’2035ءمیں بھی لاک ڈاﺅن کے خاتمے کا انتظار ہوگا‘ برطانیہ میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈاﺅن کے بعد انٹرنیٹ پر لطیفوں کا طوفان آگیا، پوسٹس دیکھ کر آپ کی بھی ہنسی نہ رُکے

’2035ءمیں بھی لاک ڈاﺅن کے خاتمے کا انتظار ہوگا‘ برطانیہ میں ایک مرتبہ پھر لاک ...
’2035ءمیں بھی لاک ڈاﺅن کے خاتمے کا انتظار ہوگا‘ برطانیہ میں ایک مرتبہ پھر لاک ڈاﺅن کے بعد انٹرنیٹ پر لطیفوں کا طوفان آگیا، پوسٹس دیکھ کر آپ کی بھی ہنسی نہ رُکے

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے گزشتہ رات قوم سے خطاب میں تیسرے لاک ڈاﺅن کا اعلان کیا تو برطانوی شہری تلملا اٹھے اور سوشل میڈیا پر ایک ایسی مہم شروع کر دی کہ دیکھ کر ہنسی روکنا مشکل ہو جائے۔ میل آن لائن کے مطابق اپنی پوسٹس میں برطانوی شہری تیسری بار لاک ڈاﺅن کے فیصلے کا تمسخراڑاتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جب لاک ڈاﺅن کا سلسلہ ختم ہو گا اور بالآخر وہ آزاد ہوں گے تواس وقت وہ کیسے دکھائی دیتے ہوں گے۔ ایک آدمی نے وزیراعظم جانسن ہی کی تصویر پوسٹ کر دی جس میں انہیں انتہائی عمر رسیدہ دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر کے ساتھ 2035ءلکھا ہوتا ہے اور نیچے وزیراعظم جانسن کا ایک بیان تحریرہوتا ہے کہ ’صرف چند مہینے اور، پھر ہم اسے شکست دے ڈالیں گے۔‘

ڈین جیمز نامی ٹوئٹر صارف نے اپنی ایک ٹویٹ میں چند عمررسیدہ مردوخواتین کی تصویر پوسٹ کی ہے جس میں وہ ایک کلاس روم میں بیٹھے ہوتے ہیں۔ تصویر کے ساتھ ڈین نے لکھا کہ ”لاک ڈاﺅن کے بعد سکول میں پہلا دن۔“ گویا ڈین جیمز کے مطابق لاک ڈاﺅن کا اب خاتمہ اس وقت ہو گا جب سکولوں کے بچے بوڑھے ہو جائیں گے۔

ریک ملر نامی ٹوئٹر صارف نے جوئی ایگزاٹک نامی امریکی شہری کی تصویر پوسٹ کی ہے اور لکھا ہے کہ ”ہمارا لاک ڈاﺅن ختم ہونے سے پہلے جوئی ایگزاٹک جیل سے باہر آ جائے گا۔“ 

واضح رہے کہ جوئی ایگزاٹک ایک چڑیا گھر کا مالک تھا جس پر جانوروں کا استحصال کرنے سمیت کئی الزامات کے تحت مقدمہ قائم کیا گیا اور اس وقت وہ جیل میں 22سال قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق تیسرے لاک ڈاﺅن کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم جانسن کا کہنا تھا کہ ”ہمارے ہسپتالوں پر دباﺅ مزید بڑھ رہا ہے اور ممکنہ سنگین صورتحال سے بچنے کے لیے ہمارے پاس نئی پابندیاں لاگو کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اس بار لاک ڈاﺅن 12ہفتے یا اس سے کچھ زائد وقت تک ہو گا۔ اس دوران لوگوں کو ویکسین دی جائے گی، چنانچہ اس بار امید کی کرن نظر آ رہی ہے کہ شاید یہ آخری لاک ڈاﺅن ہو گا۔“

مزید :

تعلیم و صحت -