’سیربین کا میچ ختم ہوا،شب بخیر‘ (2)

’سیربین کا میچ ختم ہوا،شب بخیر‘ (2)
’سیربین کا میچ ختم ہوا،شب بخیر‘ (2)

  



رواں صدی سے پندرہ سال پہلے مَیں لندن میں بی بی سی سے وابستہ ہوا تو اُس وقت ایسٹرن سروس میں فارسی، پشتو، اردو ، ہندی اور بنگالی کے علاوہ تامل اور سنہالہ زبانیں شامل تھیں۔ خبروں کا بلیٹن البتہ ایک سا ہوتا۔ گھنٹہ گھنٹہ کے وقفے سے انگریزی کا عالمی خبرنامہ جس کی ترتیب میں علاقائی دلچسپی کے پیش ِ نظر جنوبی ایشیا کا چیف سب ایڈیٹر معمولی رد و بدل کر دیتا۔ متعلقہ زبانوں کو ہم آواز رکھنے کی ذمہ داری ورلڈ سروس نیوز روم کی تھی، چنانچہ الگ الگ لینگویج سیکشن کے وہ پروڈیوسر جنہیں اُس روز خبریں پڑھنا ہوتیں نیوز روم ہی میں بیٹھ کر بلیٹن  کا ترجمہ کرتے۔ یوں ڈیسک کے ساتھ مسلسل رابطے کی بدولت دوستانہ ماحول میں باہمی صلاح مشورہ جاری رہتا۔ علی الصبح اور شام کی اردو مجالس میں ساڑھے نو نو منٹ کی خبریں ہوتیں اور پھر نامہ نگاروں کی رپورٹوں اور بش ہاؤس میں لکھے گئے تجزیوں پر مبنی حالاتِ حاضرہ کے لائیو پروگرام، جہاں نما اور سیربین۔یہ پروگرام ہمارے سیکشن کی اپنی ذمہ داری تھے۔ 

1980ء کی دہائی کے وسط میں دونوں مجالس کے بیچ دوپہر کی کم دورانیہ کی نشریات ختم کر دی گئیں اور تیسری مجلس میں شب نامہ پیش کیا جانے لگا۔ نشریاتی صحافت کی اصطلاح میں یہ اردو کا پہلا السٹریٹڈ خبرنامہ تھا۔اِس میں عام بلیٹن کی طرح پانچ سے نو سطروں پر مشتمل خبریں ہوتیں، لیکن بعض آئٹم نامہ نگار کی صوتی رپورٹ کی شکل میں شامل کئے جاتے۔ پیش کار خبر کا ابتدائیہ  پڑھتا اور پھر سامعین منٹ، ڈیڑھ منٹ کے لئے رپورٹر کی آواز سنتے۔ اِس کا تعلق ایک اضافی سہولت سے تھا  جسے الیکس پروب کا نام دیا گیا،یعنی اردو سروس میں نصب ایک نئی مشین، جس پہ صوتی رپورٹیں ریکارڈ کر لی جاتیں۔ ماضی میں ہمارے فلور پہ ایک چھوٹا سا سیلف آپریٹڈ اسٹوڈیو تو تھا اور ٹیپ کو ایڈٹ کرنے کی گنجائش بھی، مگر ٹیلی فون لائن پہ رپورٹ یا انٹرویو ریکارڈ کرنے کے لئے نیوز روم کے سوا ساری عمارت میں ایک ہی اسٹوڈیو تھا اور اِس کے لئے بھی پیشگی بُکنگ کی شرط تھی۔

