ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا قتل ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مائیک پومپیو کے درمیا ن کیا بات ہوئی اور پاکستان کیا چاہتا ہے ؟ پاک فوج نے اپنا موقف جاری کر دیا

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا قتل ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مائیک ...
ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کا قتل ، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور مائیک پومپیو کے درمیا ن کیا بات ہوئی اور پاکستان کیا چاہتا ہے ؟ پاک فوج نے اپنا موقف جاری کر دیا

  



لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی پر بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ ایرانی جنرل پر حملے کے بعد خطے کے حالات میں تبدیلی آئی ہے، اسی تناظر میں جب مائیک پومپیو کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات ہوئی تو آرمی چیف نے دو باتیں کیں، انہوں نے کہا کہ خطہ خراب حالات سے بہتری کی طرف جارہاہے ، اس بہتری کیلئے افغان مصالحتی عمل کا کامیاب ہونا بہت ضروری ہے،  کوئی بھی ایسا عمل جو افغان مصالحتی عمل کو خراب کرے ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے ،دوسری بات یہ کہی کہ خطے کے مختلف ممالک میں کشیدگی کم ہونی چاہیے ، اس سلسلے میں تمام متعلقہ ممالک کو تعمیری طرز عمل سے آگے بڑھنا چاہیے ، پاکستان اس سلسلے میں تمام پر امن کوششوں کی تائید کرے گا اور خواہش کرتاہے کہ خطہ کسی اور جنگ کی طرف نہ جائے ۔آصف غفور نے کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف نے واضح کر دیاہے کہ ہم اپنی سر زمین کسی کے بھی خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ، یہ موقف واضح ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے کہ ایرانی جنرل پر حملے کے بعد خطے کے حالات میں تبدیلی آئی ہے ،ہمارا خطہ سیکیورٹی کے لحاظ سے بہت سے مسائل کا سامنا کر رہاہے ، پہلے افغان جنگ ہوئی اور پھر نائی الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ ہوئی ، پاکستان اور بھارت کے درمیان بہت کشیدگی ہوئی ، 2فروری کو دونوں ملک جنگ کے دہانے تک پہنچے ، بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور پاکستان نے ان کے دو جہاز گرائے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کہ اس تمام عرصہ میں پاکستان نے ہر وہ کام کیاہے جو کہ خطے میں امن لا سکتا تھا ،ہم نے اپنے ملک میں دہشتگردی کو ناکام کیا اور پاک افغان سرحد کو محفوظ کیا،ہم بھارت کے خلاف ان کی اشتعال انگزیوں کے باوجود ایک ذمہ دار ریاست اور قابل افواج ہونے کا ثبو ت دیا، ان حالات میں خطے کے کسی بھی ملک کے ریفرنس سے کوئی بھی کشیدیگی پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امن کی کوششوں کے خلاف ہے ۔

آصف غفور نے بتایا کہ اسی تناظر میں جب مائیک پومپیو کی جنرل قمر جاوید باجوہ سے بات ہوئی تو آرمی چیف نے دو باتیں کیں، انہوں نے کہا کہ خطہ خراب حالات سے بہتری کی طرف جارہاہے ، اس بہتری کیلئے افغان مصالحتی عمل کا کامیاب ہونا بہت ضروری ہے ، پاکستان اس میں بھر پور کردارادا کررہاہے ، پاکستان خواہش کرتاہے کہ اس پر فوکس جاری رہے اور یہ امن کی طرف لے کر جائے ، کوئی بھی ایسا عمل جو افغان مصالحتی عمل کو خراب کرے ہمیں اس سے اجتناب کرنا چاہیے ۔

ڈ ی جی آئی ایس پی آر نے بتایاکہ آرمی چیف نے مائیک پومپیو سے دوسری بات یہ کہی کہ خطے کے مختلف ممالک میں کشیدگی کم ہونی چاہیے ، اس سلسلے میں تمام متعلقہ ممالک کو تعمیری طرز عمل سے آگے بڑھنا چاہیے ، پاکستان اس سلسلے میں تمام پر امن کوششوں کی تائید کرے گا اور خواہش کرتاہے کہ خطہ کسی اور جنگ کی طرف نہ جائے ۔

نجی ٹی وی کے اینکر نے سوال کیا کہ آرمی چیف کی جو مائیک پومپیو سے بات چیت ہوئی ،یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ ایران کے خلاف اس جنگ کا حصہ بننے جارہاہے ؟

اس سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بہت سی افواہیں گردش کر رہی ہیں ، جب میں سوشل میڈیا دیکھتاہوں تو بد قسمتی سے اس میں کچھ جانے مانے لوگ بھی بات کر رہے ہیں ، یہ کوئی پہلی کال نہیں ہے ، افغان مصالحتی عمل اور خطے کی سیکیورٹی کو لے کر آرمی چیف کا اہم کردار رہے ، اسی تناظر میں بات چیت ہوئی ہے ، اس پر دفتر خارجہ کا اپنا بیان بھی آچکا ہے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم عوام اور میڈیا سے درخواست کرتے ہیں کہ صرف باوثوق ذرائع کی بات پر توجہ دیں ،اس پر پراپیگنڈہ جو کہ ملک دشمن افواہیں ہیں اس پر توجہ نہ دیں ، ان افواہوں کو پھیلانے میں بھارت لیڈ کر رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت قربانیوں کے بعد پاکستان میں امن کو حاصل کیاہے ، خطے میں امن کیلئے بھر پور کردار ادا کریں گے اور اس امن کو خراب ہونے کے کسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے ۔

اینکر نے سوال کیا کہ بھارتی آرمی چیف نے عہدہ سنبھالنے کے بعد دھمکی آمیز بیانات دیئے ہیں جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھا کہ میں نے ان کے بیانات سنے ہیں ، میں یہ کہوں گا کہ وہ آرمی چیف کے عہدے پر نئے آئے ہیں اور اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن وہ بھارتی فوج میں نئے نہیں آئے انہیں خطے کے حالات اور پاکستان کی فوج کی قابلیت کا بخوبی علم ہے، وہ 27 فروری کو بھی انڈین فوج کا حصہ تھے نئے نہیں آئے۔

آصف غفور کا کہناتھا کہ ہم امید کرتے ہیں وہ عقل وفہم کا دامن مزید ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے ، افواج پاکستان ملک کا دفاع کرنا جانتی ہیں ،اور بھارت کو بھی اس سے بخوبی آگاہی ہے، ہم خطے میں امن چاہتے ہیں لیکن ملکی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ،بھارتی آرمی چیف کو چاہیے کہ وہ ان دھمکیوں کی بجائے ، کشمیر میں جاری محاصرے کو ختم کرنے، وہاں پر ظلم وستم بند کرنے اور بھارت میں ہندو توا کے زیر اثر جو ظلم ستم چل رہاہے اس کو بند کروانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ورنہ جس راستے پر بھارت چل رہاہے وہ اپنے ہی ہاتھوں تباہی کی طرف لے جائے گا ۔آصف غفور نے کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف نے واضح کر دیاہے کہ ہم اپنی سر زمین کسی کے بھی خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ، یہ موقف واضح ہے۔

مزید : Breaking News /اہم خبریں /قومی


loading...