ڈرگز مافیا، عطائیوں کیخلاف آپریشن ناکام، صوبائی دارالحکومت سمیت صوبہ بھر میں جعلی ادویات کا دھندہ عروج پر 

ڈرگز مافیا، عطائیوں کیخلاف آپریشن ناکام، صوبائی دارالحکومت سمیت صوبہ بھر ...

  

 لاہور(جاوید اقبال) صوبائی دارالحکومت سمیت صوبہ بھر میں جعلی،غیر معیاری ادویات کی خرید و فروخت اور ادویہ سازی کا دھندہ پھر سے زور پکڑ گیا۔محکمہ صحت کی طرف سے عطائیت اور ڈرگ مافیاز کے خلاف پانچ ماہ قبل کیا گیا نیا تجربہ تقریباً ناکام ہو گیا ہے،شہر سمیت دیگر مقامات اور دیگر شہروں میں جعلی اور غیر معیاری ادویات نے ایک مرتبہ پھر سر اٹھا لیا ہے جس سے مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئی ہیں ایسے دھندے کا مرکز اس دفعہ گو جرانوالہ کے تمام ٹاؤنوں،لاہور میں راوی ٹاؤن،داتا گنج بخش ٹاؤن،نشتر تاؤن،اقبال ٹاؤن،واہگہ اور شالیمار ٹاؤن،گلبرگ ٹاؤن بھی اس دھندے کے مرکزی مقامات کے طور پر سامنے آئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق محکمہ صحت نے  26اگست 2020ء میں صوبے کو غیر معیاری اور جعلی ادویات اور عطائیت سے پاک کرنے کے لئے ایک نیا فارمولہ تشکیل دیا جس کے تحت دو سو سے زائد تجربہ کار،تربیت یافتہ ڈرگ انسپکٹر،ڈپٹی ڈرگ کنٹرولر اور ڈرگ کنٹرولر عہدے کے ہیلتھ پروفیشنل کو تتر بتر کر دیا اور ان کی جگہ ہسپتالوں کے فار ماسسٹوں کو لگایا گیا۔اس حوالے سے بعض اداروں نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو رپورٹ پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ تجربہ عملاً ناکام رہا ہے۔ہسپتالوں سے نکال کر ڈرگ لگائے گئے ڈرگ انسپکٹر وہ کارکردگی ظاہر کر سکے اور نا ہی وہ ٹاسک حاصل کر سکے جو انہیں دیئے گئے تھے۔لاہور سمیت شیخوپورہ،گوجرانوالہ،قصور،جہلم،راولپنڈی،ملتان،گجرات،سیالکوٹ میں نئے ڈرگ انسپکٹروں کی کارکردگی سابقہ ڈرگ انسپکٹروں کے مقابلے میں پچاس تا ساٹھ فیصد کم رہی ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ شہروں میں جعلی ادویات کی پروڈکشن دوبارہ شروع ہو گئی ہے اور مارکیٹ میں ان کی خریدو فروخت زور پکڑتی جا رہی ہے۔مشیر صحت حنیف پتافی نے کہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات ہوں گی ہر کام بہتری کے لئے کیا جاتا ہے اس کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے ہر شخص،ہر افسر اور ہر اہلکار قانون کے مطابق جواب دہ ہے کا رکردگی رپورٹ طلب کی جائے گی۔حکومت نے عوام کو سستی اور معیاری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنا نا ہے جس کے لئے دن رات کام کیا جا رہا ہے جہاں کمی و کوتاہی ہوئی دور کیا جائے گا۔

جعلی ادویات

مزید :

صفحہ آخر -