تازہ سہولت کی بدولت، جسے پہلی بار سید راشد اشرف کام میں لائے، سامعین کے اجتماعی شعور میں السٹریٹڈ نیوز پروگرام کے لئے جگہ بنی اور دُور رس فنی و صحافتی تبدیلیوں کا راستہ کھلا۔ پہلی تبدیلی تھی، دو ایک کلیدی خبروں کے سوا، اردو کا تمام تر نیوز بلیٹن خود مرتب کر لینے کا اختیار۔ دوسرے، مرکزی نیوز روم کے عالمی نامہ نگاروں کے ہوتے ہوئے یہ امکان بھی پیدا ہوا کہ اُردو سمیت ایسٹرن سروس کے مختلف لینگویج سیکشن متعلقہ علاقوں میں اپنے ذیلی نمائندے مقرر کر لیں۔ 1990ء کے عشرے میں ورلڈ ٹیلی ویژن بھی شروع ہو گیا۔ اُردو نامہ نگاروں کے تقرر سے ہماری ترجمہ نویسی کی مشقت تو کم ہو چکی تھی، لیکن ا،س سے ایک لامرکزیت کا رجحان بھی پیدا ہوا۔  لینگویج سیکشن بی بی سی کی الگ الگ گونج بنے اور پیشہ ورانہ پختگی سے عاری وہ نامہ نگار بھی سامنے آئے،جن کے لئے بی بی سی کی معتبر صحافت کی پاسداری آسان نہیں تھی۔یوں سمجھیں کہ گھوڑا تیز ہو گیا، سوار پیچھے رہ گیا۔

یہ تو ہوئیں بی بی سی کی خبریں۔ ذاتی بات کرنے کے لئے اگر کہانی کو فلیش بیک میں لے جاؤں تو بچپن میں اردو کی دوسری کتاب ، آبائی شہر میں ’پاپڑاں والی خانقاہ‘ کے مفتی حبیب کا مترنم وعظ اور ریڈیو پاکستان پر نعتوں اور قوالیوں کے گراموفون ریکارڈ زبان و بیان میں میری دلچسپی کے عوامل ٹھہریں گے، مگر اِس میں اُن لسانی تضادات کو بھی دخل ہے، جن کی لہر سکول میں میڈیم کی تبدیلی سے پھوٹی تھی۔ پھر گھر میں پنجابی اور گرد و پیش کے ’اچھے بچوں‘ میں بیٹھ کر اُردو۔ اِس سے آگے برطانوی ہائی کمیشن میں بطور انٹرپریٹر اولین نوکری۔ پھر سات آٹھ برس تدریسی سرگرمیوں سے لے کر ’یہ بی بی سی لندن ہے‘ کے مرحلے تک اُن دھاروں کا تموج جو ہیڈ مرالہ کے سنگم پر دریائے توی اور چناب کی سفید اور سرخ موجوں کی طرح باہم مدغم ہوکر بھی دُور تک الگ الگ ہی رہے۔ 

پوری میڈیکل ہسٹری بیان کرنے کے لئے راولپنڈی کی ایک نواحی کنٹونمنٹ کا ذکر کرنا پڑے گا جہاں نئے ہم جماعتوں کی طفیل ’آساں، جاساں، ٹکرساں‘ جیسی ٹھیٹھ پوٹھواری سے واسطہ پڑا۔ ساتھ ہی آزادی کے وقت موجودہ بھارتی ریاست اتر پردیش کی آرمی کلودنگ فیکٹری، شاہجہاں پور سے پاکستان آ جانے والے وہ حق ہمسائے جو اپنے آبائی علاقے روہیل کھنڈ کی بولی بولتے، مگر سیکٹر سولہ ’کنے‘ رہنے سے کسی کی ’ہیٹی‘ نہ ہوتی۔ اِن تضادات کے ہوتے ہوئے اردو کے استاد مولانا بشیر احمد صمصام کی میرے سیالکوٹی تلفظ پہ ڈانٹ ڈپٹ، ساتھ ہی والد ِ محترم کا اصرار کہ اُن کا  فرزند سوشل سائنسز کی اردو تدریس کے باوجود امتحانات انگریزی میں دے۔ دو زبانوں میں ایک سا مواد پڑھتے رہنے سے ترجمہ کا چسکا لگ گیا،جس کا فائدہ لندن پہنچ کر زیادہ ہوا۔ نامہ نگار ٹیلی فون لائن پہ اپنی رپورٹیں ریکارڈ کراتے، جس کا متن کچھ ہی دیر میں کمپیوٹر سکرین اور پرنٹر کے ذریعے ہر متعلقہ سروس کو پہنچ جاتا۔ یوں ہم منجھے ہوئے انگریز صحافیوں کی تحریریں پڑھتے او ر معمولی رد و بدل کے بعد انہیں اردو کے قالب میں ڈھال لیتے۔

