افواہیں ہیں کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بننے جارہاہے ؟ اس سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیتے ہوئے عوام اور میڈیا کیلئے پیغام جاری کر دیا

افواہیں ہیں کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بننے جارہاہے ؟ ...
افواہیں ہیں کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ کا حصہ بننے جارہاہے ؟ اس سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیتے ہوئے عوام اور میڈیا کیلئے پیغام جاری کر دیا

  



راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن )ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہاہے کہ ایران امریکہ کشیدگی سے متعلق پاکستان کے حوالے سے چلنے والی افواہوں کی سختی سے تردید کی ہے اور کہاہے کہ بھارت ایسی افواہیں پھیلانے میں لیڈ کر رہاہے ، عوام اور میڈیا ملک دشمن افواہوں پر توجہ نہ دیں اور صرف باوثوق ذرائع کی بات پر توجہ دیں ۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی کے اینکر نے سوال کیا کہ آرمی چیف کی جو مائیک پومپیو سے بات چیت ہوئی ،یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ ایران کے خلاف اس جنگ کا حصہ بننے جارہاہے ؟

اس سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسی بہت سی افواہیں گردش کر رہی ہیں ، جب میں سوشل میڈیا دیکھتاہوں تو بد قسمتی سے اس میں کچھ جانے مانے لوگ بھی بات کر رہے ہیں ، یہ کوئی پہلی کال نہیں ہے ، افغان مصالحتی عمل اور خطے کی سیکیورٹی کو لے کر آرمی چیف کا اہم کردار رہے ، اسی تناظر میں بات چیت ہوئی ہے ، اس پر دفتر خارجہ کا اپنا بیان بھی آچکا ہے ۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم عوام اور میڈیا سے درخواست کرتے ہیں کہ صرف باوثوق ذرائع کی بات پر توجہ دیں ،اس پر پراپیگنڈہ جو کہ ملک دشمن افواہیں ہیں اس پر توجہ نہ دیں ، ان افواہوں کو پھیلانے میں بھارت لیڈ کر رہاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت قربانیوں کے بعد پاکستان میں امن کو حاصل کیاہے ، خطے میں امن کیلئے بھر پور کردار ادا کریں گے اور اس امن کو خراب ہونے کے کسی عمل کا حصہ نہیں بنیں گے ۔

اینکر نے سوال کیا کہ بھارتی آرمی چیف نے عہدہ سنبھالنے کے بعد دھمکی آمیز بیانات دیئے ہیں جس پر ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہناتھا کہ میں نے ان کے بیانات سنے ہیں ، میں یہ کہوں گا کہ وہ آرمی چیف کے عہدے پر نئے آئے ہیں اور اپنی جگہ بنانے کی کوشش میں مصروف ہیں لیکن وہ بھارتی فوج میں نئے نہیں آئے انہیں خطے کے حالات اور پاکستان کی فوج کی قابلیت کا بخوبی علم ہے، وہ 27 فروری کو بھی انڈین فوج کا حصہ تھے نئے نہیں آئے۔

آصف غفور کا کہناتھا کہ ہم امید کرتے ہیں وہ عقل وفہم کا دامن مزید ہاتھ سے نہیں چھوڑیں گے ، افواج پاکستان ملک کا دفاع کرنا جانتی ہیں ،اور بھارت کو بھی اس سے بخوبی آگاہی ہے، ہم خطے میں امن چاہتے ہیں لیکن ملکی سلامتی پر کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے ،بھارتی آرمی چیف کو چاہیے کہ وہ ان دھمکیوں کی بجائے ، کشمیر میں جاری محاصرے کو ختم کرنے، وہاں پر ظلم وستم بند کرنے اور بھارت میں ہندو توا کے زیر اثر جو ظلم ستم چل رہاہے اس کو بند کروانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ورنہ جس راستے پر بھارت چل رہاہے وہ اپنے ہی ہاتھوں تباہی کی طرف لے جائے گا ۔آصف غفور نے کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف نے واضح کر دیاہے کہ ہم اپنی سر زمین کسی کے بھی خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیں گے ، یہ موقف واضح ہے۔

مزید : قومی


loading...