وزیراعظم کا امدادی پیکیج؟

وزیراعظم کا امدادی پیکیج؟

  



وزیراعظم عمران خان نے یوٹلیٹی سٹورز کے لئے امدادی رقم میں اضافہ کر دیا اور اب عوام کو سستی اشیاء مہیا کرنے کے لئے8ارب کی خطیر رقم دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ اشیاء ضرورت اور خوردنی سستی کی جائیں۔وزیراعظم عمران خان نے یہ بھی کہا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران معیشت سنبھالتے رہے ہیں،جو اب مستحکم ہو چکی۔ عالمی ادارے تسلیم کرتے اور بیرونی سرمایہ کاری بھی آ رہی ہے اور یوں 2020ء ترقی اور خوشحالی کا سال ثابت ہو گا۔وزیراعظم نے بجا فرمایا اور اس پر اطمینان کا بھی اظہار کرنا چاہئے تاہم ان کی یہ امدادی رقم عوام(صارفین) کو فائدہ نہیں پہنچا سکے گی کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران یوٹیلٹی سٹورزکارپوریشن کی طرف سے دو بار اشیاء کے نرخ بڑھائے جا چکے ہیں۔ گھی، چاول اور دالوں کے علاوہ دودھ بھی مہنگا کر دیا ہے۔ یوں اس امدادی پیکیج ہی کو بے اثر کر دیا گیا ہے۔ حکومت کے وفاقی وزیر فرماتے ہیں کہ اس کے باوجود یوٹیلٹی سٹورز پر اب بھی اشیاء سستی ہیں، یہ حقیقت تو ان صارفین سے پوچھیں جو ان سٹورز سے سودا سلف خریدتے ہیں،ان کے مطابق اب تو بازار سے خریداری بہتر ہے۔ دوسری طرف بازار میں بدستور مہنگائی کا راج ہے۔ سبزی اور پھل تک روایتی نرخوں کی طرف واپس نہیں آ رہے،عوام کی قوتِ خرید کہیں کم ہونے اور سودا کچھ کم بکنے کے باوجود قیمتیں کم نہیں ہو رہیں۔اب تو آٹا بھی مہنگا ہونا شروع ہو گیا، چکی آٹا55روپے فی کلو سے60روپے فی کلو ہوا ہے، اب اس میں چار روپے فی کلو کا مزید اضافہ کر دیا گیا ہے اور یہ64روپے فی کلو بک رہا ہے، جبکہ برانڈڈ دیسی آٹا تو65روپے فی کلو ہے۔ یوں عوام مسلسل پس رہے ہیں۔اب تو نانبائی بھی روٹی مہنگی کرنے کی فکر میں ہیں۔ پشاور کے نانبائیوں نے انتباہ کیا کہ اگر آٹا سستا نہ ہوا تو روٹی 15روپے کی کر دی جائے گی۔پشاور میں 130 گرام کی روٹی پہلے ہی10روپے میں بک رہی ہے۔ وزیراعظم کو سب اچھا کی رپورٹیں سننے کی بجائے تحقیق کرانا اور ایسے اقدام کرنا چاہئیں کہ منافع خوری کا قلع قمع ہو اور نرخ جائز وصول کئے جائیں۔

مزید : رائے /اداریہ