سانحہ مچھ کا مقدمہ درج، شیخ رشید کی یقین دہانیاں مسترد، ہزارہ کمیونٹی مظاہرین کا وزیراعظم سے کوئٹہ آنے کا مطالبہ

سانحہ مچھ کا مقدمہ درج، شیخ رشید کی یقین دہانیاں مسترد، ہزارہ کمیونٹی ...

  

 کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود متاثرہ سانحہ مچھ کے دھرنا مظاہرین نے دھرنا ختم کر نے سے انکار کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان خود کوئٹہ آنے، صورتحال کا خود جائزہ لینے اور مسائل سننے کیلئے آنے کا مطالبہ کر دیا، وزیر داخلہ شیخ رشید وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر مچھ واقعے کے شہداء کے لواحقین اور دھرنا دینے والے مظاہرین سے ملاقات کیلئے کوئٹہ پہنچے تھے۔اس موقع پر شیخ رشید نے اپنے بیان میں کہا مچھ سانحہ ظلم و زیادتی ہے، سانحہ پر شرمندہ ہوں، دہشتگردوں نے چار مرتبہ مجھ پر بھی حملہ کیا، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں ہماری گلی سے بھی 4 جنازے اٹھے۔شیخ رشید نے مظاہرین کو بتایا وزیراعظم نے پیغام دیا ہے کہ کسی صورت سا نحہ مچھ کے مجرموں کو نہیں چھوڑیں گے، میں بھی یقین دلاتا ہوں سانحہ مچھ کے ذمہ دارنہیں بچیں گے، لاپتہ افراد کے معاملے پر بھی وزیراعظم سے ملاقات کراؤں گا۔ آپ عظیم لوگ جو قربانی دیتے اور ملک کیساتھ وفاداری نبھاتے ہیں۔وزیر داخلہ نے بتایا انہوں نے آنے سے پہلے علامہ راجہ ناصر عباس سے بات کی جنہوں نے کہا کوئٹہ جائیں، مچھ سانحہ کے متاثرین کو 15 لاکھ صوبائی اور وفاقی حکومت 10 لاکھ روپے دیگی۔شیخ رشید مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ شہداء کی تدفین کریں اور ایک دن تجویز کرکے اسلام آباد آجائیں۔ وزیراعظم نے خصوصی طور پر اپنا جہاز دیکر انہیں کوئٹہ بھیجاہے، سانحہ مچھ سے متعلق جوڈیشل کمیٹی کا اعلان کرتا ہوں، تمام شیعہ برادری کو مکمل سکیورٹی دی جائیگی، یقین دلاتا ہوں مچھ میں 11 لوگوں کو قتل کرنے والوں کو نہیں چھوڑیں گے، لیکن شیخ رشید کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود دھرنا مظاہرین نے دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا۔ اس موقع پر رہنما ہزارہ برادری نے مطالبہ کیا وزیرا عظم عمران خان خود کوئٹہ تشریف لائیں،ان سب معاملات کو دیکھیں۔شیخ رشید نے کہا صوبائی حکومت کے استعفے کے سوا تمام مطالبات مانتا ہوں، آج یا کل صبح وزیراعظم کو مظاہرین کے پیغام سے آگاہ کروں گا۔ بعد ازاں وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید وفد کے ہمراہ دھرنے سے واپس روانہ ہوگئے۔اس سے قبل مچھ واقعہ کیخلاف کوئٹہ میں جاری دھرنے کے شرکاء کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی سے صوبائی وزراء کے مذاکرات بھی ناکام ہوئے تھے۔لواحقین اور ہزارہ برادری کا احتجاجی دھرنا دو روز سے کوئٹہ کے مضافاتی علاقے ہزارہ ٹاؤن سے متصل مغربی بائی پاس پر جاری ہے۔مظاہرین نے صوبائی حکومت سے قاتلوں کی گرفتاری ورنہ مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔ قبل ازیں کوئٹہ پہنچنے والے وفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمدنے سول سیکرٹریٹ کوئٹہ میں سانحہ مچھ کے حوالے سے منعقدہ اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی،اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان کیپٹن(ر) فضیل اصغر، آئی جی ایف سی میجر جنرل فیاض حسین شاہ سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی اس موقع پر شیخ رشید احمد کو سانحہ مچھ اورسکیورٹی صورتحال سے متعلق بریفننگ دی گئی۔ادھرسانحہ مچھ کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔مچھ میں کوئلے کی کان میں کام کرنیوالے کان کنوں کے قتل کا مقدمہ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) تھانہ نصیرآباد میں ایس ایچ اوپولیس تھانہ مچھ کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کیخلاف درج کیا گیا،سی ٹی ڈی حکام کے مطابق مقدمے میں 302، 7 اے ٹی اے ا ور 147-148-149کی دفعات شامل ہیں،خیال رہے اتوار کے روز مچھ کے علاقے گیشتری کی کوئلہ فیلڈ میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے 11کان کنوں کو ہاتھ پیر باندھ کربے دردی سے قتل کیاگیا تھا۔

ہزارہ کمیونٹی 

مزید :

صفحہ اول -