شدید کس مپرسی سے باعزت زندگی تک(2)

شدید کس مپرسی سے باعزت زندگی تک(2)
شدید کس مپرسی سے باعزت زندگی تک(2)

  

کئی بار میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ غریب ترین لوگ جو پاکستانی دیہاتوں میں زیادہ اور شہروں میں کم نظر آتے ہیں، ان کا قصور کیا تھا۔ کیا یہ کہ وہ غریب گھرانے میں پیدا ہوئے،کیا دال چپاتی کی کمی بیشی تھی، کیا تعلیم سے بچھڑنے کی سزا تھی؟…… خدا تو منصف و عادل ہے۔اس نے تو سارے جہاں کو ایک ہی مٹی اور پانی سے پیدا کیا…… جہاں را زیک آب و گِل آفریدم…… لیکن ایک انسان جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے منہ میں صرف ماں کا دودھ ہوتا ہے لیکن دوسرے انسان کے منہ میں چاندی اور سونے کا چمچہ ہوتا ہے۔ تو کیا انسان کی امارت و غربت کا پیمانہ شخصی امارت و غربت ہے یا وراثتی افلاس و ثروت مندی؟ اگر ایسا ہے تو نعوذ باللہ کیا خدا کے عادل و منصف ہونے پر حرف نہیں آتا ہے؟ اقبال کے دل میں بھی کچھ ایسا ہی خیال پیدا ہوا تھا:

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں 

ہیں تلخ بہت بندۂ مزدور کے اوقات

اسی طرح کا ایک سوال اس رباعی میں بھی ملتا ہے:

اک مفلسِ خود دار یہ کہتا تھا خدا سے

میں کر نہیں سکتا گلہ ء دردِ فقیری

لیکن یہ بتا، تیری اجازت سے فرشتے

کرتے ہیں عطا مردِ فرومایہ کو میری؟

آپ اس سوال پر جتنا بھی تفکّر و تدّبر کر لیں آخری نتیجہ یہی نکلے گا کہ خدا انسان کو پیدا کرنے کے بعد اس کے ہوش سنبھالنے تک اس کو ماں باپ کا محتاج رکھتا ہے لیکن وہ جونہی ہوش سنبھالتا ہے اور جسمانی اور ذہنی بلوغت کی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اس کی تقدیر خود اس کے ہاتھوں میں تھما دیتا ہے۔ اگر اس کا ماحول اور زمانہ اس کا ساتھ نہیں دیتا تو وہ ان دونوں سے پنجہ آزمائی کرتا ہے……زمانہ باتو نہ سازد تو بہ زمانہ ستیز…… اقبال ایک اور شعر میں اس نکتے کو زیادہ وضاحت سے بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں: اللہ نے پوچھا کیا ہمارا جہان، ہماری دنیا تمہارے ساتھ بنا کے رکھتی ہے؟ انسان نے جواب دیا، نہیں یہ دنیا میرے ساتھ میری خواہش کے مطابق سلوک نہیں کرتی۔ تو اس کے جواب میں اللہ کریم ارشاد فرماتے ہیں اسے توڑ دے اور ایک نئی دنیا تخلیق کرلے‘:

گفتند جہانِ ما آیا باتو می سازد

گفتم کہ نمی سازد، گفتند کہ برہم زن

یہی مفہوم اس اردو شعر میں بھی بیان کیا گیا ہے:

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

سرِّ آدم ہے، ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی

باری تعالیٰ نے جب حضرتِ آدم ؑکو زمین پر پھینکا تو ان کے وسائل کیا تھے؟ کیا وہ تن بہ تقدیر ہو کر بیٹھ گئے تھے یا ہاتھ پاؤں چلائے تھے، جدوجہد کی تھی اور کوشش و کاوش کو شعار بنایا تھا؟ تصور کیجئے کہ حضرت آدم تن تنہا اور اکیلے بیٹھے ہیں، تاحدِّ نظر سنسان زمین اور آسماں کی بے کراں وسعتیں ہیں۔ اس سنسانی اور بیابانی میں روحِ ارضی آدم کا استقبال کرتی ہے اور کہتی ہے:

