باوقا ر، باکردار کالم نگار رؤف طاہر انتقال کر گئے

  باوقا ر، باکردار کالم نگار رؤف طاہر انتقال کر گئے

  

 لاہور (سٹاف رپورٹر) ملک کے ممتاز صحافی دانشور، کالم نگار اور تجزیہ کار رؤف طاہر کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ وہ پیر کے روز اچانک حرکت قلب بند ہوجانے کے باعث انتقال کرگئے تھے۔ انہیں یو سی پی کی آن لائن کلاس پڑھانے کے دوران دل کا دورہ پڑا اور ہسپتال لے جاتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔ مرحوم کی عمر 68برس تھی وہ مولانا ظفر علی خان ٹرسٹ کے سیکریٹری بھی تھے۔ رؤف طاہر کی نماز جنازہ ان کی رہائش گاہ کے نزدیک جامع مسجد لیک سٹی میں ادا کی گئی۔نما زجنازہ خواجہ سعد رفیق، پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر، روزنامہ پاکستان کے چیف ایڈیٹر مجیب الرحمن شامی، ایڈیٹر عمر شامی، ایگزیکٹو ایڈیٹر عثمان شامی، گروپ ایڈیٹر کوآرڈی نیشن ایثار رانا، جوائنٹ ایڈیٹر نعیم مصطفی، ممتاز کالم نگار حفیظ اللہ نیازی، عطاء الرحمن، اوریامقبول جان، سجاد میر، سید ارشاد عارف، نوید چوہدری، عامر خاکوانی، حامد ولید،سلمان غنی، افضال ریحان، یاسر پیرزادہ، نجم ولی خان، امان اللہ خان، ڈاکٹر شفیق جالندھری، پروفیسر محمد شیخ، حافظ حسان احمد سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔رؤف طاہر نے بھرپور زندگی گزاری اور صحافت کے شعبہ میں خوب نام کمایا۔ مرحوم نے اپنی صحافت کا آغاز روزنامہ حریت میں مضمون نگاری سے کیا۔ اس وقت وہ سال اول کے طالبعلم تھے۔ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے زمانہ طالب علمی کے دوران ہفت روزہ آئین اور ہفت روزہ افریشیا میں لکھتے رہے۔  ستمبر1977ء میں ہفت روزہ ”زندگی“ بحال ہوا تو اس میں بطور ڈپٹی ایڈیٹر کام کیا۔ ہفت روزہ بادبان میں بطور انچارج ایڈیٹر کام کیا۔ روزنامہ جسارت لاہور کے بیورو چیف بھی رہے۔ روزنامہ نوائے وقت میں بطور چیف رپورٹر رہے1988ء میں مجیب الرحمن شامی نے ہفت روزہ زندگی کا آغاز کیا تو اس میں بطور ڈپٹی ایڈیٹر خدمات انجام دیں۔  1998ء میں سعودی عرب سے شائع ہونیوالے ہفت روزہ ”اردو میگزین“ کا اجرا ہوا تو ایڈیٹر مقرر ہوگئے۔ میاں نوازشریف جب جلاوطن ہوکر سعودی عرب پہنچے تو اس دور میں رؤف طاہر نے شریف خاندان کے ساتھ اپنے روابط مزید مضبوط کرلئے وہ خود بھی سعودی عرب میں مقیم رہے۔ 2009ء میں اردو میگزین کی ادارت سے فارغ ہوکر پاکستان چلے آئے۔ بعدازاں روزنامہ جنگ، پاکستان اور دنیامیں کالم نگار رہے۔ ان کی صحافتی زندگی کا تہلکہ خیز واقعہ اسامہ بن لادن کا انٹرویو تھا۔ جیسے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی۔ انہیں کئی قد آور سیاسی شخصیات کے تفصیلی انٹرویو کرنے کا اعزاز بھی حاصل رہا۔ مرحوم کو بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان کی قربت بھی حاصل رہی۔

 رؤف طاہر

مزید :

صفحہ اول -