قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات میں اسلام آباد پولیس کی کارکردگی پر شدید تنقید 

    قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات میں اسلام آباد پولیس کی کارکردگی پر شدید تنقید 

  

 اسلام آباد(آئی این پی)  قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی  برائے اطلاعات و نشریات میں اسلام آباد پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان اٹھ گئے،  چیئرمین کمیٹی نے سینئر صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کے کیس  پر ہونے والی پیشرفت پر  عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے آئندہ اجلاس میں پھر جواب  طلب کرلیا،   چیئرمین کمیٹی  میاں جاوید لطیف نے کہا کہ پانچ مہینے میں یہ  پیشرفت  تو مناسب نہیں،اسلام آباد سے ایک  وکیل اغوا ہوئے ، اسلام آباد میں بھی اگر یہ حالت ہے تو دیہاتی علاقوں میں کیا   پوزیشن ہو گی،۔چیئرمین  پی ٹی وی  نعیم بخاری نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ کہ ایم ڈی پی ٹی وی کو معطل کیا گیاہے اس کے خلاف کئی الزامات ہیں،21لاکھ ساٹھ ہزار اس کی تنخواہ تھی،ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ کسی اینکر کو نہیں ملیں گے،  میں چھ ماہ کے لیئے آیا ہوں،میں اعزازی چیئرمین ہوں، تنخواہ نہیں لیتا۔پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس چیئرمین کمیٹی میاں جاوید لطیف کی صدارت میں ہوا،  اجلاس میں سینئر صحافی مطیع اللہ جان  کے اغواکا معاملہ زیر غور آیا، پولیس حکام  نے کمیٹی کو بتایا کہ   ملزمان کے  چہروں کی شناخت نہیں ہوئی،736مشکوک گاڑیوں میں سے  526کو چیک کر لیا گیا ہے، اس معاملے پر ایک اور کمیٹی  عدالت کے حکم پر بھی بن گئی ہے،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پانچ مہینے میں یہ  پیشرفت  تو مناسب نہیں، یا آپ کو علم ہے لیکن آپ کھل کر بتانا نہیں چاہتے،ممبران کمیٹی کو بتائیں اصل مسئلہ ہے کیا؟کل  ایک وکیل اغوا ہوئے، اسلام آباد میں بھی اگر یہ حالت ہے تو دیہاتی علاقوں میں کیا پوزیشن ہو گی، اگر مطیع  اللہ جان   کا کیس او دیگر کیسز کسی نتیجے  پر پہنچ جاتے تو یہ  والا واقعہ نہ ہوتا، اگلے اجلاس میں آپ کسی  نتیجے پر پہنچ جایئے گا اور پھرکمیٹی کو بتائیں، رکن کمیٹی ناز بلوچ نے کہاکہ کوئی پیشرفت نہیں ہوئی سیف سٹی کے کیمرے کام نہیں کررہے ہیں پولیس سے توقع اور امید اب ختم ہوجانی چاہیئے،پولیس کی وردی کو دیکھ کر لوگوں کو احساس تحفظ ہوتا ہے لیکن ہم نے جو مایوسی پہلے دن  پولیس کے چہروں پر دیکھی اب بھی وہی ہے،پولیس سے احساس تحفظ ہم کھو چکے ہیں، ایک 22 سال کے نوجوان کو پولیس والوں نے گولیاں مار دیں، آج اگرآپ اتنے مایوس دکھائی دیں گے تو یہ مثبت بات نہیں ہے، اجلاس میں پی ٹی وی  پر پاکستان کا نامکمل نقشہ دکھائے جانے کا معاملہ بھی زیر غور آیا، پی ٹی وی کے چیئرمین  نعیم بخاری بھی کمیٹی اجلاس میں شریک ہوئے،ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ دو انکوائریاں ہوچکی ہیں،جن کو ہٹانے کا کہا گیا تھا ا ن کو  ہٹایا جا چکا ہے  چیئرمین پی ٹی وی نعیم بخاری نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایم ڈی پی ٹی وی کو معطل کیا گیاہے اس کے خلاف کئی الزامات ہیں،21لاکھ ساٹھ ہزار اس کی تنخواہ تھی،ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ کسی اینکر کو نہیں ملیں گے،  میں چھ ماہ کے لیئے آیا ہوں،میں اعزازی چیئرمین ہوں، تنخواہ نہیں لیتا۔

قائمہ کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -