چپ کر دڑ وٹ جا

چپ کر دڑ وٹ جا

  



تحریر : ذکاءاللہ محسن 

کبھی کبھار دل کرتا ہے کہ جو دل اور دماغ کے گوشوں میں سچ ہے اس کو الفاظ کی شکل میں ڈھال کر پیش کر دیا جائے پھر اسی دل و دماغ میں ایک خوف کی لہر دوڑ جاتی ہے کہ گمان ہونے لگتا ہے کہ اس کے بعد شاید چراغوں میں روشنی نا رہے اور اگر تھوڑی بہت رہنے بھی دی گئی تو اس روشنی کا کوئی فاہدہ نہیں ہے اس سے تو اپنے آنگن میں روشنی نہیں ہوگی کہ اس روشنی سے دکھ سکھ کا شریک ساتھی اور آنگن میں کھلنے والے پھول بھی مستفید نہیں ہوسکیں گے ان کو فی الحال میری ضرورت ہے پھر دل کو تسلی کچھ یوں بھی دینی پڑتی ہے کہ میں کونسا حبیب جالب ہوں یا فیض احمد فیض ہوں یا انور مقصود ہوں اور انہی کی طرح کے با ضمیر اور نڈر لوگ بھی ماضی اور موجودہ وقت میں بھی ہیں میں شاید ان کی طرح بہادر نہیں ہوں میرے ناتواں کندھے اتنا بوجھ برداشت نہیں کر پاہیں گے اس لئے زبان کو اپنے قابو میں رکھو اور قلم کو اپنی سوچ کی زبان بنانے سے اجتناب کرو وگرنہ ان آنکھوں کے سامنے کیا کچھ نہیں ہوتا اس صحافتی سفر میں کیا کچھ نہیں دیکھا ۔

ہمارے بہت سے کالم نویس روزانہ کئی ایک کالم لکھتے ہیں کئی تجزیہ نگاروں کے تجزئیے دن رات اخبارات اور ٹی وی چینلز کہ سکرین سے نشر ہوتے ہیں کئی ایک دانشور روزانہ ملک و قوم کے بگڑتے حالات پر لب کشائی کرتے نظر آتے ہیں اور یہ سلسلہ نیا نہیں ہے بہت پرانا ہوچلا مگر پاکستان کی کرپشن سے لیکر اداروں کی تباہی، بے روزگاری، لا قانونیت، انتشار، تعصب، گروہ بندی، داخلہ اور خارجہ پالیسی، عدالتی فرسودہ نظام، مذہبی انتہا پسند، مساجد سے کافر کافر کے فتووں کی آوازیں، ہسپتالوں میں بھٹکتے اور مرتے ہوئے غریب،روزانہ امیر کا امیر تر ہونا اور غریب کا غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنا ایسا کونسا " ٹاپک " ہے جو روزانہ زیر بحث نہیں آتا جس پر لکھا یا بولا نہیں جاتا مگر گزشتہ کئی سالوں سے ہمارا نظام گونگا اور بہرہ ہوگیا ہے اس کی نظر اتنی کمزور ہوچکی ہے کہ اسکو سامنے پڑے مسائل بھی نظر نہیں آتے ظلم وجبر کی ایسی ایسی داستانیں ہیں کہ جن کو سن کر روح تک کانپ جاتی ہے مگر ہمارا نظام ان پر کان دھرنے کو تیار ہی نہیں یہی وجہ ہے کہ ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ممالک ہم سے آگے نکل چکے ہیں اور جن ممالک سے ہماری ضد بازی اور دشمنی تھی وہ تمام شعبوں میں ہم سے کوسوں دور نکل چکے ہیں اور ہم دنیا میں یا تو استعمال ہونے کے لئے دنیا کے نقشے پر موجود ہیں یا بیگانی جنگ کا حصہ بن کر اپنے ہی آنگن کی خوشیوں کو آگ اور بارود کا ڈھیر بنانے کے لئے رضا مند دیکھائی دیتے ہیں ہمارے نوجوانوں سے لیکر بوڑھے بزرگوں مائوں بہنوں اور اسکولوں کے معصوم بچوں کی لاشوں کے جنازے اٹھاتے اٹھاتے ہمارے کندھے جھکتے چلے گئے مگر ہم پھر بھی اپنی روش پر قائم رہے ہمارے نظام میں سیاسی اور عسکری تعلقات میں سال ہا سال سے جاری چپلقش نے پورے نظام کو ایسا بگاڑ کر رکھ دیا ہے کہ ہمارا ملک آئے روز مختلف بحرانوں کا شکار رہتا ہے ۔

ترقی یافتہ ملک کہلانے کا ہمیں " شوق " بھی ہے مگر شوق کی تکمیل ہمارے بس کی بات ہی نہیں ہے آپسی رنجشوں اور کوتاہیوں کی بدولت ہمارے بڑوں نے نظام کو مفلوج بنا کر رکھ دیا ہے مسائل کا انبار ہے مگر مسائل حل ہونے کا نام نہیں لیتے عوامی منصوبے جمہوریت کے نام سیاسی رسہ کشی کا شکار ہوجاتے ہیں اور ترقی یافتہ پاکستان بنانے میں کبھی عدلیہ نظریہ ضرورت لے آتی ہے کبھی ایک ڈکٹیٹر کئی کئی سال گزار جاتا ہے اور ہمارے سیاسی بڑے بھی انتقامی اور الزامات کی سیاست سے کبھی بالاتر ہوکر نہیں سوچتے بس ایک دوسرے کو " تن " کے رکھنے کی جستجو میں رہتے ہیں کبھی کبھی خیال آتا یے کہ یہ ملک یا تو سیاسی خاندانوں کا ہے یا پھر فوج کا ہے جو گاہے بگاہے ہمارا نام لیکر کبھی جمہوری انداز میں اور کبھی آمریت ہم پر مسلط کر دیتے ہیں اور کتنی ہی حیرت کی بات یے کہ کامیاب دونوں نہیں ہوتے اس کی بڑی وجہ عوام سے دونوں کہ بے رخی اور چشم پوشی ہے کیونکہ دونوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا بس فرق پڑتا ہے تو وہ عوام ہیں جن کا کوئی " والی وارث " نا ہونے کی بدولت عوام فرقہ بندی، گروہ بندی اور ایسے ایسے مسائل سے دوچار ہوچکی ہے کہ پہلے بھی قوم کا اللہ ہی حافظ تھا اور اب بھی قوم کا اللہ ہی محافظ ہے مزید لب کشائی یقیناً میری صحت کے لئے مناسب نہیں ہوگی اس لئے

چپ کر دھڑ واٹ جا

نا عشق دا کھول خالصہ !

مزید : بلاگ


loading...