ہیں تیرے تصرف میں یہ بادل، یہ گھٹائیں 

یہ گنبدِ افلاک، یہ خاموش فضائیں 

یہ کوہ یہ صحرا، یہ سمندر یہ ہوائیں 

تھیں پیشِ نظر کل تو فرشتوں کی ادائیں 

آئینہء ایام میں آج اپنی ادا دیکھ

اس بند کا یہ آخری مصرع پیامِ اقبال کا لبِ لباب ہے۔ حضرت آدم کو کہا جا رہا ہے کہ ”آئینہ ء ایام میں آج اپنی ادا دیکھ“…… گزرے کل میں تو آدم کے سامنے فرشتوں کی ادائیں تھیں لیکن آج آدم نے یہ ثابت کرنا ہے کہ فرشتے کل تک تو اس کے سامنے سجدہ ریز تھے مگر آج اسے یہ ثبوت دینا ہے کہ وہ فرشتوں کا مسجود کیوں تھا اور فخرِ انسانی، فخرِ فرشتگانی پر بھاری کیوں تھا۔ چنانچہ حضرتِ آدم ایک لمبی کروٹ لیتے ہیں اور اردگرد کے ریگزاروں اور دشت و صحرا کو گلشن و گلزار و باغ میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ یہی جدوجہد ہے جو انسانوں اور فرشتوں کے مابین وجہِ امتیاز ہے۔ ایک بالغ انسان گویا ایک ’حضرتِ آدم‘ ہے جس نے اپنے ماحول کو بدلنا ہے۔ وہ اگر غریب ہے تو اس کو غربت سے باہر نکلنا ہے اور اگر امیر ہے تو امارت سے آگے نکل کر سوچنا ہے کہ اس کے منہ میں چاندی کے چمچے کے معانی کیا ہیں اور اس کی آئندہ ذمہ داری کیا ہے……

کسی بھی حکومت کا چیف ایگزیکٹو جب مسندِ اقتدار پر بیٹھتا ہے تو اس کاماضی خواہ کتنا بھی غریب ہو اس کا حال امیر ہوتا ہے۔ اس کے ’حال‘ کے منہ میں سونے چاندی کے بہت سے چمچے ہوتے ہیں۔ اس نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ ان نقرئی اور طلائی ظروف سے آئندہ کیا کام لینا ہے۔ اگر وہ ان ظروف کو اپنے ذاتی استعمال تک محدود کر لیتا ہے تو اس سے بڑا بدنصیب کوئی دوسرا نہیں ہوتا۔ اور اگر وہ ان ظروف کو اپنے سے کمتر لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے پر صرف کرتا ہے تو تاریخ میں اس کا نامِ نامی زندہ رہتا ہے وگرنہ تو کئی بادشاہ، شہنشاہ، آمر اور فرعون آئے اور چلے گئے۔ زندہ وہی رہا جس نے عدل کیا، دولت اور مال و زر کو غریب غربا پر خرچ کیا اور تاریخ میں اپنی جگہ بنائی۔ سعدی کہتا ہے:

زندہ است نامِ فرخِ نوشیرواں بعدل

گرچہ بسے گزشت کہ نوشیرواں نماند

(نوشیرواں کا مبارک نام اس لئے زندہ ہے کہ وہ عادل تھا (اپنی دولت کو غریبوں میں تقسیم کرکے عدل کرتا تھا) آج اس کو گزرے صدیاں گزر گئیں لیکن اس کا نام زندہ ہے اور دنیا آج بھی اسے ’نوشیروانِ عادل‘ کے نام سے جانتی ہے)

چین کے موجودہ صدر جناب شی جن پنگ کو صوبہ گانسو کے غریب ترین باشندوں نے ’ماؤ ثانی‘ کا نام دے دیا ہے۔ لاتعداد چینی بادشاہ اور شاہی خاندان آئے اور چلے گئے۔ آج اگر صدر شی غریب ترین چینی انسانوں کو عزت و احترام کی زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے تو اس کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔کیا خبر ان غریب لوگوں میں سے کوئی ایسا چینی اٹھے جو شی کی جگہ سنبھال لے!

