وزیراعظم کی بیورو کریسی سے امیدیں ……!

وزیراعظم کی بیورو کریسی سے امیدیں ……!
وزیراعظم کی بیورو کریسی سے امیدیں ……!

  



وزیراعظم عمران خان نے فیصل آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب سے کچھ کر دکھانے کی جو بات کی ہے، وہ درحقیقت ملک بھر کی بیورو کریسی کے لئے ایک پیغام ہے۔ اپنے پارٹی بیانیہ کو چھوڑ کر وزیراعظم عمران خان نے نیب قوانین میں ترمیم کر کے بیورو کریٹس کو احتساب کے عمل سے نکال دیا ہے۔ گویا وہ بیورو کریسی کے ہاتھوں بے بس ہو گئے تھے اور اسے کام کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے انہوں نے یہ قدم اٹھایا۔ اب اگر وہ یہ تقاضا کر رہے ہیں کہ بیورو کریسی کچھ کرکے دکھائے تو یہ ان کا حق بنتا ہے۔ ویسے یہ بھی صرف پاکستان میں ہی ہوتا ہے کہ بیورو کریٹس،جو سرکار کے ملازم ہوتے ہیں، شہزادے بن جاتے ہیں، جن کے ناز نخرے اٹھانے کے لئے سو سو جتن کرنے پڑتے ہیں۔ کام نہیں کرنا تو سیٹ سے کیوں چمٹے رہتے ہیں؟ تنخواہیں اور مراعات کس لئے لیتے ہیں؟ مگر نہیں صاحب ان سے یہ سوالات نہیں پوچھے جا سکتے، وگرنہ یہ ناراض ہو جاتے ہیں، کام چھوڑ دیتے ہیں، فائلوں پر دستخط نہیں کرتے، صحیح معنوں میں ملک کا پہیہ جام کر دیتے ہیں …… عمران خان ملک کے پہلے وزیراعظم ہیں جو علی الاعلان یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے سرکاری افسروں کو نیب کے خوف سے آزاد کر دیا ہے اور ساتھ ہی صوبے کے چیف سیکرٹری سے فرمائش بھی کی ہے کہ اب تو وہ اپنے افسروں سے کام لینا شروع کردیں۔

اللہ کرے اس صورت حال کا مثبت نتیجہ نکلے، وگرنہ مجھے تو اس میں بگاڑ کی ایک بہت بڑی صورت نظر آ رہی ہے۔ یہاں خود احتسابی کا رویہ تو ہے نہیں کہ ہر کوئی اپنا محاسبہ کرکے آگے بڑھے۔ یہاں تو لوٹ مچی ہوئی ہے اور لوٹ بھی ایسی کہ جس میں ہر شے کو مالِ غنیمت سمجھ لیا جاتا ہے۔ کیا وزیراعظم نے نیب کے خوف سے نجات دلا کر بیورو کریسی پر جو احسان کیا ہے، اس کے بدلے میں وہ دیانت داری اور لگن سے کام کرنا شروع کر دے گی؟ یہ تو وہ معاشرہ ہے جہاں قدم قدم پر حضرت علیؓ کا یہ قول درست ثابت ہوتا ہے کہ ”جس پر احسان کرو، اس کے شر سے ڈرو“…… بیورو کریسی نے پہلے شور کر کے خود کو سیاسی دباؤ سے آزاد کروایا اور اب غیر علانیہ کام چھوڑ کر نیب کی دسترس سے بھی باہر نکل گئی۔اس وقت تو صورتِ حال ”سنجیاں ہو جان گلیاں تے وچ مرزا یار پھرے“ والی ہے۔ ہر طرف بیورو کریسی کا راج ہے اور عوامی نمائندے یوں پھرتے ہیں کہ…… ”میر خوار کوئی پوچھتا نہیں“ کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ جہاں ملک کا وزیراعظم، وزیراعلیٰ پنجاب کو چھوڑ کر صوبے کے چیف سیکرٹری سے امیدیں باندھ لے، وہاں عوامی نمائندے وزیراعلیٰ کو کیا اہمیت دیں گے؟ صوبے کے حاکم کی اہمیت اگر اتنی بھی نہ رہ جائے کہ وہ چیف سیکرٹری سے کسی بابت پوچھ گچھ ہی کر سکے تو پھر اسے جمہوریت کا راج کہا جائے یا لاٹ صاحب کی بادشاہت؟ پچھلے دِنوں مَیں سوشل میڈیا پر چیف سیکرٹری پنجاب کا ایک وڈیو پیغام دیکھ رہا تھا جو انہوں نے پنجاب میں تعینات سرکاری افسروں کے لئے جاری کیا۔ اس وڈیو پیغام میں بیورو کریٹس سے گزارش کی گئی تھی کہ وہ حکومت کی توقعات کے مطابق عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں ……”کہ خوشی سے مر نہ جاتے،اگر اعتبار ہوتا“…… صدقے جاؤں اس چیف سیکرٹری اور ماتحت بیورو کریسی کے،جو اتنے سہل طریقے سے عوامی خدمت پر آمادہ ہوجاتی ہے۔ اس سارے کھیل میں آئی جی پنجاب کا ذکر کہیں نہیں آ رہا، حالانکہ انہیں بھی اسی خیال سے لایا گیا ہے کہ وہ پنجاب میں پولیس کے کس بل نکال کر اسے بہترین فورس بنا دیں گے۔ کیا واقعی بنا دیں گے؟ کون سی جادو کی چھڑی استعمال کریں گے؟ کیا اس ضمن میں چیف سیکرٹری سے بھی مشاورت کریں گے یا بالا بالا سب کر گزریں گے؟

