کوٹ ادو: ٹرینیں بند‘ ریلوے پھاٹک پر مافیا قابض‘ بزنس شروع

  کوٹ ادو: ٹرینیں بند‘ ریلوے پھاٹک پر مافیا قابض‘ بزنس شروع

  

کوٹ ادو(تحصیل رپورٹر)کوٹ ادو جنکشن سے ٹرینوں کی بندش کے باعث ریلوے پولیس کی ملی بھگت سے ریلوے اسٹیشن ماسٹر نے جنوبی ریلوے پھاٹک پر تجاوزات کی بھر مار کرادی،لنڈا بازار،کار سٹینڈ،رکشہ سٹینڈ سمیت پھل رہڑھیوں والوں نے ریلوے پھاٹک پر قبضہ کرلیا،مقبوضہ اراضی پربجری سیمنٹ اینٹوں کا وسیع پیمانے پر کاروبارہونے لگا، تفصیل کے مطابق کوٹ ادو جنکشن پر ٹرینوں کی بندش کے بعد ریلوے پولیس اور اسٹیشن ماسٹر کی ملی بھگت سے ریلوے ٹریک کی بیش قیمتی اراضی پر تجاوزات کا سلسلہ جاری ہے،چند ماہ قبل تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا گیا(بقیہ نمبر23صفحہ5پر)

 تھا  اور محکمہ کی جانب سے تجا وزات مافیا کا ڈیٹا تو اکٹھا کر لیا گیا تھا لیکن تا حال اس ما فیا کے خلاف کار روائیاں عمل میں نہیں لا ئی گئی جس پر ابھی تک ہزاروں ایکڑ اراضی پر مافیا قابض ہے جس کے سامنے محکمہ بے بس ہے یا پھراس مافیا کے خلاف جان بوجھ کر کا رروائی کرنے سے گریزاں ہے، تاہم کارروائی بند ہوتے ہی لینڈ مافیا پھر سرگرم ہوگیا ہے اورکوٹ ادو ریلوے اسٹیشن سے ریلوے کراسنگ تک ناجائز تجاوزات قائم کردی گئی ہیں، جس کی وجہ سے محکمہ کو سالانہ کروڑوں روپے نقصان کا سامنا ہے،محکمہ ریلوے کی اراضی پر قبضے جمانے والے بااثر قبضہ مافیا نے ریلوے اسٹیشن کے عملہ اور ریلوے پولیس کی ملی بھگت سے جنوبی ریلوے پھاٹک کے دونوں اطراف  لنڈا بازار،رکشہ اسٹینڈ اور پھل رہڑھیوں والوں نے قبضہ جمالیا ہے جبکہ کوٹ ادو ریلوے اسٹیشن سے لے کر شمالی وجنوبی ریلوے کراسنگ تک تجاوزات قائم کی ہوئی ہیں جہاں بجری سیمنٹ اینٹوں کا وسیع پیمانے پر کاروبار کیا جارہا ہے اور اس مافیا نے ریلوے کی اراضی پر تعمیرات بھی کی ہوئی ہیں،جبکہ ریلوے کراسنگ کے ارد گرد رکشہ اسٹینڈ،کار اسٹینڈ کے علاوہ خوانچہ فروشوں نے قبضہ جما رکھا ہے، دوسری طرف شمالی ریلوے کراسنگ سے گڑھی قریش تک ٹریک پر پچھلے کئی برسوں سے ریلوے لائن کے سامنے رہنے والے مکینوں کے بھی قبضے کئے ہوئے ہیں جبکہ کئی پرائیویٹ سکولوں کے مالکان نے ریلوے کی اراضی پرگراسی پلاٹ بنا کر وہاں ڈیرے جما لئے ہیں،شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان،وزیر اعظم عمران خان،وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے اراضی واگزار کرانے اورجنوبی ریلوے پھاٹک پر ناجائز تجاوزات ختم کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

بزنس شروع

مزید :

ملتان صفحہ آخر -