ہور سونا“، انہوں نے اردگرد کے پہاڑوں پر انگلی کی سب سونے کے بن گئے۔ بزرگ چل پڑے سنتا سنگھ پھر پیچھے پیچھے وہ غصے سے بولے اب کیا چاہتا ہے۔ سنتا سنگھ بولا ”تہاڈی انگل“۔ قناعت ہمارے مزاج کا حصہ ہے نہ ہماری قیادت کے یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے اردگرد بکھری نعمتوں کو چھوڑ انگل کی تلاش میں رہتے ہیں۔قیادت کے گرد سونے جیسی عزت، سونے جیسی شہرت سونے جیسی عظمت سونے جیسے کارکن ہوتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ انگل کی تلاش میں لور لور پھرتے ”کھبے سجے“ ہو جاتے ہیں اور پھر وقت پڑتا ہے تو سونا ملتا ہے اور نہ انگل۔ ہمارے خان صاحب بہت خوش قسمت ہیں سونے جیسی کابینہ ملی ہے ایک سے ایک بڑا سونے کا پہاڑ ہے۔ ہمارے میاں صاحب تو خیر آلو گوشت کے شوقین تھے ہی وزیر اعظم عمران خان بھی ترمیم کے علاوہ آلو پھر گوشت کے حوالے سے میاں صاحب کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔ ان کا یہ گلہ بجا ہے جو انہوں نے اسد عمر کو کیا کہ اتنے مزیدار آلو گوشت تو وزیر اعظم ہاؤس میں بھی نہیں پکتا، ہماری اپنے محبوب قائد سے التماس ہے کہ وہ اس ملک کا نظام اور نصیب تو نہ بدل سکے برائے کرم وزیر اعظم ہاؤس کا باورچی ضرور بدل دیں جو خالص سچے تے کھرے سرکاری مال سے بھی اچھا آلو گوشت نہ پکا سکا۔

میرے سب سے پیارے فواد چوہدری آج کل بہت دھیمے انداز میں سلجھی سلجھی باتیں کر رہے ہیں، لیکن ان کی باتوں کے ”وچوں وچ“ مطلب پر غور کریں تو سمجھ آتی ہے کہ وہ اس نظام کو بچانے کے لئے دراصل ”بچ موڑ توں“ کہہ رہے ہیں، کیا فائدہ انقلاب کے چکر میں آپ کے کن تھلے وج جائے۔ عقلمند کو اشارہ اور فواد چوہدری کی حکمت بھری باتوں کا سہارا کافی، سواری اپنے سامان کی خود حفاظت کرے تو بہتر ہے۔ سنتا سنگھ کی محبوبہ بولیں تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو میری پروا کیوں نہیں کرتے، سنتا سنگھ بولا پاگل محبت کرنے والے کسی کی پروا نہیں کرتے۔ میرا یقین ہے کہ ہماری قیادت ہم سے سنتا سنگھ سے کم محبت نہیں کرتی۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنی مہنگائی بے برکتی نہیں دیکھی۔ کبھی ایک سو روپے کئی ہزار لگتے تھے۔ اب تو شادی پر ہزار کی سلامی دیتے بندہ ایویں شرمندہ شرمندہ محسوس کرتا ہے۔ ہزار سلامی دیتے لاڑے کو ایسے ”نیوی نگاہ“ سے لفافہ پکڑاتا ہے، جیسے اس کا کانا ہو۔ دادا جی بنتا سنگھ سے بولے پترا کبھی ہم دس روپے لیکر جاتے تھے اور دکان سے شاپروں میں سامان بھرلاتے تھے، بنتا سنگھ بولا باپو ہن مشکل اے، دکاناں تے سی سی ٹی وی کیمرے لگ گئے نے۔ روپیہ ایسا ٹکا ٹوکری ہو گا کبھی سوچا نہ تھا۔ لیکن یہ آپ سے درخواست ہے وزیر اعظم کی باتوں پر نہ جائیں ہم نے گھبرانا بھی ہے اور شرمانا بھی نہیں ہے۔

تیسری عالمی جنگ اپنے دروازے پر دستک دے رہی ہے۔ مجھے لگتا ہے یہ چاند گہن صرف اور صرف مسلمانوں پر بھاری ہو گا۔ دنیا پر اس وقت انتہا پسندوں کی حکومت ہے امریکہ اسرائیل روس انڈیا بنگلہ دیش، سعودی عرب، شام، مصر، افغانستان سب جگہ ایک خاص مائنڈ سیٹ کی حکومت ہے اور ہماری تو ہر گاڑی پر لکھا ہوتا ہے ”ضد نہ کر سوہنیا اسی تے آپ بہت ضدی آں۔ بیت المقدس اسرائیل کا مستقل حصہ ہو چکا۔ سرینگر کشمیر بھارت ہڑپ کر چکا، لگتا ہے کہ اب ایران یا پاکستان کی باری ہے۔ مصر تباہ، لیبیا تباہ، شام تباہ، عراق تباہ، افغانستان تباہ، اب تباہی کسی اور درپہ دستک دے رہی ہے۔ مائیک یومپیو نے اسی انداز میں جنرل باجوہ کو فون کیا ہو جیسا کولن پاؤل نے مشرف کو کیا تھا۔ اصل امتحان ہماری قیادت کا اب ہے کہ وہ ”وار اگیسنٹ ٹیرر“ کے نام پر جاری خونی ڈرامے میں ہزاروں مظلوموں کی قربانی کے بعد اس دھرتی کو کیسے بچاتے ہیں۔ ہماری فوجی امداد کی بحالی بتاتی ہے کہ امریکہ کو ایک بار پھر ہمارے ”موڈے پر بندوق رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ ہم اس کے پھوپھی کے پتر تو نہیں، نہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مواخذہ ہوتا نہ دنیا ایک نئی جنگ کے دہانے پر پہنچتی۔ بنتا سنگھ نے محبوبہ کو چوری کرکے سونے کا ہار دیا، وہ بولی سردار جی اس کی قیمت کیا ہے۔ بنتا سنگھ بولا تن سال قید نے بے شمار لتر۔خدارا ہمیں ایسا سونے کا ہار نہیں چاہئے خدا خدا کرے ملک میں کچھ امن بحال ہوا ہے ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو اپنی تمام تر توجہ اس جانب مرکوز کرنا ہو گی، امریکہ روس یورپ کے اسلحہ ساز کار خانوں میں اتنا اسلحہ تیار پڑا اسے استعمال ہونا ہے۔ کھربوں ڈالر کا اسلحہ بکنا ضروری ہے دو تین لاکھ لوگ اور وہ بھی مسلمان اگر مر جائیں تو کوئی حرج نہیں، نیا اسلحہ بھی بن جائے اور لوگ بھی پیدا ہو جائیں گے۔

مزید : رائے /کالم