حرکت تیز تر‘ سفر آہستہ آہستہ

حرکت تیز تر‘ سفر آہستہ آہستہ
حرکت تیز تر‘ سفر آہستہ آہستہ

  

اب تو یقین سا ہونے لگا ہے کہ منیر نیازی اس قوم اور ملک کے بڑے نباض تھے اور انہوں نے اپنے ایک شعر میں جو کچھ کہا تھا‘ ٹھیک کہا تھا:

منیرؔ اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے

کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ

اور یہ ”یقین سا“ اس لئے ہو چلا ہے کہ پتہ نہیں یہ کیا اسرار ہے جادو ہے سحر ہے فسوں ہے کہ جو بھی حکمران آتا ہے داستانِ غم ہی سناتا ہے کوئی قوم کے درد کا درماں کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ ابھی ایک مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہو پاتا کہ نیا مسئلہ ایک نیا ایشو کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ مہنگائی تیزی سے بڑھ رہی ہے (برائلر مرغی کا گوشت تین سو روپے کلو ہے چند روز پہلے تک ادرک 1000 روپے کلو  میں فروخت ہو رہا تھا، اور کوئی معیاری سبزی  نوے، سو روپے کلو سے کم میں نہیں مل رہی۔ آلو گوبھی البتہ سستے ہو گئے ہیں، انڈا بیس روپے کا ہو چکا ہے)۔ لوگوں کی قوتِ خرید کم سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ اتنی کم کہ وہ نادار جو پہلے کچھ پیسے مانگتے تھے  اب کہتے ہیں کہ ایک وقت کا کھانا کھلا دیں۔ لوگ انہیں کھانے کے پیسے دے دیتے ہیں یا کھانا بھی کھلا دیتے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت اور حکمرانوں کا بھی کوئی فرض ہے یا نہیں؟ غربت بڑھ رہی ہے جناب‘ اسے بڑھنے سے روکئے۔ لوگوں کو دو وقت کا تو کیا ایک وقت کا کھانا بھی نہیں مل رہا۔ کورونا کی تباہ کاریاں الگ بربادیوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔

کورونا انسانی زندگیاں نگل رہا ہے اور ساتھ ساتھ معاشی اور معاشرتی تانے بانے کو بھی تہس نہس کر رہا ہے۔ صنعتی سیکٹر سکون میں نہیں ہے اور زرعی شعبے کے بین سننے والا کوئی نہیں۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور انسانی وسائل کا استحصال ہو رہا ہے۔ اپوزیشن والے الگ سیاپا کر رہے ہیں اور جلسے جلوسوں کے بعد صورت حال اب لانگ مارچ اور استعفوں تک پہنچ چکی ہے۔ دوسری جانب اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگ ایسے ایسے اقدام اور ایسے ایسے فیصلے کرتے ہیں کہ کڑھتا ہوا دل جلنے لگتا ہے۔ اب جناب وزیر اعظم کا یہ فیصلہ ہی سن لیں: سینیٹ کے الیکشن وقت سے پہلے کروائیں گے، ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کے لیے اوپن بیلٹ کے ذریعے الیکشن کروانے کا فیصلہ کیا ہے، اس کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے، یعنی ایک تو نا معلوم وجوہات کی بنا پر سینیٹ کے الیکشن قبل از وقت کرائے جائیں گے، پھر پہلا طریقہ بدل کے اوپن بیلٹ ذریعے ووٹنگ ہو گی…… لیکن سوال یہ ہے کہ آیا ملک کے باقی سارے مسائل حل ہو چکے ہیں جو سینیٹ کے الیکشن قبل از وقت کرانے کی فرصت مل گئی ہے اور یہ کام جلد از جلد کرانے کی ٹھانی گئی ہے؟ 

