ایف بی آر کا مالی سال کے 6ماہ میں پچھلے برس کی نسبت 16.3فیصد زائد ٹیکس وصولی کا انکشاف

ایف بی آر کا مالی سال کے 6ماہ میں پچھلے برس کی نسبت 16.3فیصد زائد ٹیکس وصولی کا ...

  



اسلام آباد (این این آئی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جاری کردہ پریس ریلیز میں وضاحت کی ہے کہ جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں 2083ارب روپے کا ٹیکس اکھٹا ہوا ہے جو کہ 16.3فیصد پچھلے سال کے مقابلے میں زیادہ ہے۔2015-16سے اب تک کا یہ بلند ترین اضافہ ہے۔ معاشی حالات سازگار نہ ہونے کے باوجود یہ اضافہ ایف بی آر کی انتھک کوشش کا نتیجہ ہے۔سال کی پہلی سہ ماہی میں درآمدات میں دانستہ کمی کے باعث 2367ارب کے ٹیکس ہدف کو نظرثانی کے بعد 2197ارب کر دیا گیا۔ درآمدات میں کمی کا یہ رحجان دوسری سہ ماہی میں بھی جاری رہا جس کے نتیجے میں امپور ٹ پر ٹیکسوں میں کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ درآمدات میں پانچ ارب ڈالرزسے زائد کمی کے نتیجے میں جہاں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ کی صورت حال بہتر ہوئی وہاں حکومت کے ٹیکس ذرائع میں کمی واقع ہوئی۔ ہر ایک ارب ڈالر کی درآمدات کی کمی کے نتیجے میں تقریبأ56ارب روپے کا ٹیکس خسارہ واقع ہوتا ہے۔ اگر اس حساب سے دیکھا جائے تو ایف بی آر اپنے ٹارگٹ کے مطابق ٹیکس جمع کر رہا ہے۔ایف بی آر نے اندرونی ذرائع سے حاصل ٹیکسز کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کر دیا ہے اور اس سال درآمدی ٹیکسز پر انحصار چھپن فیصد سے چالیس فیصد تک کم کر دیا گیاہے۔ معاشی رفتار میں اگلے چھ ماہ میں تیزی اور درآمدات میں متوقع استحکام کے باعث یہ امید کی جا سکتی ہے کہ ایف بی آر اس سال معاشی سرگرمیوں کو متاثر کئے بغیر اپنے اہداف کے قریب تر ٹیکس اکھٹا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔علاوہ ازیں فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے جاری کردہ بیان میں وضاحت کی ہے کہ تاجروں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرتے ہوئے ٹیکس ترمیمی آرڈنینس کے ذریعے قوانین میں درستگی کر دی گئی ہے اب جبکہ شنا ختی کارڈ کی شرط ہر فروخت پر قانونی شکل اختیا ر کر گئی ہے جس کی وجہ سے تاجران جائز مطالبہ کر رہے تھے کہ ان پر عائد کم از کم ٹیکس کی شرح میں کمی لائی جائے کیونکہ بہت سے ٹیکس گزارکم از کم ٹیکس کی زیادہ شرح کی وجہ سے اپنی فروخت کے درست اعدادو شمار دینے سے گریز کیا کرتے تھے۔ فروخت کے درست اعدادوشمار کے رحجان کو تقویت دینے کے لئے ٹیکس کی کم سے کم شرح کو قابل قبول بنایا گیا ہے۔ اسی طرح تجارتی آسانی کے فروغ کے لئے درمیا نے درجہ کے تاجران کو ودہولڈنگ ایجنٹ کی ذمہ داریوں سے مبرا کر دیا گیا ہے۔ تاجر تنظیموں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ درمیانے اور بڑے ریٹیلرز کو انکم ٹیکس میں رجسٹرڈ کرایا جائے گا۔تاجر تنظیموں نے اپنے نمائندگان بھی نامزد کر دئے ہیں تاکہ کم ٹیکس دینے والے کاروبار کے ٹرن اوور کا جائزہ لیا جاسکے۔ مزیدبراں تاجر تنظیموں نے آڈٹ تنازعات کے حل کے لئے ایف بی آر کے ساتھ تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایف بی آر ٹیکس گزاروں کے تعاون کے ساتھ ٹیکس نظام میں بہتری لانا چاہتا ہے اور محاذ آرائی سے گریز چاہتا ہے۔ ایف بی آر کے ان اقدامات کی بدولت معاشی سرگرمیوں کو متاثر کئے بغیرٹیکس اہداف کے حصول میں مدد ملے گی اور معیشت کو دستاویزی بنانے کے مقصد کو بھی حاصل کیا جا سکے گا۔

ایف بی آر

مزید : صفحہ اول