براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ 2000میں صدر مملکت کی منظوری سے ہوا، نیب

      براڈشیٹ کے ساتھ معاہدہ 2000میں صدر مملکت کی منظوری سے ہوا، نیب

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ دیسک، نیوز ایجنسیاں)قومی احتساب بیورو (نیب) نے کہا ہے کہ نیب کی موجودہ انتظامیہ کا میسرز براڈشیٹ کے ساتھ معاہدے اور  ثالثی عدالت میں مقدمہ کے حوالے سے کوئی کردار نہیں۔نیب کی طرف سے جاری وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے ملزمان کے بیرون ملک اثاثوں کی تلاش کے لیے نیب کے توسط سے میسرز براڈشیٹ ایل سی سی کے ساتھ صدر مملکت کی منظوری سے 2000 میں معاہدہ کیا تھا۔براڈشیٹ کی مایوس کن کارکردگی پر 2003میں معاہدہ منسوخ کردیا گیا۔ میسرز براڈشیٹ 2006 اور  پھر 2012 میں حکومت پاکستان کے خلاف ثالثی عدالت گئی۔نیب کے مطابق اٹارنی جنرل پاکستان نے برطانوی قانونی فرم کے ذریعے مذکورہ ثالثی مقدمہ میں چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف آربیٹریٹر لندن میں پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔نیب کے مطابق اٹارنی جنرل نے وزارت قانون اور وزیر اعظم کی منظوری سے غیر ملکی قانونی ٹیم کی خدمات حاصل کیں۔نیب کا کہنا ہے کہ میسرز براڈشیٹ سے 2000 میں معاہدہ کیا گیا۔ چارٹرڈ انسٹی ٹیوٹ آف آربیٹریٹر لندن نے یکم اگست 2016 میں پاکستان کے خلاف واجب الادا رقم کی ادائیگی کا فیصلہ کیا۔2018 میں 550 ملین ڈالر کے دعوے کی مد میں 2 کروڑ 72لاکھ26ہزار 590ڈالر کی رقم واجب الادا بنی بعد میں اسے ہائیکورٹ آ ف جسٹس لندن میں چیلنج کیا گیا تاہم کوئی ریلیف نہیں ملا۔نیب کے مطابق ثالثی عدالت میں اس مقدمے کے دفاع اور بعد ازاں کی پیشرفت سے متعلق وزارت قانون وانصاف اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کو مکمل آگاہ رکھا گیا۔ نیب کی موجودہ انتظامیہ کا میسرز براڈشیٹ ایل ایل سی کے ساتھ معاہدے اور ثالثی عدالت میں مقدمہ شروع کر نے سے کوئی تعلق نہیں۔

نیب وضاحت

مزید :

صفحہ آخر -