روف طاہر کی یاد میں 

روف طاہر کی یاد میں 
 روف طاہر کی یاد میں 

  

ظفر علی خان ٹرسٹ میں آپ سے ہر موضوع پر باتیں ہوتیں۔ اپنی زمانہ طالب علمی کی باتیں کس طرح عشرت اندوز ہو کر بتاتے۔ آپ انشاپرداز کہ ساتھ ساتھ اس سے بڑے قصہ پرداز تھے۔ ملک کی سیاسی تاریخ، اور سیاسی تاریخ کی اک اک انگڑائی آپ کی انگلیوں پہ تھی۔ یہ کسی سیاسی شخصیت کا نام لیا، یہ اس شخصیت کا کچا چٹھا آپ نے بیان کر دیا۔ اکثر سیاستدانوں کی راز و نیاز کی باتیں بھی دبے لبوں اور خاموش لفظوں میں بتا جاتے۔ جماعت اسلامی اور نواز شریف سے آپ کی وابستگی ڈھکی چھپی نہیں۔

آخری دم تک نواز شریف کی قلمی شمشیر رھے۔ جب بھی آپ کے پاس جاتے، آپ کو یا تو اخبارات کے مطالعہ میں محو پاتے یا ٹی وی پر خبریں سنتے۔ ساہیوال کے اک جٹ گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ جو صحافت میں اک روشن ستارا بن کر طلوع ہوا نے پنجاب یونیورسٹی سے وکالت کی ڈگری حاصل کی اور صحافت کی پرخار راہ کا مسافر بنا۔ پنجاب یونیورسٹی کی سیاست ہو یا ملکی سیاست آپ دونوں میں بے پناہ سرگرم رھے۔ ابھی ڈیرھ ماہ پہلے ہی تو آپ سے مل کے آ رہا تھا اور اب آپ کا نوحہ کہہ رہا ہوں۔ یہ نوحہ میں نہیں میرا دل کہہ رہا ھے۔

ہر وہ شخص آپ کا نوحہ کہے گا جس نے آپ کے ساتھ تھوڑا سا بھی وقت گزارا ہو گا۔ 

روف طاہر صاحب، خدا کرے آپ جاتے ہی جنت الفردوس میں مولانا مودودی کی معیت میں بسیرا کریں۔ رب تعالی اپنے اور اپنے پیارے حبیب کے نور سے آپ کی قبر کو روشن تر کرے۔ آپ کی ابھی عمر نہ تھی جانے کی۔ آپ بہت یاد آئیں گے۔۔۔۔۔!

مزید :

رائے -کالم -