بیانیہ ہار گیا، بیانیہ جیت گیا!

بیانیہ ہار گیا، بیانیہ جیت گیا!
بیانیہ ہار گیا، بیانیہ جیت گیا!

  



پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو شکوہ ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزبِ اختلاف محمد شہباز شریف نے ان کو اور قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کی دیگر جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا اور یکطرفہ طور پر مسلح افواج والے ترمیمی بلوں کی غیر مشروط حمائت کا اعلان کر دیا ہے۔ بلاول اب کافی تجربہ حاصل کر چکے وہ بھی ترمیمی بل کے حق میں ہیں،لیکن ان کی خواہش ہے کہ اسے جلدی میں منظور کرانے کی بجائے مجوزہ پارلیمانی طریق کار کے مطابق منظور کرایا جائے کہ پہلی توسیع والے نوٹیفکیشنوں کی طرح اس حوالے سے بھی مذاق ہو نہ غلط تاثر پیدا ہو، بلاول جب یہ شکوہ کر رہے تھے تو قومی اسمبلی میں سپیکر اسد قیصر نے ایک ہی نوعیت کے ان تینوں مسوداتِ قانون کو مجلس قائمہ برائے دفاع کے سپرد کر دیا تھا۔اگرچہ اجلاس ہفتہ کے لئے ملتوی کیا گیا،لیکن بعد میں نظرثانی کر لی گئی اور ہفتہ، اتوار کی چھٹیوں سے بہرہ مند ہونے کے لئے اجلاس سوموار کے لئے ملتوی کر دیئے گئے۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے مطابق مجلس قائمہ نے اتفاق ر ائے سے بل منظور کر لئے ہیں اور اب ان کی قومی اسمبلی اور بعدازاں سینیٹ سے بھی مہر لگوا لی جائے گی۔امکان ہے کہ سوموار کو یہ مسوداتِ قوانین جو اصل میں ایک ہیں،اتفاق رائے سے منظور ہوں گے اور یہ مسئلہ جسے تنازع بنایا گیا تھا، حل ہو جائے گا اور مستقبل میں بھی کبھی ایسی صورتِ حال پیدا نہیں ہو گی۔جمعیت علماء اسلام (ف) اور جماعت اسلامی نے الگ الگ طور پر اپنے اپنے تحفظات کا اظہار کر دیا ہے، اور حاصل بزنجو نے بھی ناراضی ظاہر کی ہے۔اگرچہ اس سے کوئی فرق تو نہیں پڑتا،لیکن اظہارِ یکجہتی میں معمولی دراڑ ضرور آئے گی۔یہ بھی نہیں ہونا چاہئے اور اس کے لئے حزبِ اقتدار کو ہی توجہ دینا ہوگی۔

اب پھر بات کرتے ہیں، بلاول بھٹو کا شکوہ بجا ہے تاہم یہ ناراضی پس منظر میں چلی جاتی ہے، جب یہ معلوم ہو کہ محمد شہباز شریف نے تو اپنے بڑے بھائی کے موقف کو بھی نظر انداز کیا ہے، جن کا کہنا تھا کہ جلدی نہ کی جائے، اس طرح پھر کوئی غلطی رہ سکتی ہے۔تحمل اور اطمینان سے پوری طرح غور کر کے منظوری دی جائے۔ یوں نہ تو بلاول اور نہ ہی محمد نواز شریف مسوداتِ قانون کی منظوری کے خلاف ہیں اور نہ ہی مخالفت کی ہے، بلکہ دونوں کا اتفاق رائے پارلیمانی طریق کار کی مکمل پیروی اور غور پر اتفاق ہے، جبکہ محمد شہباز شریف نے تو پہلے ہی کلین چٹ دے دی ہے، بلاول کو یہ بھی احساس ہے کہ ان کی جماعت کے اراکین(50) ہیں اور مسلم لیگ(ن) کے زیادہ، تاہم متحدہ حزبِ اختلاف کا مقصد تو یہ ہے کہ مل کر فیصلہ کیا جائے اور ایسا نہیں ہوا، اس طرح شیشے میں بال تو آ گیا۔یوں بھی محمد شہباز شریف کے طرزِ عمل سے پیپلزپارٹی کو پہلے ہی اختیار مل گیا ہے کہ وہ حمایت کرے تاہم پارلیمانی طریق کار پر زور دے،اِس سلسلے میں خبروں کی صورتِ حال بھی ہے۔ بتایا گیا کہ محمد نواز شریف نے خط لکھ کر اپنی رائے دی ہے جو خواجہ آصف کو بھیجا گیا، لیکن خواجہ آصف کے مطابق ان کو کوئی خط نہیں ملا، اور فیصلہ محمد نواز شریف کے بیانیہ کے مطابق ہی ہے۔ یہ معمولی غلط فہمیاں ہیں جو بوقت ِ ضرورت دور بھی ہو جائیں تاہم عوام کی نظر میں حکومت کی تبدیلی والا فلسفہ یا بیانیہ واقعی کمزور ہوا ہے اور اس کا فائدہ برسر اقتدار طبقے کو پہنچ رہا ہے۔

