سب کچھ کے باوجود، برسی کا جلسہ کامیاب

سب کچھ کے باوجود، برسی کا جلسہ کامیاب
سب کچھ کے باوجود، برسی کا جلسہ کامیاب

  



موجودہ حکومت نے ملک میں جس قسم کا ماحول پیدا کر دیا ہے، اس سے اپوزیشن، سرکاری ملازمین سے لے کر غریب اور مزدور بھی پریشان ہیں۔ کوئی بھی ادارہ، دوسرے ادارے سے مطمئن ہونا تو ایک طرف، نالاں نالاں دکھائی دیتا ہے۔ساری خرابی حکومتی ایوان میں ہے۔وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ ایک ہی نعرے میں مصروف ہے کہ ”پکڑو، پکڑو جانے نہ پائے“…… اور مخالفین کو کچلنے کی مہم میں اپنا وقت ضائع کر رہی ہے، اِس مہم اور نعروں کے طوفان سے حکمران سیاسی جماعت کی مقبولیت میں اضافے کی بجائے روز بروز کمی آ رہی ہے۔ عام ووٹر بھی یہ بات سمجھ گیا ہے کہ موجودہ حکومت سیاسی مخالفت کی بجائے،ذاتی مخالفت پر اُتر آئی ہے۔ اپوزیشن قیادت کا جیلوں،عدالتوں، نیب اور اب ایف آئی اے میں آنا جانا لگا ہوا ہے، کبھی پیپلزپارٹی اور کبھی مسلم لیگ (ن) کی قیادت جیل یاترا کر رہی ہے۔وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ نے شاید سمجھ لیا ہے کہ جب تک ملک کی اپوزیشن قیادت ختم نہیں ہو جاتی،وہ قوم کے لئے کارہائے نمایاں نہیں دکھا سکتے،اس کے لئے انہوں نے یہ نرالہ طریقہ ڈھونڈا ہے کہ اپوزیشن کو جھوٹے سچے مقدمات میں اُلجھایا جائے۔ادارے ان کے حکم کے تابع ہیں،جو حکومت کہتی ہے،وہی کرنا اداروں کی مجبوری ہے، ملازمت سے نکالے جانے اور دور دراز تبادلے کے خوف کے باعث ”حکم حاکماں“ ماننے پر مجبور ہیں۔ عدالتوں میں نامکمل مقدمات اور پوری تفصیلات کی عدم دستیابی کے باعث جب جھاڑ پلائی جاتی ہے تو شرمندگی کے باوجود خاموشی سے سن لی جاتی ہے۔ یہ لوگ اپنی کہانی کس کو سنائیں کہ ان کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟

