نشتر ہسپتال: متعدد سکیورٹی کیمرے غیر فعال‘ ملزموں کی نشاندہی بڑا مسئلہ

نشتر ہسپتال: متعدد سکیورٹی کیمرے غیر فعال‘ ملزموں کی نشاندہی بڑا مسئلہ

  

 ملتان (وقا ئع نگار) نشتر ہسپتال میں آدھے سے زائد سیکیورٹی کیمرے غیر فعال ہوگئے ہیں، ہسپتال کے حساس ترین وارڈز میں لڑائی جھگڑوں میں ملوث ملزمان کی نشاندہی مسئلہ بن گئی،ہسپتال کے ایم ایس ذاتی عناد پر ہسپتال کے ہی انتظامی افسران کے پیچھے پڑ گئے انتظامی امور میں دلچسپی نہ ہونے کے باعث ہسپتال سیکیورٹی رسک بن گیا۔ تفصیل کے مطابق نشتر (بقیہ نمبر42صفحہ5پر)

ہسپتال میں تین روز قبل کورونا آئی سو لیشن وارڈ میں مریضہ کی ہلاکت کے بعد لواحقین نے مشتعل ہو کر عملے کو زدو کوب کیا اور توڑ پھوڑ شروع کر دی تاہم حساس ترین وارڈ میں سیکیورٹی کیمرے نہ ہونے کے باعث وقوعے کے کافی دیر بعد سیکیورٹی ٹیمیں موقع پر پہنچی جبکہ اسی طرح بتایا جا رہا ہے کہ نشتر ہسپتال میں لگائے گئے 150 سے زائد سیکیورٹی کیمروں میں سے بیشتر غیر فعال ہیں جبکہ کئی حساس جگہوں پر کیمرے انسٹال ہی نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے ہسپتال اب سیکیورٹی رسک بن چکا ہے اس حوالے سے ساوتھ پنجاب میڈیکل فورم کے چئیر مین ڈاکٹر مظہر چوہدری،ڈاکٹر نصرت بزدار،ڈاکٹر علی وقاص،ڈاکٹر اشفاق صدیقی، ڈاکٹر زاہد سپرا،ڈاکٹر راشد اقبال،ڈاکٹر رانا اشرف ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن پنجاب کے چئیر مین ڈاکٹر خضر حیات صدر ڈاکٹر فاران اسلم  دیگر کا کہنا تھا کہ ایم ایس نشتر ہسپتال ذاتی عناد پر انتظامی افسران اور ڈاکٹروں کے خلاف کاروائیوں میں مصروف ہیں جبکہ ہسپتال کے اہم ترین معاملات پر کوئی توجہ نہیں دے رہے جبکہ پنجاب حکومت نے بھی سیکیورٹی بل لانے کے حوالے سے کوئی مثبت پیشرفت نہیں کی اگر سیکیورٹی بل نہ لایا گیا اور نشتر ہسپتال میں کیمرے انسٹال نہ کئے گئے تو بھرپور احتجاج ہو گا۔ 

بڑا مسئلہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -