اردوان کا جنرل قاسم کی شہادت پر اظہار افسوس، دورہ ایران کا اعلان، چینی وزیر خارجہ کا جواد ظریف کو فون، امریکی حملے کی مذمت

اردوان کا جنرل قاسم کی شہادت پر اظہار افسوس، دورہ ایران کا اعلان، چینی وزیر ...

  



انقرہ، بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر تعزیت کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں ایران کا دورہ کریں گے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے ترک ہم منصب رجب طیب اردگان کو ٹیلی فون کیا اور جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے حوالے سے ہونے والے واقعات سے آگاہ کیا۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بغداد میں ہونیوالے جنازے میں بڑی تعداد میں لوگوں کی شمولیت سے جنرل سلیمانی کی مقبولیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔انہوں نے علاقائی سکیورٹی اور استحکام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیرونی مداخلت اور علاقائی جھگڑوں کے باعث خطے میں امن و استحکام نہیں آپاتا، ہمیں خطے کی سکیورٹی کیلئے خطرہ بننے والے عناصر کو اس کام کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ترک صدر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران بصیرت کے ساتھ موجودہ مسئلے سے نبرد آزما ہوگا، انہوں نے ایرانی ہم منصب سے کہا کہ وہ مستقبل قریب میں ایران کا دورہ کریں گے جس میں دو طرفہ اور علاقائی امور زیر غور آئیں گے۔ادھر چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی  نے ایرانی وزیر خارجہ سے رابطے میں کہا ہے کہ امریکہ نے عالمی تعلقات کے اقتدار کی خلاف ورزی کی ہے، امریکہ طاقت کے ناجائز استعمال سے باز رہے،اس کو بات چیت سے مسائل حل کرنے چاہئیں،امریکی فوجی آپریشن عالمی معاملات کی خلاف ورزی ہے،ان کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے،یہ امریکی اقدام  خطے میں مزید بے چینی بڑھنے کا سبب بنے گا۔ہفتہ کو چینی میڈیا کے مطابق چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں عراق پر امریکی حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے عالمی تعلقات کے اقتدار کی خلاف ورزی کی ہے، امریکہ طاقت کے ناجائز استعمال سے باز رہے،اس کو بات چیت سے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوجی آپریشن عالمی معاملات کی خلاف ورزی ہے ان کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے،یہ امریکی اقدام  خطے میں مزید بے چینی بڑھنے کا سبب بنے گا۔

اردوان

مزید : صفحہ اول


loading...