معروف صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم کے گھر بھی مسلح افراد گھس گئے اور ۔ ۔ ۔ پریشان کن خبرآگئی

معروف صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم کے گھر بھی مسلح افراد گھس گئے اور ۔ ۔ ۔ ...
معروف صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم کے گھر بھی مسلح افراد گھس گئے اور ۔ ۔ ۔ پریشان کن خبرآگئی

  



اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) معروف صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم کے گھر بھی مسلح افراد گھس گئے اور اہلخانہ کو یرغمال بنا کر زیورات اور نقدی لوٹ لی جبکہ دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگئے ۔ 

صحافی احمد نورانی نے ٹوئٹر پر بتایا کہ ’’ معروف صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم کے گھر چھ سے سات مسلح افراد دیواریں پھلانگ کر داخل ہوئے۔ انکے سرکاری گن مین (پولیس اہلکار) سے بندوق چھین لی۔ اسے رسیوں سے باندھ کرفائرنگ کی۔ انکی بیٹی امرعالم کےزیورات اورنقدی چھین لی۔ اوردھمکیاں دیتےہوئےفرارہوگئے‘‘۔

ایک اور ٹوئیٹ میں احمد نورانی نے بتایا کہ ’’امتیاز عالم اس وقت امریکہ میں موجود ہیں ۔ اللہ انکے خاندان کی حفاظت فرمائے ‘‘۔

احمد نورانی کے اس انکشاف پر رائے شکیل نے لکھا کہ ’لا قانونیت کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ڈاکو اور محافظ، چور اور سپاہی کا فرق مٹ جاتا ہے۔ ریاست کے مقتدر لوگ جو اہل وطن کو غدار سمجھ کر غائب کر دیتے ہیں انکو سمجھ لینا چاہیے کہ حالات وہاں جا رہے ہیں جہاں انکو سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں ہو گا‘۔

زمان چوہدری نے لکھا کہ ’’نامعلوم افراد کو کچھ دن پہلے معروف قانون دان اکرم شیخ کے گھر اور لاپتہ افراد کیس میں وکیل انعام اللہ کے گھر داخل ہوئے تھے ۔۔

عابد یونس نے تجویز دی کہ ’یہاں ڈکیتیاں بڑھ گئی ہیں پولیس سوئی پڑی ہے،آپ لوگ اس پہ پروگرام کرو پولیس ریفارمز پر ایک ساتھ دس پروگرام کرو نئے نئے آئیڈیا لاکر گورمنٹ کو دو‘۔

ایک اور سوشل میڈیا صارف نے لکھا کہ ’افسوسناک ! لیکن اسے صحافت پہ حملہ کہنا مسخرہ پن ھے - یہ ڈکیتی کی واردات ہے - عام آدمی بازار میں پٹتا ھے تو آپ چسکے لے لے کر خبر میں " گتھم گتھا، مغلظات، سر پھٹ گیا، برہنہ کر دیا" جیسے الفاظ جوڑتے ہیں لیکن جب ایک ذاتی پنگے میں احمد نورانی کو پیٹا گیا تو اسے پریس پہ حملہ لکھا گیا‘‘۔

نجیب احمد نے لکھا کہ ’’عمران خان نے لوٹ مار بھی اب ایک پیشہ بنا دیا ھے۔ جس کا جی چاھے اسے اختیار کر لے۔ مہنگائی اور بیروزگاری بڑھے گی تو تعلیم یافتہ ڈکیت ھی پیدا ھونگے۔ چھینا چھپٹی کی طرف لگا دیا گیا ھے اس قوم کو‘‘۔

ایک اور صارف  نے دلاسہ دیتے ہوئے لکھا کہ ’’ڈرنے کی ضرورت نہیں پاکستان اس وقت مخفوظ ہاتھوں میں ہے ‘‘۔

مزید : قومی /جرم و انصاف


loading...