غدار اور کرپٹ

غدار اور کرپٹ
غدار اور کرپٹ

  

غداری والے معاملے میں ہم کسی کا ادھار نہیں رکھتے۔اِدھر کسی نے غداری کی کوشش کی اُدھر ہم نے اسے عبرت کا نشان بنا دیا۔ کون کیس چلائے؟ شہادتیں اکٹھی کرے؟ قانون کا اطلاق کرے اور پھر سزائیں دے؟غداری کوئی معمولی جرم نہیں ہے۔ہم اس معاملے میں جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ والا معاملہ کرنے کے قائل ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ ہم قانون کی عملداری کو نہیں مانتے باقی جرائم میں تو ہمارا طرز عمل یہ ہے کہ پہلے کیس دائر کیا جائے اور پھر سزا دی جائے لیکن غداری والے جرم میں پہلے سزا دی جائے اور پھر کیس چلایا جائے بلکہ نہ ہی چلایا جائے تو بہتر ہے تا کہ باقی غدارسبق حاصل کریں۔

لفظ ”غدار“ کا شمار بھی انہی الفاظ میں ہوتا ہے جو اپنی ساخت کے اعتبار سے نفرت کا مجموعہ ہیں۔اس طرح کے الفاظ سنتے، بولتے، لکھتے اور پڑھتے ہوئے لگتا ہے گویا تمام نفرت ایک ہی جگہ امڈ آئی ہو۔اگر ایک ”اسم“ کی وضع میں اس قدر نفرت سموئی ہوئی ہے تو اس کے موضوع لہ اور ”مسمّیٰ“ کا وجود اس کا بوجھ کیسے اٹھاتا ہو گا جبکہ وہ غدار بھی نہ ہو بلکہ مذموم مقاصد کی خاطر اسے اس ”اسم با مسمّیٰ“ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہو؟ہم نے کبھی الفاظ کا وزن کیا اور نہ ہی ان کے مدلولات کا کماحقہ ادراک کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا وہ لفظ قوم کے نزدیک اپنا معیار کھو بیٹھے۔جب کوئی قوم الفاظ کو بھی ذاتی مقاصد کی منڈی میں نیلام کرنے کی ٹھان لے تو پھر نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ غداری جیسی لعنت کو بھی تمغہ سمجھا جانے لگتا ہے۔ الفاظ موم کی ناک نہیں ہوتے کہ جدھر مرضی ہو موڑ لیا جائے بلکہ ان کا استعمال درست پیرائے میں نہ ہو تو وہ بے وقعت ہو جاتے ہیں۔لیکن ہم نے اس کو بھی اتنابے محل استعمال کیا کہ اب کوئی اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں۔

جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جنہیں غدار قرار دیا گیا، قوم انہیں غدار ماننے کو تیار نہیں کیونکہ اس صف میں نیشنل گارڈزاور اپوا(APWA)کی بانی بیگم رعنا لیاقت علی، قائداعظم کے بااعتماد ساتھی اور ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان، قراردادِ پاکستان پیش کرنے والے متحدہ بنگال کے وزیراعلیٰ مولوی اے کے فضل الحق، اسی قرارداد کو سندھ اسمبلی میں پیش کرنے والے جی ایم سید، تحریک پاکستان کے ہر اول دستے کا سپاہی حسین شہید سہروردی، قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ پاکستان کے پہلے صدر بننے والے خواجہ ناظم الدین، خود قائداعظم کی بہن فاطمہ جناح اور بنگال میں مسلم لیگ کا روح رواں، قائداعظم کے جلسے کرانے والا اور فاطمہ جناح کی انتخابی مہم چلانے والے شیخ مجیب الرحمن کھڑے ہیں۔

ہم نے صرف لفظ غدار ہی نہیں بلکہ ”نااہل“، ”جلاوطن“ اور ”کرپٹ“ جیسے اہم اور وزنی الفاظ کو بھی اپنی بے احتیاطی سے بازیچہ اطفال بنا ڈالا ہے۔جب کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کے لیے ایک بھرپور تحریک چلانے والے کے ایچ خورشید جیسے انسان کو کرپٹ کہہ کر جیل میں ڈالا جائے گا، بیگم سلمیٰ تصدق حسین جیسی تحریک پاکستان کی کارکن کو کرپٹ کہہ کر نااہل کیا جائے گا،مسلم گارڈز کے لیے اپنا گھر وقف کرنے والے میاں افتخارالدین جیسے انسان کو کرپٹ کے تمغے سے نوازا جائے گا تو کون ان الفاظ پر یقین کرے گا؟یہی وجہ ہے کہ آج جب کوئی نااہل ہوتا ہے تو لوگ اس سے نفرت کرنے کی بجائے ہمدردی کرنے لگتے ہیں جب کسی کو جیل میں ڈالا جاتا ہے تو لوگ نفرت کی بجائے کے ایچ خورشید کو یاد کرنے لگتے ہیں۔ان حالات میں بہتر تو یہی ہے کہ شناختی کارڈ پر ایک اضافی خانہ بھی بنا دیا جائے جہاں بوقت ضرورت غدار یا محب وطن لکھا جا سکے۔

مزید :

رائے -کالم -