ادھر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے زیر حراست اراکین اسمبلی خاقان عباسی، خورشید شاہ،احسن اقبال اور خواجہ سعد رفیق کی اسمبلی حاضری کے لئے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کر دیئے ہیں۔ آصف علی زرداری کو استثنیٰ دیا گیا کہ وہ علیل اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں یہ سب مفاہمت کی فضا کا نتیجہ ہے اس سے پہلے خواجہ سعد رفیق اور رانا ثناء اللہ کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر احتجاج ہوتا رہا ہے،اب تو رانا ثناء اللہ ضمانت پر آزاد ہیں اور وہ اجلاس میں شریک بھی ہوں گے۔یوں پیر کو سبھی موجودہ ہوں گے اور بات بھی کر سکیں گے۔ بہتر ہو گا کہ بلوں کو بلڈوز کرنے کی کوشش نہ کی جائے اور سنجیدگی کے ساتھ پہلی دوسری اور تیسری خواندگی مکمل کی جائے تاکہ کوئی شکایت نہ ہو،اس سے یکجہتی کی فضا اور بھی بہتر ہو گی۔

سیاست کے رنگ ڈھنگ اپنے اور نرالے ہیں، کہاں مولانا فض لالرحمن کی جدوجہد اور متحدہ حزبِ اختلاف کا قیام اور کہاں اب اسی متحدہ حزب حزبِ اختلاف میں تحفظات اور شکایات، ان سب کو بھی دور کرنا ہو گا، عوامی مسائل کے لئے لازم ہے کہ ان صفوں میں اتحاد برقرار رہے۔اگرچہ ذرا مشکل ہے کہ بعض رشتے ہی ناپائیدار ہوتے ہیں، اب شہباز شریف تو واپس نہیں آ رہے۔رانا ثناء اللہ کے مطابق اگر وہ آ گئے تو گرفتار کر لئے جائیں گے اور وہ ایسا نہیں چاہتے۔بہرحال لندن میں زیر علاج محمد نواز شریف ایک بار پھر دِل کی سرجری سے گذرنے والے ہیں، پہلے بھی ان کا یہ آپریشن لندن ہی میں ہوا اور پیچیدگی بھی پیدا ہوئی تھی۔ اگرچہ یہ اول روز ہی سے ظاہر تھا،کیونکہ خون سپلائی کرنے والی نالی میں رکاوٹ ہے اور خون پوری طرح گردش نہیں کر پاتا۔حسین نواز نے ان کو سوئٹزر لینڈ یا امریکہ منتقل کرنے کی بات کی،لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ لندن ہی میں داخل ہو کر آپریشن کرائیں گے۔اللہ ان کو صحت دے اور محمد شہباز شریف تو چوکس اور صحت مند ہیں، مطمئن اور خوش بھی، کہ ان کا بیانیہ ہی ظفر مند ہے۔

مزید : رائے /کالم