پاکستان میں دو ویکسین کے ٹرائل چل رہے ہیں،فیصل محمود

پاکستان میں دو ویکسین کے ٹرائل چل رہے ہیں،فیصل محمود

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)کورونا وائرس  کے مرض پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر فیصل محمود نے کہاہے کہ پاکستان میں دو ویکسین کے ٹرائل چل رہے ہیں اب تک کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آئے ہیں، امید ہے کہ سال کی پہلی سہ ماہی میں ویکسین آجائے گی۔کراچی میں نجی دوا ساز کمپنی کی جانب سے کورونا وائرس کی برطانیہ میں سامنے آنے والی نئی قسم پر آن لائن سیشن کا انعقاد کیا گیا،جس میں ڈاکٹر وجیہہ جاوید، ڈاکٹر سید فیصل محمود آغا خان، ڈاکٹر مہرین ارشد امریکہ، ڈاکٹر ڈیزی الاگن فلپائن، ڈاکٹر عدیل بٹ قطر، ڈاکٹر زارا حسن نے شرکت کی۔ڈاکٹرزارا حسن نے بتایا کہ  کورونا وائرس کی جینیات پر جنوری 2020 سے کافی معلومات ملی ہے ہر وائرس کی طرح کورونا وائرس بھی اپنی جنوم تبدیل کررہا ہے اب تک کورونا کی اسٹرین کی چھ اقسام سامنے آچکی ہیں۔ڈاکٹر عدیل بٹ نے کہا کہ ابھی تک فائزر، موڈرنا، آکسفورڈ اور نوواوکس ویکسین موجود ہیں۔پاکستان میں چین کی ویکسین ابھی لائی جارہی ہے روس کی ویکسین کی بھی بات ہورہی ہے ابھی تک تینوں ویکسین کی افادیت (ایفی کیسی)ایک جیسی ہے تینوں میں سے کوئی ایک ویکسین بھی لگالی جائے تو بہتر ہے کورونا میں مبتلا ہونے والے افراد بھی ویکسین لگائیں تو ان کے لئے مزید بہتر ہے۔کورونا کے مرض پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر فیصل محمودنے کہاکہ پاکستان میں دو ویکسین کے ٹرائل چل رہے ہیں اب تک کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آئے ہیں امید ہے کہ سال کی پہلی سہ ماہی میں ویکسین آجائے گی جو ویکسین موجود ہیں وہ ہر قسم کے کورونا وائرس کے لئے قابل استعمال ہیں، ہمیں 80 ہزار لوگوں پر کلینکل ٹرائل کرنے ہیں اب تک کوئی مضر اثرات سامنے نہیں آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ سال کی پہلی سہ ماہی میں ویکسین آجائے گی جو صرف ہیلتھ کیر ورکرز اور 62 سے زائد عمر کے لوگوں کے لئے ہوگی۔ڈاکٹر مہرین ارشد نے بتایا کہ بچوں میں بہت کم تعداد میں کورونا اثر انداز ہورہا ہے بچوں میں معمولی اور اے سمٹامیٹک کیسز سامنے آئے ہیں جنوبی کوریا میں ہونے والی تحقیق کے مطابق 10 سے 19 سال کے بچے اپنے خاندان میں وائرس پھیلانے کا سبب بنے ہیں۔

مزید :

صفحہ اول -