سطورِ بالا میں، میں نے عرض کیا ہے کہ جب کوئی انسان منزلِ بلوغت تک پہنچتا ہے تو اگر وہ غریب ہے تو اسے اس ’جہانِ غریب‘ کو توڑ دینا ہوگا اور اپنی ایک نئی دنیا پیدا کرنا ہوگی۔ آگ، ہوا، پانی اور مٹی، فطرت کے عناصرِ اربعہ ہیں جن میں خدائی روح پھونک دی جاتی ہے۔ اسی سے امیر و غریب اور غلام و آقا جنم لیتے ہیں۔

اس ماحول میں غریب کو صرف ایک سہارا چاہیے ہوتا ہے۔ اگرچین اپنے غریبوں کو ایک گائے، بھینس، چند بھیڑ بکریاں، پکا مکان اور ایسا ماحول فراہم کرتا ہے جس میں یہ غریب محنت کرکے اپنی غربت کو امارت میں تبدیل کر دیتا ہے تو وہ گویا پورا ایک معاشرہ بدل ڈالتا ہے…… اور اسی کا نام تبدیلی ہے…… میرا خیال ہے عمران خان کے ذہن میں یہی ’تبدیلی‘ ہے،یہی اس کا ویژن ہے اور یہی اس کا ارمان ہے۔ وہ اپنے لئے کچھ نہیں مانگتا، صرف معاشرے کو بدلنا چاہتا ہے۔ غریب معاشرے کو سبسڈی کی صورت میں ایک سہارا چاہیے۔ موجودہ حکومت کا احساس پروگرام، پناہ گاہیں، سستے مکان، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتیں، ذرائع مواصلات کی فراوانی، کسانوں کو آسان شرائط پر قرضے وغیرہ سب کے سب چینی ماڈل کی تقلید ہیں۔ چین نے اپنے کروڑوں غریب لوگوں کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھا کر انہیں باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنایا ہے تو یہ ایک مستحسن اقدام ہے۔ پاکستانی آبادی کا غالب طبقہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، ان کو صرف ایک سہارا چاہیے…… ایک گائے یا ایک بکری یا ایک مکان یا ایک موٹرسائیکل یا ایک بغیر سود قرضہ وہ سبسڈی اور سہارا ہے جو کسی غریب کو غربت کی لکیر سے اوپر اٹھانے کے امکانات رکھتا ہے…… چین اس کا کامیاب تجربہ کر چکا ہے اور اگر پاکستان نے اپنا مستقبل چین سے وابستہ کر لیا ہے تو یہ کوئی قابلِ اعتراض بات نہیں۔

تاہم اس فیاض طبعی، سخاوت یا کشادہ ظرفی کے مثبت کلچر میں ایک منفی کلچر بھی کلبلانے کی کوشش کرتا ہے اور وہ کرپشن اور بددیانتی کا کلچر ہے۔ حکومت کی طرف سے اس پیشکش کا غلط فائدہ اٹھانے والوں کی بھی کمی نہیں۔ آپ اسے ”غریب کُش مافیا“ بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ مافیا ہمیشہ گھات میں ہوتا ہے…… بہ ہر زمانہ خلیل است و آتشِ نمرود…… بے نامی سے پیسہ بنانے والوں کی پاکستان میں کمی نہیں۔ ماضی کی رعائتی ٹیکسی سکیموں وغیرہ کا حشر ہمارے سامنے ہے۔ غریبوں کے نام پر مکانات، ریوڑ، قرضے اور اس طرح کی مراعات حاصل کی گئیں لیکن غریب ویسے کا ویسا ہی رہا…… چین نے اس مافیا کا حل بھی نکالا ہے اور جو سبسڈی یا مفت امداد غربا کو دی جاتی ہے اس کی مانیٹرنگ کا ایک سخت ترین نظام بھی وضع کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین میں 400سے زیادہ خائن اور کرپٹ لوگوں کو پکڑ کر حوالہ ء زنداں کیا جا چکا ہے۔ پاکستان کو اس کلچر کی تقلید بھی کرنی ہوگی۔ آج اربوں روپے جو غریبوں کو اوپر اٹھانے کے لئے بانٹے جا رہے ہیں ان کا حساب کتاب بھی رکھنا ہوگا اور یہ ایک اور بڑا چیلنج ہے پاکستان کے سیاسی اور سماجی کرپٹ مافیا سے نمٹنے کے لئے:

غرض دوگونہ عذاب است جانِ مجنوں را

بلائے صحبتِ لیلیٰ و فرقتِ لیلیٰ

(ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -