جنرل قاسم سلیمانی کی بغداد میں نماز جنازہ ادا،لاکھوں افراد کی شرکت،ایران کا امریکہ کیخلاف اعلان جنگ،واشنگٹن کا مزید 3ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا حتمی فیصلہ

جنرل قاسم سلیمانی کی بغداد میں نماز جنازہ ادا،لاکھوں افراد کی شرکت،ایران کا ...

  



بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) بغداد میں ایرانی القدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور انکے ساتھیوں کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی۔ عراقی وزیراعظم سمیت لاکھوں افراد نمازجنازہ میں شریک ہوئے۔عراقی  شرکاء  نے امریکہ مخالف نعرے لگائے۔ایرانی میڈیا کے مطابق قاسم سلیمانی کی میت ایران روانہ کردی گئی، جہاں کل مشہد میں بھی ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی، جس میں آیت اللہ خامنہ ای بھی شریک ہونگے، قاسم سلیمانی کی تدفین آبائی شہر کرمان میں ہوگی۔دوسری طرف ایران کی جانب سے قدیم روایتی طرز میں جنگ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ا مقدس شہر جمکران کی مسجد امام زمانہ میں سرخ پرچم لہرا دیا گیا ہے۔سرخ پرچم کا لہرانا باقاعدہ جنگ کا اعلان ہوتا ہے۔اس سے قبل مسجدجمکران پر ہمیشہ سبز پرچم لہراتا رہتا ہے۔قدیم فارس اور عرب روایات میں سرخ پرچم جنگ شروع ہونے کی علامات کہلاتا ہے۔جمکران شہر کی یہ مسجد انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ یہ مسجد امام مہدی سے منسوب سمجھی جاتی ہے۔اس مسجد پر اس سے قبل کبھی سرخ پرچم نہیں تھا تاہم قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد اس مسجد پر سرخ پرچم لہرایا گیا ہے۔جب کہ دوسری جانب ایرانی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل رمضان نے کہا ہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل پر امریکا کی خوشی جلد سوگ میں تبدیل کر دیں گے۔ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کے بعد عراق سے ملحق سرحد پر ایرانی لڑاکا طیاروں کی پروازیں جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ نے سرکاری ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔عراقی خودمختاری اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی گئی۔جواد ظریف نے کہا کہ ایران کسی بھی وقت اور انداز میں جواب دینے کا حق رکھتا ہے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ روز عراق میں امریکی حملے میں مارے جانے والے القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی رہائش گاہ پر آکر مقتول کے خاندان سے تعزیت کی ہے۔ اس موقع پر ایرانی حکومت کے دیگر اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق خامنہ ای اورسینئر ایرانی عہدیداروں قاسم سلیمانی خاندان سے تعزیت کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔اس موقع پر خامنہ ای نے مزید کہا کہ سلیمانی کی عدم موجودگی ہمیں تلخ بناتی ہے لیکن ہماری جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک فتح حاصل نہیں ہو جاتی اور مجرموں کی زندگیاں مزید تلخ ہو جاتیں۔آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ سلیمانی کو قتل کرنے والے اب اپنے المناک انجام کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بات زور دے کر کہی کہ قاسم سلیمانی کا قتل امریکا اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو مزید بڑھا دے گا۔ایرانی قومی سلامتی کونسل نے کہاہے کہ ہم مناسب جگہ اور وقت پر امریکا کے اس اقدام کا جواب دیں گے، ہمارا رد عمل اور جواب بہت سخت ہو گا، اب امریکا ہمارے جواب کا انتظار کرے جنرل قاسم سلیمانی کی عراق میں ایک فضائی آپریشن میں ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں مزید 3ہزار فوجی مشرق وسطیٰ بھیجنے کا اعلان کر دیا  ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی عہدیداروں کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی افواج کو بڑھتے ہوئے خطرات کے تناظرمیں لیے جانے والے احتیاطی اقدام کے طور پر فورسز کے 82 ویں ایئر بورن ڈویڑن سے مزید 3ہزار فوجیوں کو مشرق وسطیٰ کیلئے بھیجا جائیگا۔امریکی حکام نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ فوج کو رواں ہفتے کویت بھیجے گئے ساڑھے 700فوجی بھی شامل ہوں گے۔ عراقی وزارت تیل نے کہا ہے کہ بصرہ میں غیر ملکی تیل کمپنیوں کے لیے کام کرنے والے امریکی شہریوں نے عراق سے واپس جانا شروع کردیا۔عراقی حکام کا کہنا تھا کارکنان کے انخلا سے ملک میں تیل کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہیں ہوں گی جو تیل برآمد کرنے والے ملک میں دوسرا بڑا ملک ہے اور 46 لاکھ 20 ہزار بیرل روزانہ تیل برا?مد کرتا ہے۔تیل کمپنی کے ذرائع نے بتایا کہ درجنوں غیر ملکی کارکنان کے عراق سے جانے کی توقع ہے جبکہ بصرہ کے ایئرپورٹ پر امریکیوں سمیت بڑی تعداد میں غیر ملکی نظر آئے۔امریکی توانائی کمپنی ایگزون موبِل نے اس حوالے سے قسم کا کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا کہ آیا وہ عملے کو عراق سے نکال رہے ہیں لیکن ان کا کہنا تھا کہ تیل کی پیداوار معمول کے مطابق رہے گی۔ ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا ہے کہ جنرل سلیمانی کے قتل پر رد عمل کو قابو کرنا بس سے باہر ہے، قطر کے وزیر خارجہ تہران پہنچ گئے ہیں، چینی وزیر خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب کو فون کیا ہے، امریکا نے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی میں عراقی فوج کی مدد کرنے والے امریکی اور اتحادی فوجیوں کے ا?پریشنز کو کم کر دیا ہے۔دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کو جنگ شروع کرنے کے لیے نہیں بلکہ روکنے کے لیے مارا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ جنگ روکنے کے لیے کیا اور امریکا کے اقدامات جنگ شروع کرنے کے لیے نہیں ہوتے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ جنرل قاسم سلیمانی کو دہشتگرد اور بیمار شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے معصوم لوگوں کو ہلاک کیا اور اس کے حملوں سے دور دور تک نئی دہلی اور لندن تک لوگ متاثر ہوئے، لیکن اب ہم سکون کا سانس لے سکتے ہیں کہ قاسم سلیمانی کی دہشت ختم ہوچکی ہے۔دریں اثناعراق میں ایران کے حامی جنگجوؤں پر ہفتے کے روز ہونے والے ایک اور حملے میں 6 افراد ہلاک 3 شدید زخمی ہوگئے جبکہ امریکی اتحادی افواج اور عراقی فوج نے حملے کی تردید کی۔فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کی رپورٹ کے مطابق اس سے ایک روز قبل 3 جنوری کو بغداد ایئرپورٹ کے قریب امریکی ڈرون حملے میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ قاسم سلیمانی اور عراقی پیرا ملٹری کی اہم شخصیت ابو مہدی المہندس ہلاک ہوئے تھے۔قتل کی یہ کارروائی امریکا اور ایران کے مابین پہلے سے جاری کشیدگی میں ڈرامائی اضافہ کرنے کا سبب بنی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے باوجود کہ وہ جنگ نہیں چاہتے امریکا نے مزید فوجی اہلکار عراق بھیجنے کا اعلان کردیا جبکہ عراقی شہریوں کو ڈر ہے کہ یہ لڑائی ان کی سرزمین پر لڑی جاسکتی ہے۔ادھر ایران سے قریبی تعلق رکھنے والے عراقی پیرا ملٹری نیٹ ورک نے ایک بیان میں کہا کہ تقریباً 24 گھنٹوں بعد الحشد الشعبی سے تعلق رکھنے والے قافلے پر ایک اور فضائی حملہ کیا گیا۔اپنے بیان میں انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ حملے کا ذمہ دار کون ہے البتہ عراق کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ امریکا کا فضائی حملہ تھا۔عراق کے عسکری گروہوں کے مرکزی گروپ پاپولر موبلائزیشن فورسز (حشد الشعبی) نے بتایا کہ بغداد میں کیمپ تاجی کے نزدیک ہونے والے حملے میں 6 افراد ہلاک جبکہ 3 شدید زخمی ہوئے۔امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا  اور جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے پیدا کی صورتحال پر بات چیت کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ہفتے کے روز ٹیلی فونک رابطہ کیا اور جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت کی۔محمد بن سلمان سے گفتگو کرتے ہوئے مائیک پومپیو نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے خطے میں امریکیوں کے تحفظ کے لیے فیصلہ کن دفاعی کارروائی کا دلیرانہ فیصلہ کیا،امریکی وزیر خارجہ نے سعودی ولی عہد سے امریکی کارروائی اور خطے میں ایرانی حکومت کی فوجی اشتعال انگیزی کے حوالے سے دونوں ممالک کے مشترکہ تحفظات پر بات چیت کی۔دوسری جانب  سعودی عرب نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر تحمل سے کام لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عراق میں رونما ہونے والے واقعات اس سے قبل کی گئی دہشت گرد کارروائیوں کا نتیجہ ہیں اور سعودی عرب نے اس کے خطرناک نتائج کے بارے میں تنبیہہ کی تھی۔امریکی کانگریس کے اراکین نے ایران پر جنگ مسلط کرنے کے ٹرمپ کے اقدام کو روکنے کی تیاری شروع کردی۔امریکہ تھریٹ لیول بڑھانے پر بھی غور جاری ہے۔ امریکی کانگریس کے اراکین نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسی کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایران میں امریکی مداخلت روکنے کے لیے سینٹر برنی سینڈرز اوررو خانہ نے قانون سازی روکنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں ہیں۔کانگریس کے اراکین نے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے خلاف بغیر اجازت جنگ شروع کر دیں۔قانوون سازی کا مطلب جنگ کے لئے فنڈ کو روکنا ہے، ایسا لگتا ہے کہ ہم ایک بار پھر مشرق وسطی میں تباہ کن جنگ کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ نہ ختم ہونے والی جنگ کے لیے مزید کھربوں ڈالر خرچ نہیں کئے جاسکتے۔جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے بعد تعینات کیے گئے قدس فورس کے نئے سربراہ نے عہدہ سنبھالتے ہی امریکیوں کی لاشیں بچھانے کا اعلان کردیا۔جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی کو پاسداران انقلاب کی ذیلی تنظیم قدس فورس کا سربراہ مقرر کیا ہے۔مڈل ایسٹ آئی کیلئے کام کرنے والے ترک صحافی رجب سوئیلو نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ قدس فورس کے نئے سربراہ نے عہدہ سنبھالتے ہی بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے ٹویٹ میں نے بریگیڈیئر جنرل اسماعیل قانی کے حوالے سے لکھا کہ ہم سب لوگوں کو کہتے ہیں کہ صبر رکھیں اور پورے مشرقِ وسطی میں امریکیوں کی لاشیں گرتی دیکھیں۔

عراق اعلان

مزید : صفحہ اول