چینی کااستعمال بھی تمباکونوشی کی طرح ہی خطرناک ہے،ثناء اللہ گھمن 

چینی کااستعمال بھی تمباکونوشی کی طرح ہی خطرناک ہے،ثناء اللہ گھمن 

  

 اسلام آباد(آئی این پی) پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن نے کہاکہ کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہے،متوازن خوراک کے استعمال سے انسانی جسم توانارہتاہے،چینی کاایک بڑاذریعہ شوگری ڈرنکس ہیں،جوفیشن کی طرح ہرمحفل کاحصہ بن چکی ہیں،اس کاباقاعدگی سے استعمال دل، ذیابیطس،موٹاپا،ذہنی خرابی اورکینسر سمیت متعدد امراض کی ایک بڑی وجہ بن چکاہے،ہیلتھ لیوی کانفاذعوام کی صحت کیلئے نہایت ضروری ہے،جس سے ریونیوکیساتھ ایک صحت مندنوجوان نسل پروان چڑھے گی۔شوگری ڈرنکس اورچینی کے نقصانات پریوکے میگزین Mirror(مرر)میں شائع ہونے والی رپورٹ پراپنااظہارخیال کرتے ہوئے پناہ کے جنرل سیکریٹری ثناء اللہ گھمن کاکہناتھاکہ پناہ عوام کودل کے امراض سے بچانے کیلئے گزشتہ چھتیس سال سے برسرپیکارہے، دل کے امراض میں اضافہ تشویش ناک ہے،گلوبل ہیلتھ ایڈووکیسی انکیوبیٹر کی ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر کورٹنی پیٹرزکے مطابق روزانہ کی بنیاد پرشوگری ڈرنکس کے استعمال سے بڑوں کے وزن میں 27 فیصد اور بچوں میں 55 فیصد امکان بڑھ جاتا ہے،جس پرمررمیگزین نے شوگری ڈرنکس پر" مضرصحت"کاانتباہی لیبل چشپاں کیے جانے کی تجویزبھی پیش کی ہے۔یوکے میگزین Mirror(مرر)کے مصنف پروفیسر کیپ ویل سمیت دیگرطبی ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی کااستعمال بھی تمباکونوشی کی طرح ہی خطرناک ہے،جو لوگوں میں دل کی بیماری میں اضافے کا باعث ہے،جس کی روک تھام کیلئے حکمت عملی اختیارکرناہوگی۔

ثناء اللہ گھمن

مزید :

صفحہ آخر -