اطہر علی، محمد غیور اور آصف جیلانی جیسے اخبار نویسوں کی ادارتی پرکھ، سارہ نقوی، سید راشد اشرف اور یاور عباس کی پیش کاری، وقار احمد، علی احمد خان اور صاحب ِ طرز براڈ کاسٹر رضا علی عابدی کی لسانی گرہ کشائیاں۔ اِسی کا اثر تھا کہ محض تدریسی تجربے کا حامل ایک نووارد صحافی ترجمہ کے بہانے مکھی پہ مکھی کی بجائے مچھر مارنے لگا۔ اگلا مرحلہ یہ کہ کوئی بھی سینئر ساتھی سالانہ چھٹی پہ گیا تو  اُس کا کام عارضی طور پر آپ کے سپرد۔ اِس طرح معمول کے سوال و جواب اور انگریزی اسباق کے علاوہ ہفتہ وار سیاسی تجزیہ میزان، سائنس کلب،  گرد و پیش، کھیل کے میدان سے، کم و بیش سبھی پروگرام ایک ایک کرکے پیش کئے اور بہت مزہ آیا، مگر یہ پروگرام ایسے تھے، جن کے لئے مواد کسی نہ کسی انگریزی یونٹ سے مل جاتا۔ چنانچہ طبع زاد اُردو تحریر کی ضرورت کم ہی پیش آتی۔ یہاں اہل ِ نظر کے  لئے نشانیاں ہیں، جن کی خاطر اپنا منظر لانگ شاٹ کی بجائے اب کلوز اپ میں دکھانا پڑے گا۔ 

وِیک اینڈ پہ نشر ہونے والا پروگرام ’سب رس‘ کرتے ہوئے تخلیقی ذہن نے سوچا کہ کسی معروف شخصیت کے ساتھ دلچسپ گفتگو اور ادبی تقریبات کی رپورٹ کے علاوہ پروگرام میں نئی تصانیف پہ تبصرے بھی ہونے چاہئیں۔ ریکارڈنگ سے پہلے ایک تازہ کتاب اچھی طرح پڑھ لی تھی کہ اِس کا تین ساڑھے تین منٹ کا جائزہ ’سب رس‘ میں شامل کر لیں گے۔ میرے مولا،یہ کیا ہوا؟ آنکھوں میں ہیڈ مرالہ کی مثال پھر اُبھرنے لگی جہاں دریائے توی اور چناب کی سفید اور سرخ لہریں ایک دوسری سے مل کر بھی ایک خاص فاصلے تک الگ الگ ہی رہتی ہیں۔ یہ نہیں کہ سوچ کے افق پہ کوئی نکتہ  طلوع نہیں رہا تھا۔ ایسا نہیں لیکن سکول کالج کی تعلیم کے نتیجے میں اور نامہ نگاروں کی انگریزی رپورٹیں پڑھ پڑھ کر ترجمہ کرنے کی عادت اتنی پختہ ہو گئی تھی کہ خیالوں کی مچھلیاں میری اُردو کے جال میں پھنسنے سے پہلے ہی پھدک کر پھر دریا میں جا گرتیں۔ 

سردیوں کی صبح، ہفتہ کا دن،دوپہر کو ریکارڈنگ ہے،اور اطہر صاحب والے اکیلے کمرے میں شدید بے بسی کا عالم کہ اُردو کے مقبول و  با وقار کلچرل پروگرام کا پیٹ بھروں تو کیسے بھروں۔ اچانک ایک میز پہ اولیویٹی کا ’آدم بو‘ مینوئل ٹائپ رائٹر دکھائی دیا۔ایک بجلی سی کوندی اور ذہن نے انگریزی میں فقرے گھڑنے شروع کر دئے۔ بالکل اُسی طرح جیسے کوئی نالائق طالب علم امتحان میں کسی ناقابل ِ فہم سوال کا جواب ’اتمامِ حجٹ‘ کے طور پر بِلاسوچے سمجھے لکھنے بیٹھ جائے۔  پون گھنٹے میں ایک قابلِ نشر آئٹم تیار ہو گیا، جسے اُردو میں ڈھالتے ہوئے چنداں مشکل پیش نہ آئی۔ کسی پروگرام کے لئے ’سی سیکشن‘ کے ذریعے یہ میری پہلوٹی کی تحریر تھی، اور اِس نے مجھے ایک ایسا مترجم بنا دیا جس نے اپنے ہی مضامین کے کامیاب ترجمے کئے ہیں۔کاروباری کامیابی یہ تھی کہ مَیں نے اپنا انگریزی ’بُک ریویو‘ بھی پرانی نصابی کتابوں کی طرح آدھی قیمت پر سنٹرل ’ٹاکس اینڈ فیچرز‘ کو بیچ دیا،جو معروف نقادوں سے کتابوں پہ تبصرے لکھوایا کرتے تھے۔  پھر ہر اختتام ہفتہ یہی معمول بن گیا۔ جن کتابوں کے ساتھ یہ حرکت کی اُن میں عمران خان کی ’آل راؤنڈ ویو‘، بے نظیر بھٹو کی ’ڈاٹر آف دی ایسٹ‘، خالد حسن کے منٹو تراجم بعنوان ’سلطنت کا خاتمہ‘، محمد غیور اور نریش کوشک کی  ’پاکستان آفٹر ضیا الحق‘ اور اسلامی اسکالر بی اے مصری کی ’اسلامک کنسرن فار انیملز‘ شامل ہیں۔

دس سال تک لندن میں عالمی نشریات سے وابستگی اور کچھ عرصہ ایشین نیوز نیٹ ورک کی سربراہی کے بعد آپ کے بھائی نے بیالیس سال کی عمر میں بی بی سی کے اولین نامہ نگارِ پنجاب کے طور پہ کام شروع کیا تو طریقِ کار پرانا ہی تھا۔ مراد ہے نیوز کاپی یا وائس رپورٹ انگریزی میں، پھر اسی متن پر مبنی اردو مراسلہ اور حسبِ فرمائش ہندی انٹرویو۔اُسلوب اُس سے ہٹ کر جسے اطہر علی مرحوم مجھے چھیڑنے کے انداز میں عالمانہ زبان کہا کرتے تھے۔ اب اِس زعم میں کہ ہم براہِ راست اردو لکھ لیتے ہیں ہفتہ وار گپ بازی کا نام ’خوش کلامی‘ رکھ چھوڑا ہے۔ پھر بھی اُس دن سے ڈرتا ہوں جب روزی روٹی کی خاطر انگریزی میں کالم لکھنا پڑ جائے۔ اگر ایسا ہوا تو اب کے ترتیب پہلے سے اُلٹ ہو گی۔ یہی کہ ابتدائی متن اردو میں لکھوں، پھر اُس کا ترجمہ انگلش میں کر لوں۔ کوشش یہ ہوگی کہ ترجمہ شدہ مواد اچھے داموں بِک جائے۔ اردو اخباروں کے حالات زیادہ خراب ہیں، اِس لئے وہاں آدھی قیمت بھی لگ گئی تو پوری ہی سمجھوں گا۔ 

مزید : رائے /کالم