سینیٹ انتخابات، صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ کا چیئر مین سینیٹ، سپیکرز، ایڈوکیٹ جنرلز، الیکشن کمیشن کو نوٹس

        سینیٹ انتخابات، صدارتی ریفرنس،سپریم کورٹ کا چیئر مین سینیٹ، سپیکرز، ...

  

  اسلام آباد (نیوزایجنسیاں)سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینیٹ انتخابات کرانے سے متعلق صدارتی ریفرنس کے معاملے پر پہلی سماعت کے بعد چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی و صوبائی اسمبلیز، الیکشن کمیشن، وفاقی و صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز کو نوٹس جاری کردئیے۔ پیر کوچیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ/شو آف ہینڈز سے کرانے کیلئے دائر صدارتی ریفرنس پر سماعت کی۔5 رکنی بینچ میں چیف جسٹس گلزار احمد کے ساتھ ساتھ جسٹس مشیر عالم، جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس یحییٰ آفریدی بھی شامل تھے۔دوران سماعت اٹارنی جنرل برائے پاکستان خالد جاوید خان نے بتایا کہ آرٹیکل 226 کی تشریح کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، مذکورہ ریفرنس میں سینیٹ انتخابات خفیہ رائے شماری سے نہ کرنے کا قانونی سوال اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا آرٹیکل 226 کا اطلاق صرف آئین کے تحت ہونے والے انتخابات پر ہوتا ہے، جس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ عدالت اس تضاد میں کیوں پڑے۔ بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ آپ کے مطابق آئین و قانون کے تحت انتخابات کا مختلف طریقہ کار ہے، آپ چاہتے ہیں عدالت آئین اور قانون کے تحت ہونے والے انتخابات میں فرق واضح کرے۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا قومی اسمبلی کا انتخاب آئین کے تحت نہیں ہوتا؟ جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عام انتخابات الیکشن ایکٹ 2017 ء کے تحت ہوئے، آئین کے تحت نہیں۔اس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آئین میں سینیٹ اور اسمبلی انتخابات کا ذکر ہے، مقامی حکومتوں کے انتخابات کا آئین میں ذکر نہیں۔انہوں نے کہا کہ انتخابات کیسے ہونے ہیں یہ بات الیکشن ایکٹ میں درج ہوگی، الیکشن ایکٹ بھی آئین کے تحت ہی بنا ہوگا، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کیا کوئی قانون آئین سے بالاتر ہوسکتا ہے؟جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آئین یا قانون میں ترمیم کیلئے پارلیمنٹ کے پاس اختیار ہے، سینیٹرز صوبوں کے نمائندے ہوتے ہیں، سینیٹرز کو منتخب کرانے والے ووٹرز اپنی سیاسی جماعتوں کو جواب دہ ہیں۔بعد ازاں کیس کی سماعت میں اٹارنی جنرل نے الیکشن کمیشن اور الیکٹرورل کالج کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا کی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ چاروں صوبائی حکومتوں اور الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کر رہے ہیں، چاروں ایڈووکیٹ جنرلز اور الیکشن کمیشن کے جواب کا جائزہ لیں گے۔اٹارنی جنرل اور دیگر کو اپنی تحریری معروضات جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ نوٹس اخبارات میں بھی شائع کیا جائے تاکہ جو اس معاملے پر رائے دینا چاہے وہ دو ہفتوں میں تحریری معروضات عدالت میں جمع کرائے۔علاوہ ازیں عدالت عظمیٰ نے کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سینئر ایڈووکیٹ ہادی شکیل کو عدالت میں پیش ہونے کا کہتے عدالتی معاون کے طور پر طلب کرلیا۔جس کے بعد کیس کی سماعت 11 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔

سپریم کورٹ

مزید :

صفحہ اول -