کیسے کیسے واقعات، کیسے کیسے سانحات

کیسے کیسے واقعات، کیسے کیسے سانحات
کیسے کیسے واقعات، کیسے کیسے سانحات

  

کچھ عرصہ پہلے پنجاب پبلک سروس کمیشن نے محکمہ تعلیم پنجاب میں لیکچرر کی پوسٹ کے لئے درخواستیں طلب کیں تو ساڑھے چار لاکھ درخواستیں موصول ہوئیں۔ فی درخواست چھ سو روپے فیس رکھی گئی یوں ایک ہی محکمے کی بھرتی کے لئے پنجاب پبلک سروس کمیشن کو ستائیس کروڑ روپے حاصل ہوئے۔ بھرتی کا یہ عمل سارا سال چلتا رہتا ہے اور ہر سال اس ادارے کو اربوں روپے کی آمدنی ہوتی ہے اتنی بڑی آمدنی کے باوجود پنجاب پبلک سروس کمیشن اپنی سکریسی کا کوئی فول پروف انتظام نہیں کر سکا اور اب اس سکینڈل نے سنسنی کی لہر دوڑا دی ہے کہ اس کے امتحانات میں بھی دھاندلی ہوتی ہے اور پرچے لاکھوں روپے میں بکتے ہیں محکمہ انٹی کرپشن لاہور نے ایک گروہ رنگے ہاتھوں پکڑ کر تحصیلدار کی پوسٹ کے لئے ہونے والے پرچے کی فروخت کا بھانڈہ پھوڑ دیا، جس پر پنجاب پبلک سروس کمیشن کو یہ پرچہ منسوخ کرنا پڑا وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے چیف منسٹر انسپکشن ٹیم کے چیئرمین کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی بنا دی ہے، جو پانچ دنوں میں رپورٹ پیش کرے گی۔ نجانے اس کمیٹی کی ضرورت کیوں پیش آئی محکمہ انٹی کرپشن کو آزادانہ اپنا کام کرنے دینا چاہئے تھا تاکہ وہ اپنی تفتیش میں پبلک سروس کمیشن کے ہر متعلقہ افسر اور ملازم سے پوچھ گچھ کر کے اس کی اصل حقیقت اور جڑ کو سامنے لاتا۔ یہ دھندہ کب سے ہو رہا ہے اور اب تک کتنے امتحانات میں پرچے آؤٹ کئے گئے ہیں، اس کی تفصیلات بھی اکٹھی کی جانی چاہئیں اور اس امر کا کھوج بھی لگانا چاہئے کہ کون سے امیدوار ایسے تھے جنہوں نے پرچے خرید کر امتحان پاس کیا اور آج مختلف سرکاری مناصب پر بیٹھ کر اپنا یہ ”نقصان“ پورا کر رہے ہیں۔

عثمان بزدار کی حکومت کے دور میں یہ بڑا سنگین نوعیت کا واقعہ منظرِ عام پر آیا ہے فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور پنجاب پبلک سروس کمیشن دو ایسے ادارے ہیں، جن پر امیدواروں کو اندھا اعتماد رہا ہے۔ یہ تاثر موجود ہے کہ جو بھرتیاں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہوتی ہیں، ان میں شفافیت اور میرٹ کا سو فیصد خیال رکھا جاتا ہے۔ انٹرویو کے مرحلے پر تھوڑی بہت شکایات سامنے آتی رہی ہیں کیونکہ وہاں ممبران اور ماہرین کو متاثر کرنے کے امکانات ہوتے ہیں لیکن تحریری ٹیسٹ کے مرحلے پر کبھی ایسی صورتِ حال پیدا نہیں ہوئی، جو اس سکینڈل کے بعد رونما ہوئی ہے۔ نہ صرف اس سکینڈل کا مکمل کھوج لگانے کی ضرورت ہے بلکہ اس طریقہ کار کا بھی از سر نو جائزہ لیا جانا چاہئے جس کے تحت یہ امتحانات ہوتے ہیں پرچے کی تیاری سے لے کر اس کی اشاعت تک کے مراحل کو کیسے مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے، اس پر بھی ایک کمیٹی بٹھانی چاہئے۔ پنجاب کے تعلیمی بورڈز نے بڑی حد تک اپنے امتحانی نظام کو فول پروف بنایا ہوا ہے۔ سیکریسی کے معاملے میں ان کے انتظامات پبلک سروس کمیشن سے بہتر نظر آتے ہیں۔ وہ نہ صرف پرچے کی راز داری برقرار رکھتے ہیں بلکہ مارکنگ کے مرحلے میں بھی کسی کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کون سا پرچہ کہاں ہے۔ وہ ایک جماعت کے درجنوں پرچے بناتے ہیں مگر انہیں قبل از وقت آؤٹ نہیں ہونے دیتے۔ پبلک سروس کمیشن تو ایک امتحان کا صرف ایک پرچہ بناتا ہے اگر اسے بھی محفوظ نہیں رکھ سکتا تو یہ اس کی بہت بڑی ناکامی ہے۔ 

ابھی میں کالم لکھ ہی رہا تھا کہ بلوچستان کے علاقے مچھ سے یہ اندوہناک خبر آئی کہ وہاں گیارہ کان کنوں کو ان کے کوارٹروں سے نکال کر تیز دھار آلے سے قتل کر دیا گیا ہے۔ قتل ہونے والے تمام افراد کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔ یہ وہی قبیلہ ہے جس کے افراد کو   پہلے بھی بسوں سے اتار کر یا ان کی بستی میں گھس کر بے دردی سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا رہا۔ بات اتنی بڑھ گئی تھی کہ ہزارہ قبیلے والے کئی دن تک میتیں رکھ کر بیٹھے رہتے تھے۔ ایک بار انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ جب تک چیف آف آرمی سٹاف ان کے پاس نہیں آتے وہ میتیں نہیں دفنائیں گے، جس پر آرمی چیف کو کوئٹہ جانا پڑا تھا۔ اب یہ سانحہ مچھ میں پیش آیا ہے، جو اپنی کان کنی کے حوالے سے مشہور ہے۔ اس میں تو کوئی شک ہے ہی نہیں کہ یہ کھلی دہشت گردی ہے مگر یہ بات حیران کن ہے کہ دہشت گرد مچھ کیسے پہنچے اور انہوں نے اپنا ہدف کیسے حاصل کیا۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ سکیورٹی کی کمزوری نہیں، نجانے ایسے سنگدلانہ اور احمقانہ بیانات دینے کا حوصلہ حکومتی نمائندوں میں کہاں سے آ جاتا ہے۔ یہ واقعہ بھی سیکیورٹی کے ناقص انتظامات کا نتیجہ نہیں تو پھر دوسرا کون سا واقعہ ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ تو نہیں جو حالیہ دنوں میں پیش آیا ہو، بلوچستان تو پچھلے کچھ عرصے سے مسلسل دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ سیکیورٹی فورسز پر بھی حملے کئے جا رہے ہیں اور شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے صاف لگ رہا ہے کہ کوئی منظم طاقت اس سارے عمل کے پس پردہ موجود ہے اور یہ صرف بھارت کی ایجنسی ”را“ ہو سکتی ہے، جس نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

سابق وزیر اعظم نوازشریف نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہم نے جس دہشت گردی پر قابو پایا تھا، وہ اب پھر تیزی سے ابھر رہی ہے یہ درست ہے کہ پچھلے دورِ حکومت میں دہشت گردی کم ہو گئی تھی، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس پر قابو پانے کے لئے فوج نے لاتعداد قربانیاں دی تھیں اور فرنٹ لائن پر آکر دہشت گردوں کا قلع قمع کیا تھا۔

اب بھی فوج وہی ہے اور ہر محاذ پر لڑ رہی ہے لگتا یہ ہے کہ بھارتی مداخلت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ بلوچستان ایران اور افغانستان کے بارڈر پر ہے اور کلبھوشن یادیو کی طرف سے یہ انکشاف ہو چکا ہے کہ ایران سے بھی بھارتی تربیت یافتہ دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ ہزارہ قبیلے کے افراد کو نشانہ بنانے کا مقصد یہ ہے کہ ان میں پاکستان کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور پھر اس نفرت سے فائدہ اٹھا کر بلوچستان میں انتشار پھیلایا جائے۔ بھارت ماضی میں بھی ایسی ہی کوششیں کر چکا ہے مگر بلوچ عوام اور ہزارہ قبیلے کے افراد نے ایسی ہر سازش کو اپنی یکجہتی کے ذریعے ناکام بنایا ہے۔ گیارہ بے گناہ افراد کو ذبح کرنے کا یہ واقعہ خطرے کی گھنٹی بجا گیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی انتظامات مزید بہتر بنائے جائیں اور یہ کوشش کی جائے کہ دہشت گرد پھر ایسا خونی واقعہ دہرانے میں کامیاب نہ ہوں۔

مزید :

رائے -کالم -