نئے وزیر ریلوے نے کہا ہے کہ اگر یہی نظام چلتا رہا تو پاکستان سٹیل ملز کی طرح ریلوے کو بھی بند کرنا پڑ جائے گا‘ جو کام ہم خود نہیں کر سکتے وہ آؤٹ سورس کر دیں گے۔ دوسرے لفظوں میں ان کا کہنا غالباً یہ تھا کہ ”ساڈے ولوں ناں ای سمجھو“۔ ریلوے یونین کے رہنما نے  وزیر ریلوے کے اس بیان پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر کو محکمے کے معاملات کا علم ہی نہیں‘ اس وقت ریلوے سٹیل ملز کی طرح بیٹھی ہوئی نہیں ہے بلکہ کما کر دے رہی ہے‘ ریلوے میں ملازمین کی قلت ہے۔ جب سے یہ بیان سنا اور پڑھا ہے‘ میں خود گہری سوچ میں ہوں کہ یہ کیا بات ہوئی۔ اس سے پہلے ریلوے کے کسی وزیر نے ایسا بیان نہیں دیا۔ جناب اعظم سواتی صاحب کو ریلوے کا قلم دان سنبھالتے ہی کیسے پتہ چل گیا کہ ادارے کو بند بھی کرنا پڑ سکتا ہے یا یہ کہ جو کام ہم خود نہیں کر سکتے، وہ آؤٹ سورس کر دیں گے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ریلوے سے متعلق کچھ کام ایسے بھی ہیں جو محکمے کے بس سے باہر ہیں؟ تو پھر ان لوگوں کی بھی کیا ضرورت ہے جو اس ادارے کو چلانے کے لئے رکھے گئے ہیں؟ چند روز پہلے کالم نگاروں سے گفتگو میں وزیر اعظم نے اعتراف کیا تھا کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں کہ ہماری ٹیم ڈلیور نہیں کر سکی۔

انہوں نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس تاخیر سے جانے کو بڑی غلطی قرار دیا اور کہا: ہماری حکومت کی ایک غلطی یہ بھی ہے کہ ہم نے فوری طور پر ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ نہیں دی۔ اب ان کے ایک وزیر صاحب کہہ رہے ہیں کہ وہ اپنے ادارے کو چلانے سے قاصر ہیں۔ صورتِ حال یہ ہے کہ ملک بھر میں گیس کا شارٹ فال دو ارب مکعب فٹ تک جا پہنچا ہے اور یہ خبر سننے میں آئی ہے کہ جنوری میں گیس کا بحران مزید شدت اختیار کر جائے گا۔ یہ بحران کیسے پیدا ہوا؟ اس کا ذکر اپنے گزشتہ ایک کالم میں کر چکا ہوں۔ اس حوالے سے تازہ خبر یہ ہے کہ تاخیر سے ایل این جی خریدنے کی وجہ سے آئندہ دو مہینوں میں 10 ارب روپے کا نقصان ہونے کا اندیشہ ہے، جبکہ 20 ارب روپے کا نقصان گیس نہ ہونے کی وجہ سے فرنس آئل اور ڈیزل سے بجلی پیدا کرنے کی وجہ سے ممکنہ طور پر ہو گا۔ علاوہ ازیں پاکستان نے فروری 2021ء کے لئے ڈیزل کی  سے دو گنا  قیمت پر ایل این جی کی بولیاں حاصل کی ہیں اور صرف 2 شپمنٹس کی  ادائیگی 2 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز سے زائد ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر معاملات اسی طرح چلتے رہے تو وہ بہتری کہاں سے آئے گی جس کا خواب عوام اپنی آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں اور ملک ترقی کی اس معراج کو کیسے پہنچے گا جس کی تمنا ہر محبِ وطن شہری کے دل میں موجزن ہے۔ حکومت کی آدھی مدت ابھی باقی ہے۔ یہ عرصہ گزشتہ آدھی مدت کی ناکامیوں کی تلافی کرنے اور طے شدہ ایجنڈے کے مطابق پاکستان کو ایک نئے پاکستان کے قالب میں ڈھالنے کے لئے کافی ہے لیکن اس کے لئے سیاسی جھگڑوں سے ہٹ کر ملکی اور قومی معاملات پر کچھ توجہ دینے کی ضرورت ہو گی۔ جناب عمران خان حکومت کے سربراہ  ہیں انہیں اس سلسلے میں باقیوں سے زیادہ مہارت دکھانے کی ضرورت ہو گی۔    

مزید :

رائے -کالم -