بلاشبہ وزیراعظم عمران خان بیورو کریسی سے کام لینے کا ایک نیا فارمولا لے کر آئے ہیں۔ بیورو کریسی کو حد درجہ خود مختاری دینے کا یہ فارمولا جمہوریت سے کتنا متصادم ہے، اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔ عوامی نمائندوں کو بالکل ہی صفر کر دینا ہمارے روائتی سماج سے لگا نہیں کھاتا۔ پھر ضلع کا ایک ڈپٹی کمشنر، پچیس تیس لاکھ آبادی کو کیسے مطمئن کر سکتا ہے، جبکہ اس کے ساتھ جڑا ہوا نظام بھی استحصالی اور ناانصافی پر مبنی ہو؟ حد تو یہ ہے کہ ڈپٹی کمشنر کی عین ناک کے نیچے اس کی برانچوں اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس دفتر میں کھلم کھلا کرپشن اور ظلم و زیادتی کا بازار گرم ہوتا ہے، مگر اسے خبر تک نہیں ہوتی، البتہ یہ خبر ضرور ہوتی ہے کہ مال کتنا بنایا جا رہا ہے اور اسے حصہ پہنچ رہا ہے یا نہیں؟وزیراعظم عمران خان شائد اپنے ذہن میں ایک آئیڈیل بیورو کریسی کا تصور لئے ہوئے ہیں۔وہ بیورو کریسی جو یورپ یا امریکہ میں کام کرتی ہے اور عوام کی خدمت بجا لانے میں کوتاہی کا تصور تک نہیں کر سکتی۔ ہماری بیورو کریسی تو نوآبادیاتی دور کی یادگار ہے، جسے انگریز یہاں چھوڑ گئے تھے۔ نہ اس کے رولز بدلے ہیں اور نہ طور طریقے۔ سول سروس اکیڈمی میں انہیں ایک ہی بات سمجھائی جاتی ہے کہ وہ سپیرئیر ہیں۔ اس برتری کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر جب وہ فیلڈ میں آتے ہیں تو بندے کو بندہ نہیں سمجھتے۔انہی کاٹھے انگریزوں کی وجہ سے غالباً شہبازشریف نے خود کو خادم اعلیٰ کہا تھا، تاکہ یہ بھی خود کو عوام کا خادم سمجھنا شروع کر دیں ……مگر ایسا کرتے ہوئے وہ یہ بھول گئے کہ انہوں نے کوئی نظام وضع کرنے کی بجائے بادشاہت کے تحت حکمرانی کی۔ وزیراعلیٰ جب تک نوٹس نہیں لیتا تھا، بیورو کریسی لسی پی کر سوئی رہتی تھی۔ شہبازشریف کے دور میں بھی عوامی نمائندے بیورو کریسی کے ہاتھوں خوار ہوتے رہے، کیونکہ وزیراعلیٰ سے ملنا ان کے لئے مشکل تھا اور بیورو کریٹس ان کی بات نہیں سنتے تھے۔

اب بیورو کریٹس نے اپنی طاقت کو ایک نئے انداز سے منوا لیا ہے۔ انہوں نے حکومتِ وقت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبورکر دیا ہے۔ حکومت میں اتنا دم خم نہیں تھا کہ جو افسران کام نہیں کر رہے، انہیں ایک طرف کر کے دوسرے افسروں کو آگے لاتی، اس لئے ان کی بات مان لی گئی کہ وہ جو چاہیں کریں، ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی، بس وہ کام کرنے پر آمادگی ظاہر کریں۔ دنیا میں کون سا ایسا نظام ہے،جہاں اس قسم کی مادر پدر آزادی ہو، جیسی پاکستان میں بیورو کریسی کو دی گئی ہے، یعنی اس حد تک آزادی کہ جو قواعد و ضوابط بنائے گئے ہیں، اگر ان کی خلاف ورزی بھی کی جائے گی، تو اس پر کوئی گرفت نہیں ہو گی، جب تک یہ ثابت نہیں ہو گی۔ ان باتوں سے تو ایسا ہی لگتا ہے کہ بیورو کریسی معصوم بچوں کا ایک ٹولہ ہے، جو روٹی کو چوچی کہتا ہے، اس لئے غلطیاں بھی کر سکتا ہے، لہٰذا اسے پکڑنے کی بجائے ”اور کرو شاباش“ کہہ کر چھوٹ دی جائے۔ ایسی بیورو کریسی جو فتح سے سرشار ہو کر میدان میں آئی ہے، کیا وزیراعظم عمران خان کی اس بات پر کان دھرے گی کہ اسے عوام کی خدمت کرنی چاہیے؟ مجھے تو یہ فقط ایک خوش گمانی لگتی ہے، کیونکہ بیورو کریٹس خود کو اس ملک کا اصل حکمران سمجھتے ہیں۔ 72سالہ تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے ہی سیاست دانوں کو بدعنوانی کے راستے دکھائے ہیں، ان کے راستے میں بند نہیں باندھے۔ انہوں نے عوام کے مسائل حل کرنے کی بجائے مسائل پیدا کئے ہیں، یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ کیا اب یہی بیورو کریٹس احتساب سے آزاد ہو کر عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو جائیں گے؟ ایسی باتیں صرف عمران خان ہی سوچ سکتے ہیں، اللہ کرے ان کی توقعات پوری ہوں …… معجزے بھی تو اسی دنیا میں ہوتے ہیں۔

مزید : رائے /کالم


loading...