فضائل و برکات شب برات

فضائل و برکات شب برات
فضائل و برکات شب برات

  

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: قسم ہے روشن کتاب کی، جسے ہم نے برکت والی رات میں اُتارا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ روز قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے، اللہ اس کا فیصلہ فرما چکا ہے، قسم ہے کتاب مبین کی، یعنی قرآن مجید کی ہم نے یہ قرآن برکت والی رات میں اُتارا، یعنی نصف شعبان کی رات میں۔ عکرمہ ؓ کے علاوہ اکثر مفسرین کا یہی قول ہے کہ لیلتہ المبارکہ سے شب قدر مراد ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بہت سی چیزوں کو مبارک فرمایا ہے۔ قرآن کو بھی مبارک کہاگیا ہے فرمایا گیا! یہ قرآن مبارک ذکر ہے، جس کو ہم نے نازل کیا قرآن کی برکتیں طرح طرح کی ہیں۔ مثلاً جس نے اس کو پڑھا اور اس کو مانا اس نے نار جہنم نے نجات پائی۔ یہ برکت اس سے بڑھ کر اس کے آباﺅاجداد او اولاد تک پہنچتی ہے۔ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا، جس نے قرآن پاک کی تلاوت اوراق دیکھ کر کی اللہ تعالیٰ اس کے ماں باپ سے عذاب ہلکا کر دیتا ہے۔ خواہ وہ کافی ہی کیوں نہ ہوں۔

اسی طرح پانی کو بھی برکت والی چیزوں میں فرمایا ہے! کہ ہم نے اوپر سے برکت والا پانی نازل کیا یہ پانی ہی کی برکت ہے کہ چیزیں اس سے زندہ ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے! ہم نے سب چیزوں کو پانی سے زندہ کیا۔ پھر بھی تم ایمان نہیں لاتے، کہا گیا ہے کہ پانی میں دس خوبیاں ہیں، یعنی وقت، پتلا پن، نرمی، طاقت، پاکیزگی، صفائی،حرکت، تری، خنکی، تواضع، زندگی یہ سب خوبیاں اللہ تعالیٰ نے دنش مند مومن کو بھی عطاءفرمائی ہیں۔ دل میں نرمی بھی ہے اور رقت بھی، اطاعت و بندگی کی طاقت بھی ہے اور لطافت نفس بھی ہے اور بھلائی کی طرف حرکت بھی ہے، آنکھوں میں تری، گناہوں سے افسردگی، مخلوق سے تواضع بھی ہے اور حق بات سننے سے زندگی بھی!

پانی کی طرح اللہ تعالیٰ نے زیتون کو بھی مبارک فرمایا ہے:ارشاد ربانی ہے! برکت والے زیتون کے درخت سے یہی وہ پہلا درخت ہے، جس کا پل حضرت آدم علیہ السلام میں اُتارے جانے کے بعد سب سے پہلے کھایا اس میں غذا بھی ہے اور روشنی بخشنے والا تیل بھی،اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں ارشاد فرمایا:یہ درخت کھانے کا کام دیتا ہے، کھانے والوں کے لئے ساکن ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ شجرہ مبارکہ سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس نے مراد قرآن کریم ہے، یا ایمان ہے یا مومن کا وہ نفس ِ مُطمنہ ہے ، جو نیکی کا حکم کرنے والا ہے اور ممنوعات سے بچنے والا اور قضا و قدر کو قبول کرنے والا ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو کچھ لکھا اور حکم فرمایا وہ اس کی موافقت کرنے والا ہے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی اللہ تعالیٰ نے مبارک نام رکھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول نقول فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے! اور مجھے برکت والا بنایا گیا، جہاں کہیں بھی مَیں ہوں یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی کی برکت تھی کہ حضرت کی وا لدہ مریم علیہا السلام کے لئے اللہ تعالیٰ نے کھجور کے خشک درخت میں پھل پیدا کر دیئے تھے اور نیچے چشمہ رواں فرما دیا تھا۔ مادر زاد نابینا اور کوڑھیوں کو تندرست کر دینا، دُعا سے مُردوں کو زندہ کر دینا اور دوسرے معجزات بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی برکتوں میں سے ہیں، کعبہ شریف کو بھی مبارک فرمایا گیا ہے۔ یہ کعبہ ہی کی برکت ہے کہ جو کوئی اس میں داخل ہوا اس پر گناہوں کا کتنا ہی بوجھ کیوں نہ ہو، جب وہ اس گھر سے باہر آتا ہے اس کے تمام گناہ معاف کر دیئے گئے ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے! یعنی جو مومن گناہوں سے توبہ کرنے کے بعد کعبہ میں داخل ہوتا ہے، اللہ اس کو عذاب سے مامون و محفوظ کر دیتا ہے۔ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے اور اس کی بخشش دی جاتی ہے، بعض علماءنے مذکورہ آیت میں مامون ہوئے سے مراد یہ لیا ہے کہ حرم کے اندر کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی جا سکتی، تاوقتیکہ وہ با ہر نکل کر نہ آ جائے، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ حرمت کعبہ کا لحاظ و پاس کرتے ہوئے حرم کے جانوروں کا شکار کرنا وہاں کے درخت کاٹنا حرام قرار دیا گیا ہے۔ یہ خانہ کعبہ کی حرمت کی وجہ سے ہے اور مسجد حرام کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت کے باعث ہے، مکہ مکرمہ کی حرمت مسجد حرام کی حرمت کے باعث ہے، حرم کی حرمت مکہ مکرمہ کی بنا پر ہے جیسا کہ منقول ہے کہ کعبہ مسجد حرم والوں کا قبلہ ہے اور مسجد حرام اہل مکہ کا قبلہ ہے اور حرم تمام اہل زمین کا قبلہ ہے، اس کا نام مکہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ وہاں قوموں کا ہجوم و اژدہام ہوتا ہے اور آدمی اس ہجوم میں ایک دوسرے پر روندے جاتے ہیں۔ بکہّ اور مکہ ّ ایک ہی لفظ ہیں۔

اسی طرح شب برا¿ت بھی برکت والی چیزوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی مبارک فرمایا ہے، کیونکہ اہل زمین کے لئے اس رات میں رحمت، برکت، خیر، گناہوں سے معافی اور نزولِ مغفرت ہے، اس کے ثبوت میں دوسری روایات کے منجملہ ایک روایت وہ بھی ہے جو ابو نصر ؒ نے اپنے والد سے نقل کی ہے کہ جو انہوں نے بالا سناد حضرت علی ؓ سے بیان کی کہ آپ نے فرمایا کہ حضور اقدس نے اریاد فرمایا کہ! نصف شعبان کی رات میں اللہ تعالیٰ قریب ترین آسمان کی طرف نزول فرماتا ہے اور مشرک، دل میں کینہ رکھنے والے اور رشتہ داریوں کی منقطع کرنے والے اور بدکار عورت کے سوا تمام لوگوں کو بخش دیتا ہے۔

شیخ ابو نصر ؒ نے اپنے والد سے بالا سناد بیان کیا کہ اُم المومنین حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ! نصف شعبان کی رات میں رسول اللہﷺ خاموشی کے ساتھ باہر نکل گئے۔ مَیں نے اُٹھ کر آپ کو حجرے میں تلاش کیا، تو میرے ہاتھ حضور اکرمﷺ کے پاﺅں سے چھو گئے، آپ اس وقت سجدے میں تھے اور آپ دُعا فرما رہے تھے۔ صبح تک حضور اکرمﷺ مصروف عبادت رہے، کبھی آپ کھڑے ہو جاتے اور کبھی بیٹھ جاتے یہاں تک کہ آپ کے پاﺅں مبارک سوجھ گئے، تو مَیں نے عرض کیا۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان، کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلوں کے گناہ بھی معاف نہیں کر دیئے تو حضور اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: کہ اے عائشہ ؓ مَیں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ تمہیں معلوم ہے کہ یہ رات کیسی ہے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: اس رات میں سال بھر میں پیدا ہونے والے ہر بچے کا نام لکھا جاتا ہے اور ہر مرنے والے کا نام بھی لکھا جاتا ہے، اسی رات مخلوق کا رزق تقسیم ہوتا ہے،اسی رات اعمال و فعال اُٹھائے جاتے ہیں۔ مَیں نے غرض کیا یا رسول اللہﷺ کیا کوئی شخص اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل ہو گا۔ آپ نے فرمایا کہ کوئی شخص بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ کیا آپ بھی، توآپ نے فرمایا:ہاں، مَیں بھی، مگر اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لیا ہے۔ اس کے بعد حضور اکرمﷺ نے اپنا دست کرم اپنے چہرے اور سر مبارک پر پھیرا۔ ہمیں چاہئے کہ ہم دل سے اس مبارک رات کی قدر کر کے جو انعامات عطاءہونے ہیں اُن کو حاصل کرنے کی سعی کریں۔  ٭

مزید :

کالم -