غیر متوازن غذا سے ہر تیسرا بچہ موٹاپے کا شکار، ہلاکتوں میں اضافہ، لائف سٹائل کی تبدیلی ضروری، ماہرین

  غیر متوازن غذا سے ہر تیسرا بچہ موٹاپے کا شکار، ہلاکتوں میں اضافہ، لائف ...

  

 ملتان (سپیشل رپورٹر) حکومت کی جانب سے ملک بھر می  ں فوڈ نیوٹریشن و ہوم سائنسز کی اہمیت اجاگر نہ ہونے اور قانون سازی کے فقدان کے باعث ملک کی اکثریتی آبادی غیرمتحرک طرز زندگی اور موٹاپے کی وجہ سے کم عمری میں ہی زندگی کی خوبصورتیوں سے محروم ہوکر تیزی سے موت کے منہ میں جانے لگی، ایک طرف غیر متوازن غذاؤں سے موٹاپے اور دوسری جانب خوراک کی قلت کے باعث ہلاکتوں نے پاکستان(بقیہ نمبر11صفحہ5پر)

 سمیت ترقی پذیر ممالک کیلئے خطرے کا الارم بجا دیا۔اس ضمن میں زرعی سائنسندانوں اور فوڈ نیوٹریشن و ہوم سائنسز کے ماہرین کی جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان سمیت دنیا کی 1.4ارب سے زائد آبادی غیرمتحرک طرز زندگی اور موٹاپے کی وجہ سے کم عمری میں ہی زندگی کی خوبصورتیوں سے محروم ہوکر تیزی سے موت کے منہ میں چلی جا رہی ہے۔ غیرموزوں صحت ہرگزایک میڈیکل مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشرتی چیلنج ہے جسے بہتراور صحت افزاء خوراک کی فراہمی اورلائف سٹائل میں تبدیلی سے حل کیا جا سکتا ہے۔ماہرین کے مطابق زیادہ اوردیرسے ہضم ہونیوالی خوراک کے استعمال کی وجہ سے ہر تیسرا بچہ موٹاپے کا شکار ہورہا ہے جس کی وجہ سے وہ پوری صلاحیت کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے سے قاصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں غذائی قلت کا شکار85کروڑافراد میں سے 82کروڑ کا تعلق ترقی پذیر اورپسماندہ ممالک سے ہے۔ اس ضمن میں ماہرین کا کہنا ہے کہ نیوٹریشن و پبلک ہیلتھ سے متعلقہ ماہرین کو حکومتی سطح پر قابل عمل سفارشات کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کی سطح پر لوگوں کومتوازن خوراک کے استعمال کی طرف لانا ہوگا۔تاکہ مستقبل میں پیش آنے والے اس اہم مسئلہ سے نمٹا جاسکے۔ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کی حکومتوں کو اس اہم مسئلہ سے نمٹنے کیلئے فوری طور پر شعوری آگاہی کے ساتھ ساتھ قانون سازی کرنا ہوگی تاکہ آنے والی نسلوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔

شرح زیادہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -