تعلیمی ادارے 18جنوری سے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان، کورونا سے مزید 39جاں بحق 

      تعلیمی ادارے 18جنوری سے مرحلہ وار کھولنے کا اعلان، کورونا سے مزید 39جاں ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک آئی این پی)وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے 18جنوری سے مرحلہ وار تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نویں سے 12ویں جماعت تک تعلیمی اداروں کو 18جنوری سے کھول دیا جائے گا،25جنوری سے پرائمری سے آٹھویں کلاسز کے بچے سکول آنا شروع کر دیں گے،بورڈ کے امتحانات اب مئی اور جون میں ہوں گے، بچوں نے ابھی تک اپنا کورس ورک مکمل نہیں کیا،وہ اس عرصے میں اپنا کورس ورک مکمل کر سکیں گے۔  پیر کو معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے وفاقی وزیر تعلیم کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سخت احتیاطی اقدامات اٹھائے جن کا تعلق ہمارے تعلیمی اداروں کو بند کرنے سے تھا اور جو دیگر ہم نے ایس او پیز پر عملدرآمد کیا جیسے بڑے اجتماعات، شادی ہال اور ریسٹورنٹس بند جگہ پر ڈائننگ پر پابندی عائد کی۔ انہوں نے کہا کہ سب سے واضح اثر تعلیمی بند کرنے سے پڑا، یہ تعلیمی ادارے ہمارے ملک کے مستقبل کے لیے بہت اہم حصہ ہیں اور ہم نے بادل نخواستہ ہی انہیں بند کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیٹا سے یہ چیز واضح ہوئی ہے کہ شاید اس وقت ہمیں اس معاملے میں مزید احتیاط اور التوا کرے کی ضرورت پڑے تاکہ تعلیمی ادارے کھولنے سے قبل ہماری دوسری لہر کی شدت میں کمی آ چکی ہو۔ ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ تعلیمی اداریبند کرنے کا اثر پڑا اور دوسری لہر میں کچھ ٹھہرا ؤدیکھنے میں آیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر شفقت محمود نے کہا کہ ہماری حکومت کے پیش نظر اولین چیز یہ ہے کہ ہم نے بچوں کی صحت کا خیال رکھنا ہے اور بچوں کی صحت سے کوئی رسک نہیں لینا اور تفصیلی بحث مباحثے کے بعد یہ فیصلے ہوئے ہیں جو میں کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 18جنوری نویں سے 12ویں کی وہ جماعتیں جن کا امتحان ہونا ہے، وہ شروع ہو جائیں گی اور ان جماعتوں کے طالبعلم اپنے اسکول و کالجز میں جائیں گے اور ان کی پڑھائی شروع ہو جائے گی۔ان کا کہنا تھاکہ 25 جنوری سے پرائمری سے 8ویں تک باقی طالبعلم اسکول آنا شروع کردیں گے جبکہ یکم فروری کو یونیورسٹی، کالجز سمیت ہائر ایجوکیشن کے ادارے کھول دیے جائیں گے۔ شفقت محمود نے کہا کہ بتدریج تین مرحلوں میں تعلیمی ادارے کھولنے کا عمل مکمل ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے 10تاریخ موسم سرما کی تعطیلات دی تھیں اور اساتذہ اور انتظامی عملے کو 11جنوری سے اسکول، کالجز، یونیورسٹیز آنے کی اجازت ہو گی اور یونیورسٹیز آن لائن کام کر سکتی ہیں۔ وفاقی وزیر تعلیم نے کہا کہ بورڈ کے جو امتحانات مارچ یا اپریل کے اوائل میں ہونے تھے ان کو ملتوی کیا جا رہا ہے اور بورڈ کے امتحانات اب مئی اور جون میں ہوں گے کیونکہ بچوں نے ابھی تک اپنا کورس ورک مکمل نہیں کیا اور وہ اس عرصے میں اپنا کورس ورک مکمل کر سکیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 14 یا 15 تاریخ صحت کی صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیں گے تاکہ اس بات کو یقینی بنا سکیں کہ بیماری کنٹرول میں ہے اور ہم جو دیکھ رہے ہیں ٹرینڈ اسے لحاظ سے چل رہا ہے۔وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ اسکول کب سے کھلیں گے اس حوالے سے ابھی کچھ کہنا مشکل ہے۔وزیر تعلیم سندھ نے بتایا کہ 25 جنوری سے پرائمری اسکول کھولنے کی تجویز آئی ہے جبکہ سیکنڈری اسکول فروری کے پہلے ہفتے میں کھولننے کی تجویز سامنے آئی ہے، بعد میں بڑی کلاسیں کھولنے کی تجویز بھیجی گئی ہے، 19 جنوری کو اجلاس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔

تعلیمی ادارے

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) ملک بھر میں کوروناوائرس سے مزید 39 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد اموات کی تعداد 10 ہزار 350 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 4 لاکھ 88 ہزار 529 ہوگئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ایک ہزار 895 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں ایک لاکھ 40 ہزار 714، سندھ میں 2 لاکھ 18 ہزار 597، خیبر پختونخوا میں 59 ہزار 484، بلوچستان میں 18 ہزار 247، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 867، اسلام آباد میں 38 ہزار 263 جبکہ آزاد کشمیر میں 8 ہزار 357 کیسز رپورٹ ہوئے۔ملک بھر میں اب تک 68 لاکھ 49 ہزار 867 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے، گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 30 ہزار 139 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 4 لاکھ 38 ہزار 974 مریض صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ 2 ہزار 242 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔پاکستان میں کورونا سے ایک دن میں 39 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 10 ہزار 350 ہوگئی۔ پنجاب میں 4 ہزار 124، سندھ میں 3 ہزار 611، خیبر پختونخوا میں ایک ہزار 675، اسلام آباد میں 428، بلوچستان میں 185، گلگت بلتستان میں 101 اور ا?زاد کشمیر میں 226 مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ قومی ادارہ صحت نے 2 پاکستانیوں میں نئے کورونا وائرس کی تصدیق کر دی، دونوں پاکستانیوں نے برطانیہ کا سفر کیا تھا۔ قومی ادارہ صحت نے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دو پاکستانیوں میں کورونا وائرس کی نئی قسم بی 1.1.7 کی تصدیق ہوئی، دونوں پاکستانی شہری برطانیہ سے وطن واپس آئے، کورونا وائرس کی نئی قسم دسمبر میں برطانیہ میں ظاہر ہوئی، کورونا کی نئی قسم کی موجودگی کی خبروں کے بعد این آئی ایچ نے تحقیق کی، نئی قسم کا وائرس پرانے کورونا کی نسبت زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے، کورونا وائرس کی نئی قسم پاکستان کے علاوہ 31 ممالک تک پھیل چکی ہے۔کورونا کے بڑھتے کیسز شہر میں مزید 8 مقامات پر سمارٹ لاک ڈاؤن۔تفصیلات کے مطابق گلبرگ، شاہراہ امام حسین، ای ون بلاک، احمد معراج سٹریٹ اور سنگھ پورہ فہرست میں شامل ہیں، دونوں علاقوں میں معمول کی سرگرمیاں اور ٹریفک جاری، کوئی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں نہ ہی پولیس اہلکار تعینات ہوئے ہیں۔ ذرائع کا بتانبا ہے کہ محکموں کا آپس میں رابطے کا فقدان رہا جس کی وجہ سے اکثر علاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ نہیں ہو سکا۔  

کورونا ہلاکتیں 

مزید :

صفحہ اول -