ڈاکٹر امجد ثاقب:ایک روشن مینار

ڈاکٹر امجد ثاقب:ایک روشن مینار
ڈاکٹر امجد ثاقب:ایک روشن مینار

  



اس دنیا میں ہر کوئی اپنے کام میں مصروف ہے۔ غربت، افلاس، دکھ اور محرومی کسی کو بھی پسند نہیں۔ سب ان سے بچنا چاہتے ہیں،لیکن وہ جو غالب نے کہاہے:”ہر چند ہو مشاہدہئ حق کی گفتگو، بنتی نہیں ہے……بادہ وساگر کہے بغیر“…… سب کو زندگی کی دوڑ میں آگے بھاگنا ہے، لیکن اس تیز معاشرے میں ایک عظیم اور حیرت انگیز شخصیت ایسی بھی ہے جس نے اپنی دوڑ کے ساتھ ساتھ اوروں کو بھی ہمت دی اور ہمت کے ساتھ دوڑایا بھی۔ ایدھی کے بعد میری نظر میں ڈاکٹر امجد ثاقب وہ واحد شخص ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی غریبوں اور مساکین کی خدمت میں صرف کی اور ابھی بھی ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں …… ان کا سماجی خدمت کا یہ کام بھی ایک دلچسپ واقعے کے ساتھ شروع ہوا…… ایک عورت جو اپنے کنبے کی کفالت کرنا چاہتی تھی،ان کے دفتر میں آئی اور ان سے رقم ادھار مانگی۔ دس ہزار روپے دینے کے بعد انہوں نے ایسا کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ عورت واپس آئے گی اور رقم واپس کر کے جائے گی، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ آئی اور اس نے پوری رقم واپس بھی کی اور بتایا کہ ان دس ہزار روپوں نے اس کی زندگی کس طرح بدلی؟……جاتے جاتے وہ کچھ سنہری الفاظ بول گئی کہ ان دس ہزار روپوں نے میری زندگی بدل دی ہے، مَیں چاہتی ہوں آپ ان کو اپنے پاس رکھنے کے بجائے آگے کسی ضرورت مند کو دیں، تاکہ اس کا بھی بھلا ہو جائے۔

اللہ تعالیٰ نے جب بھی کسی سے کوئی بڑا کام کروانا ہو تو کروا لیتے ہیں …… اس کے بعد جب کبھی غربت و افلاس کا نام آیا، ساتھ اخوت کا بھی ذکر آیا۔ اخوت ایک ایسا ادارہ ہے جو بغیر کسی قسم کے سود کے چھوٹے چھوٹے قرضے دیتا ہے۔ مجھے فخر ہے یہ بتاتے ہوئے کہ اخوت دنیا کا سب سے بڑا سود سے پاک مائیکرو فنانس پروگرام ہے۔اخوت نے لوگوں کو کہا کہ دیکھو اگر اپنی ذات کے حصار سے بلند ہوکر سوچنا چاہتے ہو تو آؤ ہم تمہیں ایک راستہ دکھائیں۔ دنیا میں گنے چنے لوگ ہی ہیں جو اس طرح لوگوں کی مدد کرتے ہوں اور پاکستان جیسا ملک جہاں خاندانوں میں پراپرٹی کے نام پر قتل ہو جاتے ہیں،وہاں لوگوں کو قرضہ دینا بڑی ہمت کا کام ہے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ جب نیکی کی نیت کرلو اللہ تب ہی ثواب دے دیتے ہیں تواگر آپ اللہ کی راہ پر سفر شروع کردیں تو اللہ خود مدد کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرضے کی واپسی 99.9 فیصد ہے۔ اخوت 1400سال پہلے کے مسلمانوں کی اخوت سے متاثر ہے۔ اسلامی بھائی چارے کی مثال مدینہ کے شہریوں نے سب سے پہلے اسلام کے طلوع آفتاب کے وقت ظاہر کی، جب انہوں نے مکہ کے مہاجرین بھائیوں کے ساتھ اپنی دولت بانٹ دی۔ اخوت کا فلسفہ قرض حسنہ کے اصول پر مبنی ہے، جس میں کسی سود سے پاک قرضوں سے محتاج افراد کی مدد کی جاتی ہے، جسے صدقے پر فوقیت حاصل ہے۔

امجد ثاقب کی محنت اور لوگوں پر اعتماد کا نتیجہ ہے کہ جو ادارہ دس ہزار کے ادھار سے شروع ہوا، وہ آج کم سے کم سو ارب کے قرضے دے چکا ہے۔ اخوت کی انٹرن شپ بھی پاکستان کی جانی مانی انٹرن شپس میں سے ایک ہے۔ اس کے دو فوائد ہیں۔ پہلا تو سرٹیفکیٹ جس کی واقعی میں بہت اہمیت ہے، دوسرا یہ کہ انسان اس انٹرن شپ کے بعد بدل جاتا ہے۔ اس کے دل میں غریبوں کے لئے الفت پیدا ہوتی ہے۔ مَیں اس کیفیت سے اس لئے واقف ہوں، کیونکہ مَیں نے ڈاکٹر امجد ثاقب کے اس عظیم ادارے اخوت میں انٹرن شپ کی ہوئی ہے،وہاں مَیں نے بہت کچھ سیکھا۔ خواجہ سراؤں کو کام کر کے حلال روزی کمانے سے لے کر فاؤنٹین ہاؤس میں بزرگوں کا حال تک دیکھا۔ مَیں نے باقاعدہ اپنے اندر ایک درد محسوس کیا۔ اپنے لئے نہیں، ضرورت مندوں کے لئے۔ مَیں اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب سمجھتا ہوں کہ مَیں نے اس عظیم ادارے میں وقت گزارا اور میری دل سے دعا ہے کہ اللہ ڈاکٹر امجد ثاقب کے کاروبار میں اور برکت دے اور انہیں سماجی خدمت کے کام میں مصروف رکھے…… انہیں ستارۂ پاکستان تو مل گیا ہے، اب ان شاء اللہ نوبل پرائز کی توقع ہے۔

مزید : رائے /کالم


loading...