مسلم لیگ(ن) کے رہنما، سابق صوبائی وزیر قانون اور موجودہ قومی اسمبلی کے معزز رکن رانا ثناء اللہ خاں اور مفتاح اسماعیل کی ضمانت پر جیل سے رہائی ہو گئی،لیکن دوسری طرف مسلم لیگ(ن) کے تازہ دم رہنما احسن اقبال کو نیب نے گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاری دو قد آور، حوصلہ مند سیاسی شخصیات کے بدلے میں ایک ایسی بڑی سیاسی شخصیت کی گرفتاری ہے،جس کے متعلق کرپشن کرنے کے بارے میں سوچنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا پڑتا ہے کہ اس کے بارے میں یہ بات کہہ لی جائے، یا نہ کہی جائے؟ ضمیر کا جواب آئے گا کہ وہ معصوم اور محب وطن پاکستانی ہیں۔امریکی یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں،سیاست کے ساتھ ساتھ معاملاتِ زندگی چلانے کے لئے بطور وزیٹنگ پروفیسر یونیورسٹی میں لیکچر دیتے رہے ہیں۔احسن اقبال جیسے محتاط سیاست دانوں اور صاف گو انسانوں پر کرپشن کے الزام لگنا اور نیب کے ذریعے گرفتاری انسانیت کی توہین ہے۔ ان باتوں سے حکومت کے خلاف عوام میں نفرت بڑھ رہی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ خان کی ضمانت لاہور ہائی کورٹ نے منظور کی ہے، ضمانت میرٹ پر ہوئی ہے اور حکومتی وزراء کو شرمندگی کا بخار چڑھ گیا ہے۔ انسداد منشیات کے وزیر مملکت شہریار آفریدی ملزم رانا ثناء اللہ خاں کو ضمانت پر رہائی ملنے پر حواس باختہ ہو گئے۔ پریس کانفرنس اور ٹی وی چینلوں میں اپنا نقطہ ئ نظر اور موقف بیان کرنے دوڑ پڑے۔ پریس کانفرنس میں صحافیوں اور ٹی وی چینلوں کے میزبانوں کے سوالوں کے جواب دینا مشکل ہو گیا اور ایک دو بار تو آپے سے باہر ہوتے بھی دکھائی دیئے۔وزیر مملکت اور ان کا وزیراعظم اپوزیشن قیادت کو جو دِل میں آئے کہہ لیں، مگر جب طلال چودھری وزیر مملکت شہریار آفریدی کو یہ کہہ دیں کہ آپ رانا ثناء اللہ خاں کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں تو وزیر موصوف ٹی وی پروگرام میں بیٹھے نہ ہوتے تو طلال چودھری سے ہاتھا پائی پر اُتر آتے۔وزیر موصوف اپنی بات منوانے کے لئے پروگرام میں قسمیں اٹھاتے رہے۔ شہریار آفریدی کو غصے میں یاد ہی نہیں رہا کہ جب انسان کے پاس دلائل نہ ہوں تو وہ قسمیں کھانا شروع کر دیتا ہے، جو اس کے جھوٹے ہونے کا واضح ثبوت ہے۔اب انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف ثبوت اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ وزیر موصوف یہ بات درست نہیں فرما رہے،کیونکہ شہریار آفریدی اس مقدمے کے چشم دید گواہ نہیں، بلکہ سنی سنائی بات کر رہے ہیں اور سنی سنائی باتوں کو عدالت کے سامنے بیان کرنے سے ملزم کو سزا نہیں ہوتی،بلکہ وہ باعزت بری ہو جاتا ہے۔وزیر مملکت کو دوستانہ مشورہ ہے کہ وہ عدالت کو اپنا کام کرنے دیں،اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہ کریں، ایجنسی کو چالان مکمل کرنے دیں، آپ تو مقدمہ میں فریق بنتے جا رہے ہیں،جو آپ اور حکومت کے لئے باعث شرمندگی ثابت ہو گا۔

اس کے باوجود حکومت اور وزیراعظم عمران خان اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں اور عوامی مسائل پر توجہ، خصوصی طور پر ابھی تک تاجر برادری اور بڑے کاروباری لوگوں کو لولی پاپ دینے کے سوا کچھ نہیں کر سکے،بلکہ اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی قیادت کے لئے آئے روز مسائل پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی27 دسمبر کو راولپنڈی کے لیاقت باغ گراؤنڈ میں برسی کی تقریب کے تاریخی جلسہ عام میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو خطاب کی تیاری میں مصروف تھے،اس موقع پر نیب کی جانب سے طلبی رنگ میں بھنگ ڈالنے والی بات تھی، سونے پر سہاگہ یہ کہ راولپنڈی کی انتظامیہ کی جانب سے جلسے کی اجازت نہ دینے نے بات واضح کر دی، کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر عوام کے راولپنڈی جلسے میں پہنچنے کا جوش و خروش ختم کرنے کی ڈوری کہاں سے اور کون ہلا رہا ہے؟ اس پر بس نہیں کی گئی،بلکہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی برسی کے عین موقع پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے غریب، بیوہ، مزدور اور مستحق افراد، خصوصاً خواتین کو ملنے والی مالی امداد وصول کرنے والے آٹھ لاکھ سے زائد مستحق افراد کا نام مستحقین کی لسٹ سے خارج کرنے اور نئے لوگوں کے نام لسٹ میں شامل کرنے سے حکومت کی ذاتی مخالفت کھل کر سامنے آ گئی۔کہا گیا ہے کہ سونے کی چوڑیاں پہن کر خواتین کو مالی امداد کے پیسے لیتے دیکھا گیا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ حکومت نے سنیارے بھی بھرتی کر لئے ہیں۔ راولپنڈی کے شیخ رشید کہہ رہے ہیں کہ برسی کا جلسہ حرام کے پیسوں سے منعقد ہو رہا ہے۔شیخ رشید احمد یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کے انتخابی جلسوں اور انتظامات پر ان کی اپنی جیب سے کتنے پیسے خرچ ہوئے ہیں؟ پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان بلاوجہ پیپلزپارٹی کے اندرونی معاملات پر بیان دینے میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔پی پی ان کی جماعت نہیں،اپنی جماعت کی بات کرتے تو زیادہ بہتر تھا۔ یہ سارے حربے، بیانات برسی کا جلسہ خراب کرنے کے لئے تھے، مگر جلسہ کامیاب ہو رہا اور سب دیکھتے رہ گئے۔

مزید : رائے /کالم